دین کی نشر و اشاعت کرنے کی فضیلت
اللہ تعالیٰ نے اپنے احکامات، پیغامات لوگوں تک پہنچانے کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کو منتخب فرمایا جو لوگوں کو پیغام ربانی پہنچا کر راہ ضلالت سے ہٹا کر راہ صواب کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ چونکہ انبیاء کرام علیہم السلام کا سلسلہ امام الانبیاء، خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو گیا ہے۔ لہذا یہ ذمہ داری اب امت محمدیہ علی صاحبہا الصلاۃ والسلام کی ہے، اور اس ذمہ داری کے لیے حصول دین، تعلیمات اسلامیہ سے آگاہی لازمی اور ضروری ہے۔ لیکن اس کا اب یہ مطلب بھی نہیں کہ سب لوگ کام دھندہ چھوڑ کر اس طرف لگ جائیں۔ بلکہ کچھ لوگ حصول دین کے لیے خود کو وقف کریں پھر لوگوں کو آ کر احکامات دینیہ سے آگاہ کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ﴾
”مؤمنوں کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ سب کے سب ہی نکل کھڑے ہوں۔ پھر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہر فرقہ میں سے کچھ لوگ دین میں سمجھ پیدا کرنے کے لیے نکلتے تاکہ جب وہ ان کی طرف واپس جاتے تو اپنے لوگوں کو (برے انجام سے) ڈراتے۔ اسی طرح شاید وہ برے کاموں سے بچے رہتے۔“
(9-التوبة:122)
اللہ تعالیٰ نے نہ صرف دعوت دین کے لیے امت کی ذمہ داری لگائی، بلکہ اس سلسلے میں جان کھپا دینے اور حق ادا کر لینے پر ابھارا بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم کی آیات اس پر شاہد ہیں۔ ایسی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مخاطب تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا ہے اور انھیں دعوت دین کما حقہ پہنچانے کی ترغیب دی ہے۔ تو اس میں راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دراصل ان انبیاء کرام علیہم السلام کے مخاطبین کی تسلی کے لیے یہ ارشاد فرمایا کہ انھیں تسلی و تشفی ہو جائے کہ یہ نبی اپنی طرف سے نہیں بیان کر رہا، اور اس بیان میں کوئی بات چھپا بھی نہیں رہا، بلکہ سب منزل من اللہ باتیں ہمیں پہنچا رہا ہے۔ دوسرا نکتہ اس میں یہ کہ بعد میں انبیاء کے ورثاء بھی اس سلسلے میں لا پرواہی کا شکار نہ ہوں، بلکہ اسے احسن انداز سے سر عام بیان کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴾
”اے رسول! آپ پر آپ کے رب کی جانب سے جو نازل کیا گیا ہے، اسے پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو گویا آپ نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا، اور اللہ لوگوں سے آپ کی حفاظت فرمائے گا، بے شک اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا ہے۔“
(5-المائدة:67)
اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا مقصد اسلام کی تبلیغ نشر و اشاعت اور ادیان باطلہ پر اسلام کا غالب کرنا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾
”وہ اللہ کی ذات جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے، تا کہ اسے دنیا کے تمام ادیان پر غالب کرے، اگر چہ مشرکین ایسا نہیں چاہتے۔“
(9-التوبة:33)
اور اسی بات کو دیگر مقامات پر بھی بیان فرمایا۔ مثلاً: سورۃ الفتح آیت: 28 اور سورۃ الصف آیت: 9۔
اور یہ کام گھر بیٹھ کر نہیں بلکہ میدان عمل میں اتر کر اللہ کی راہ میں تکالیف، مصائب، پریشانیوں کو برداشت کرتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے موقع دیا، اپنی زبان سے لوگوں کو دعوت دین دی، اور جہاں پر ضدی، ہٹ دھرم متعصب لوگوں سے سامنا ہو اور وہ اسلام کی نشر و اشاعت میں روڑے اٹکانے لگیں تو حکمت سے کام لیا جائے۔
اس طرح سے اسلام دیگر ادیان باطلہ پر غالب ہو جائے گا۔ اور جب بندہ اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے محنت و کوشش کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کی مدد کچھ اس انداز سے بھی نازل ہوتی ہے:
﴿إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ۖ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ ۗ وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾
اگر تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد نہیں کرو گے تو (کوئی فرق نہیں پڑتا) اللہ نے ان کی مدد اس وقت کی جب کافروں نے انھیں نکال دیا تھا، اور وہ دو میں سے ایک تھے۔ جب دونوں غار میں تھے، اور اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کیجیے، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے انہیں اپنی طرف سے تسکین دیا، اور ایسے لشکر کے ذریعے انھیں قوت پہنچائی جسے تم لوگوں نے نہیں دیکھا، اور کافروں کی بات نیچی دکھائی، اور اللہ کی بات اوپر ہوئی، اور اللہ زبردست، بڑی حکمتوں والا ہے۔
(9-التوبة:40)
کلمہ، بات اللہ تعالیٰ کی ہو اور نیچے ہو جائے مغلوب ہو جائے یہ ناممکن ہے۔ اسی بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بایں الفاظ ارشاد فرماتے ہیں:
الإسلام يعلو ولا يعلى عليه .
”اسلام غالب رہتا ہے، مغلوب نہیں ہو سکتا۔“
مسند الرویانی ، رقم: 783- سنن دار قطنی : 252/3 – صحيح البخاري تعليقا، قبل حديث رقم: 1354 – ارواء الغلیل : 106/5 ، رقم: 1268
دعوت دین پہنچانے والے لوگوں کی تحسین فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾
”اور اس آدمی سے زیادہ اچھی بات والا کون ہے جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا، اور عمل صالح کیا، اور کہا کہ میں بے شک مسلمانوں میں سے ہوں۔“
(41-فصلت:33)
ڈاکٹر لقمان سلفی حفظ اللہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:
کفار قریش کا کفر و عناد، قرآن کریم سے ان کا اعراض، اور دعوت اسلامیہ میں ان کی رخنہ اندازی بیان کیے جانے کے بعد، اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نصیحت کی جا رہی ہے کہ آپ قرآن کریم کی تلاوت کرتے وقت مشرکین کی شرانگیزیوں کی پرواہ نہ کیجیے، اور پوری پابندی کے ساتھ توحید کی دعوت لوگوں کو دیتے رہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس آدمی سے بہتر بات کس کی ہو سکتی ہے جو لوگوں کو صرف ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیتا ہے، اور جن اعمال صالحہ کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے، ان پر پہلے خود عمل کرتا ہے، اور پورے فخر و اعتزاز کے ساتھ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ یہ بات مسلمہ ہے کہ یہ صفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بدرجہ اتم پائی گئیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سب سے اچھی بات تھی، اور آپ سب سے اچھے داعی الی اللہ تھے، اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے مشورہ دیا کہ مشرکین کی باتوں کی پرواہ نہ کریں اور اپنے مشن کو آگے بڑھانے میں لگے رہیں۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ اس آیت کے مصداق سب سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام ہیں، پھر علماء، پھر مجاہدین، پھر اذان دینے والے، اور پھر توحید خالص اور قرآن و سنت کی دعوت دینے والے۔ (تیسیر الرحمن : 1343/2)
دین کی نشر و اشاعت تبلیغ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا:
فوالله لأن يهدي الله بك رجلا واحدا خير لك من حمر النعم .
”اللہ کی قسم! تیرے ذریعے سے کسی ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے دے، تو تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔“
صحيح البخاري، كتاب المغازی، باب غزوة خيبر، رقم : 4210 ـ صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابه، باب من فضائل علی بن بی طالب، رقم: 2406 .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”بلاشبہ مؤمن آدمی کو اس کے عمل اور نیکیوں سے اس کی موت کے بعد بھی جو فائدہ ملتا رہتا ہے اس میں یہ چیزیں شامل ہیں:
➊ ایسا علم جس کی اس نے تعلیم دی اور اسے نشر کیا۔
➋ نیک اولاد۔
➌ قرآن حکیم جس کا وہ وارث بنا۔
➍ یا جو اس نے مسجد تعمیر کی۔
➎ یا مسافر خانہ تعمیر کیا۔
➏ یا نہر جاری کی۔
➐ یا اپنی زندگی اور تندرستی میں اپنے مال سے صدقہ نکالا تو اُسے مرنے کے بعد ان کا اجر و ثواب ملتا رہے گا۔“
سنن ابن ماجه ، المقدمه، باب ثواب معلم الناس الخير، رقم : 242 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”حسن “ کہا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاث: صدقة جارية، أو علم ينتفع به، أو ولد صالح يدعو له .
”جب آدمی فوت ہو جاتا ہے تو اس کا ہر عمل اس سے منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے۔ ➊ صدقہ جاریہ ➋ اس کا پھیلایا ہوا علم جس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے ➌ اور وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔“
صحیح مسلم، كتاب الوصية، باب ما يلحق الانسان من الثواب بعد وفاته، رقم: 1631.