مضمون کے اہم نکات
قربانی کے جانور ذبح کرنے کا طریقہ اور آداب
ابن جریج رحمہ اللہ نے سیدنا عطا رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے کہ نحر کرنے کی جگہ سینے کے اوپر کا حصہ ہی ہو سکتا ہے، اور ذبح کرنے کی جگہ حلق ہے۔ اللہ رب العزت نے گائے کو ذبح کرنے کا ذکر سورۃ البقرہ میں کیا ہے۔ سیدنا عطا رحمہ اللہ نے مزید فرمایا کہ ذبح کرنا گردن کی رگوں کو کاٹنا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حرام مغز کاٹنے سے منع فرمایا۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: صرف گردن کی ہڈی تک رگوں کو کاٹا جائے اور چھوڑ دیا جائے تاکہ جانور ٹھنڈا ہو جائے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ذبح حلق میں بھی کیا جا سکتا ہے اور سینہ کے اوپر کے حصہ میں بھی۔ سیدنا ابن عمر، ابن عباس اور انس رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اگر (چھری تیز ہونے کی وجہ سے) گردن کٹ جائے تو کوئی حرج نہیں۔
(صحیح بخاری: کتاب الاضاحی، باب النحر والذبح قبل از حدیث: 5510)
وضاحت:
ذبح: اللہ کے حلال کردہ جانوروں کا حلق اور رگیں کاٹنا ذبح کہلاتا ہے۔
نحر: سینے کے بالائی حصے (لبہ) میں چھرا / نیزہ گھونپنے کو کہتے ہیں۔
لبہ وہ گہری جگہ (Depression) ہے جو گردن کی جڑ اور سینے کے درمیان ہوتی ہے۔ اونٹ کو نحر کیا جاتا ہے اور دوسرے جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے۔
قربانی عید گاہ میں ذبح کرنا
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قربانی عید گاہ ہی میں ذبح کیا کرتے تھے۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
(صحیح بخاری: 5552،5551 سنن ابوداؤد: 2811، سنن ابن ماجہ: 3161، سنن نسائی: 1590)
جانور ذبح کرنے کا اوزار
❀ فرمانِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
”جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو۔ ذبح کرنے والے کو چاہیے کہ اپنی چھری تیز کر لے اور اپنے جانور کو راحت پہنچائے۔ “
(صحیح مسلم: 1955، سنن ابوداؤد: 2814)
❀ چھری اگر نہ ملے تو تیز دھاری پتھر، لکڑی کے تیز چھلکے یا لاٹھی کے تیز پھٹے سے ذبح کیا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھرتی دکھا یا جلدی کر، جو چیز بھی جانور کا خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھاؤ لیکن دانت یا ناخن (ذبح کرنے کے لیے) استعمال نہ کیے گئے ہوں۔ “
(صحیح بخاری: 5498، صحیح مسلم: 1968، سنن ابوداؤد: 2821)
ذبح کرتے وقت جانور کی گردن پر پاؤں رکھنا
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چھترا / دنبہ ذبح کرتے وقت اپنا پاؤں جانور کی گردن پر رکھتے تاکہ ذبح کرتے وقت وہ ہل نہ سکے۔
(صحیح بخاری: 5565، سنن ابوداؤد: 2794، سنن ترمذی: 1494)
ذبح کرتے وقت جانور کا رخ قبلہ کی طرف کرنا
ذبح کرتے وقت قربانی کے جانور کا رخ قبلہ کی طرف کرنا چاہیے۔
(سنن ابوداؤد: 2795، سنن ابن ماجہ: 3121، مسند احمد: 3/375)
ذبح کرتے وقت تکبیر پڑھنا اور دعا کرنا
قربانی کے جانور کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ، تکبیر اور مسنون دعا پڑھنی چاہیے۔
بِسْمِ اللهِ، اَللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ (یہاں قربانی کرنے والے کا نام لیا جائے)
(صحیح مسلم: 1967، سنن ابوداؤد: 2792)
بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ
(صحیح بخاری: 5565، سنن ابوداؤد: 2794، سنن ترمذی: 1494)
إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اَللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ [یہاں قربانی کرنے والے کا نام لیا جائے] بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ
(سنن ابوداؤد: 2795، سنن ابن ماجہ: 3121، مسند احمد: 3/375)