سنن نسائي
كتاب الفرع والعتيرة— کتاب: فرع و عتیرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : تَفْسِيرِ الْفَرَعِ باب: فرع کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4236
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ : نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ : إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً يَعْنِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " اذْبَحُوهَا فِي أَيِّ شَهْرٍ كَانَ , وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا " . قَالَ : إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَ : " فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکار کر کہا : ہم لوگ عتیرہ ذبح کرتے تھے ۔ یعنی زمانہ جاہلیت میں رجب کے مہینے میں ، تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” جس مہینہ میں چاہو اسے ذبح کرو ، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور لوگوں کو کھلاؤ “ ، اس نے کہا : ہم لوگ عہد جاہلیت میں فرع ذبح کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہر چرنے والے جانور میں فرع ہے یہاں تک کہ جب وہ مکمل ( جانور ) ہو جائے تو تم اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو ، یہی چیز بہتر ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4233 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عتیرہ کی تفسیر۔`
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بتایا گیا کہ ہم لوگ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: " اللہ کے لیے ذبح کرو چاہے کوئی سا مہینہ ہو، اور اللہ کے لیے نیک کام کرو اور لوگوں کو کھلاؤ۔" [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4233]
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بتایا گیا کہ ہم لوگ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: " اللہ کے لیے ذبح کرو چاہے کوئی سا مہینہ ہو، اور اللہ کے لیے نیک کام کرو اور لوگوں کو کھلاؤ۔" [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4233]
اردو حاشہ: مقصود یہ ہے کہ نیکی کے لیے کسی مہینے کی قید نہیں، کسی بھی وقت غریبوں کو کھلایا جا سکتا ہے۔ رجب کی قید مناسب نہیں۔ اپنی طرف سے کسی مہینے، دن یا وقت کو متعین کر لینا اور پھر اس کو واجب یا افضل خیال کرنا صحیح نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی نیکی کے لیے خاص اوقات وایام اور ماہ وسال مقرر کرنا کسی انسان کاحق ہے نہ اس کی ذمہ داری، بلکہ نیکی کے لیے وقت کی تعیین صرف اﷲ تعالیٰ کا حق ہے۔ اس میں تصرف کا اختیار کسی اور کو نہیں۔ مزید برآں یہ بھی ضروری ہے کہ نیکی کی کیفیت اور مقدار وہی معتبر ہوگی جو شریعت نے مقرر کر دی ہے۔ اس سے تجارز بدعات اور ایجادِ بندہ قرار پائیں گی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4233 سے ماخوذ ہے۔