تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
گو شان نزول میں نفل صدقے کا ذکر ہے مگر یہ حکم فرض زکوٰۃ اور نفل صدقے دونوں کو شامل ہے۔ سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقے میں { ”جُعُرُور“ } اور { ”لَون الحُبَيْق“ } (دو ردی قسم کی کھجوریں) وصول کرنے سے منع فرمایا۔“ [أبوداوٗد،الزکوٰۃ، باب ما لا یجوز من الثمرۃ …: ۱۶۰۷، و صححہ الألبانی]
➋ { ”لَسْتُمْ بِاٰخِذِيْهِ“ } میں { ”لَسْتُمْ“ } نفی کی تاکید {”بِاٰخِذِيْهِ“} کی باء کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”تم اسے کسی صورت لینے والے نہیں“ کیا گیا ہے۔
➌ { اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ …:} لفظ طیب جس طرح عمدہ مال کے معنی میں آتا ہے اسی طرح اس میں وہ مال بھی آ جاتا ہے جو حلال طریقے سے کمایا ہوا ہو، پس معنی یہ ہوں گے کہ اللہ کی راہ میں پاکیزہ اور حلال طریقے سے کمایا ہوا مال خرچ کرو، خبیث یعنی حرام مال سے صدقہ قبول نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہے، وہ قبول نہیں کرتا مگر پاک کو۔“ [مسلم، الزکٰوۃ، باب قبول الصدقۃ …: ۱۰۱۵، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
➍ { مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ:} انسانی کمائی کے بڑے ذرائع چار ہیں، زراعت، صنعت، تجارت اور ملازمت۔ کمائی جس طریقے سے بھی ہو اگر نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال گزر جائے تو چالیسواں حصہ یعنی اڑھائی فیصد زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ بعض لوگ کہتے ہیں مالِ تجارت میں زکوٰۃ نہیں، امام بخاری رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کر کے ان کا رد فرمایا ہے۔ [بخاری، الزکوٰۃ، باب صدقۃ الکسب والتجارۃ، قبل ح: ۱۴۴۵] البتہ زمین سے حاصل ہونے والی فصل کا عشر فصل اٹھاتے ہی ادا کرنا ہو گا، اگر نصاب کو پہنچ جائے، جو 600کلو گرام ہے۔ اس آیت میں «وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ» سے مراد فصل پر عشر یا نصف عشر ہے۔ اگر پانی زمین سے کھینچ کر لگایا جائے تو 5فیصد، اگر بارانی یا نہری ہو تو 10 فیصد۔ تفصیل کے لیے دیکھیے میرا رسالہ ”احکام زکوٰۃ و عشر۔“
➎ { غَنِيٌّ حَمِيْدٌ: } یعنی اللہ تعالیٰ کو تمھارے مال کی ضرورت نہیں، وہ تو سب سے زیادہ بے پروا اور ہر تعریف کے لائق ہے، یہ سب تمھارے ہی فائدے کے لیے حکم دیا جا رہا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جس کے پاس مال نہ ہو (وہ کیا کرے؟) آپ نے فرمایا: وہ اپنے ہاتھ سے محنت کرے، خود بھی فائدہ اٹھائے اور صدقہ بھی کرے۔ لوگوں نے کہا: اگر یہ بھی نہ ہو سکے آپ نے کہا: تو پھر اچھی بات پر عمل کرے اور بری بات سے پرہیز کرے، یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔ [بخاري، كتاب الزكوٰة، باب على كل مسلم صدقة]
2۔ حضرت سمرہ بن جندبؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان تمام اشیاء سے زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیتے تھے جنہیں ہم خرید و فروخت کے لیے تیار کرتے تھے۔ [ابو داؤد، دار قطني، بحواله منذري فى مختصر سنن ج، 2 ص 115] اس حدیث سے ایک تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہر فروختنی چیز پرزکوٰۃ ہے خواہ اس کا ذریعہ حصول تجارت ہو یا صنعت ہو اور دوسرے یہ کہ جو چیز فروختنی نہ ہو اس پرزکوٰۃ نہیں، مثلاً دکان کا فرنیچر اور باردانہ یا فیکٹری کی مشینری یا آلات کشا ورزی اور ہل چلانے والے بیل وغیرہ۔ یعنی ہر وہ چیز جو پیداوار کا ذریعہ بن رہی ہو اس پرزکوٰۃ نہیں اور اس اصل کی تائید ایک دوسری حدیث سے بھی ہو جاتی ہے جو یہ ہے: «ليس فى العوامل صدقه وفي الإبل» [ابو داؤد، كتاب الزكوٰة، باب فى زكوٰة السائمة]
4۔ حضرت عمرو بن حماس چمڑے کے ترکش اور تیر بنایا کرتے تھے۔ یعنی یہ ان کا پیشہ تھا۔ حضرت عمرؓ ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا ”ان کی زکوٰۃ ادا کرو۔“ ابو عمرو کہنے لگے۔ میرے پاس ان تیروں اور چمڑے کے ترکشوں کے سوا ہے کیا؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا انہی کا حساب لگاؤ اور ان کی زکوٰۃ ادا کرو۔ [احمد، ابن ابي شيبه عبد الرزاق، دار قطني بحواله الام للشافعي ج 2 ص 38 مطبعه المنيريه قاهره]
حضرت عمرؓ کے اس حکم سے بھی صنعتی پیداوار پر زکوٰۃ کا واجب ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔
5۔ اور حضرت عمرؓ کا عمل یہ تھا کہ وہ اپنے دور خلافت میں تاجروں کا مال اکٹھا کرتے۔ پھر ان اموال موجود اور غیر موجود سب کا حساب لگاتے پھر اس تمام مال پرزکوٰۃ وصول کیا کرتے تھے۔ [المحليٰ ج 6 ص 34 مطبعه المنيريه قاهره] اب مفسرین کی طرف آئیے وہ ﴿اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ﴾ کا مطلب یوں بیان کرتے ہیں۔ «زكوامن طيبات ماكسبتم بتصرفكم اما التجارة و اما الصناعة» یعنی جو کچھ تم نے اپنے تصرف یا محنت سے کمایا ہو اس سے زکوٰۃ ادا کرو۔ خواہ یہ تجارت کے ذریعہ کمایا ہو یا صنعت کے ذریعہ سے [تفسير طبري ج 2 ص 80 طبع 1372ه /1954ء تفسير ابن كثير ج 1ص 40 تفسير قرطبي ج 2 ص 320، طبع 1936ء، تفسير قاسمي ج 2 ص 683 طبع 1376 ه/ 1957ء] علاوہ ازیں عقلی طور پر بھی یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ایک غریب کسان تو اپنی پیداوار کا دسواں یا بیسواں حصہ زکوٰۃ ادا کرے اور وہ سیٹھ جو کسان سے بہت کم محنت کر کے کروڑوں روپے کما رہا ہے اس پرزکوٰۃ عائد ہی نہ ہو، یہ حد درجہ کی نا انصافی ہے۔
2۔ زکوٰۃ اسی مال سے لینا بہتر ہے جس کی زکوٰۃ ادا کرنا مقصود ہو۔ مثلاً کپڑے کی دکان ہے تو کپڑا ہی زکوٰۃ میں عامل کو لینا چاہیے یا اگر زکوٰۃ دینے والا چاہے تو کپڑے کی زکوٰۃ کپڑے سے ہی دے سکتا ہے۔ اسی طرح کتابوں کی زکوٰۃ کتابوں سے، بکریوں کی بکریوں سے اور یہ زکوٰۃ کا عام اصول ہے جس میں زکوٰۃ دہندہ کی سہولت کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ ہاں اگر زکوٰۃ دینے والا خود ہی نقدی کی صورت میں ادا کرنا چاہے تو ایسا کر سکتا ہے اور اس میں بھی زکوٰۃ دینے والے کی سہولت کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ مثلاً یہ ضروری نہیں کہ سونے یا چاندی کے زیور کی زکوٰۃ سونے، چاندی کی شکل میں ہی دی جائے۔ بلکہ اس کی موجودہ قیمت لگا کر چالیسواں حصہ زکوٰۃ ادا کی جا سکتی ہے۔
3۔ زکوٰۃ میں نہ عمدہ عمدہ مال لیا جائے اور نہ ناقص۔ بلکہ اوسط درجہ کا حساب رکھا جائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذؓ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو زکوٰۃ کی وصولی کے متعلق جو ہدایات دیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ایاک وکرائم اموال الناس [بخاري، كتاب الزكوٰة باب اخذ الصدقة من الاغنياء و ترد فى الفقراء حيث كانوا] یعنی لوگوں کے عمدہ عمدہ مال لینے سے پرہیز کرنا۔ مثلاً اگر کتابوں کی دکان سے زکوٰۃ وصول کرنا ہو تو یہ نہ کیا جائے کہ کسی بہترین مصنف کی کتب منتخب کر لی جائیں جن کی مارکیٹ میں مانگ زیادہ ہو، بلکہ زکوٰۃ میں ملا جلا یا درمیانی قسم کا مال لینا چاہیے۔ اسی طرح اگر زکوٰۃ ادا کرنے والا خودزکوٰۃ نکالنا چاہے تو یہ نہ کرے کہ جو مال فروخت نہ ہو رہا ہو اسے زکوٰۃ میں دے دے، بلکہ یا تو ہر طرح کا مال دے یا پھر صرف درمیانہ درجہ کا۔
4۔ مال کی تشخیص بحساب لاگت ہو گی، یعنی چیز کی قیمت خرید بمعہ خرچہ نقل و حمل وغیرہ قیمت فروخت پر نہ ہو گی۔
5۔ فرنیچر اور باردانہ وغیرہ زکوٰۃ کے مال میں محسوب نہ ہوں گے، جیسا کہ اوپر تفصیل گزر چکی ہے۔
6۔ زکوٰۃ سال بھر کا عرصہ گزرنے کے بعد نکالی جائے گی اور یہ سال قمری سال شمار کرنا ہو گا، شمسی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رجب میں عاملین کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا کرتے تھے، مگر یہ ضروری نہیں۔ آج کل لوگ اکثر رمضان میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ یہ اس لحاظ سے بہتر بھی ہے کہ رمضان میں ثواب زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم زکوٰۃ پوری یا اس کا کچھ حصہ سال پورا ہونے سے پہلے بھی دی جا سکتی ہے حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عباسؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تو آپ نے اس کی اجازت دے دی [ترمذي، ابواب الزكوٰة، باب فى تعجيل الزكوٰة]
7۔ تجارتی اموال پر شرح زکوٰۃ بچت کی زکوٰۃ والی شرح ہی ہے یعنی چالیسواں حصہ۔ کیونکہ تجارت میں لگایا ہوا سرمایہ سب بچت ہی ہوتا ہے۔
8۔ زکوٰۃ موجودہ مال پر عائد ہو گی۔ مثلاً زید نے دس ہزار سے کام شروع کیا۔ جو سال بعد بارہ ہزار کی مالیت کا ہو گیا تو زکوٰۃ دس ہزار پر نہیں بلکہ بارہ ہزار پر شمار ہو گی۔ اسی طرح اگر اسے نقصان ہو گیا یا گھر کے اخراجات زیادہ تھے، جو نفع سے پورے نہ ہو سکے اور مالیت صرف آٹھ ہزار رہ گئی تو زکوٰۃ آٹھ ہزار پر محسوب ہو گی۔
9۔ جو مال ادھار پر فروخت ہوا ہے تو وہ ادھار رقم بھی سرمایہ میں شمار ہو گی۔ الا یہ کہ وہ ایسا ادھار ہو جس کے ملنے کی توقع ہی نہ ہو۔ ایسا ادھار محسوب نہ ہو گا۔ ایسے ادھار کے متعلق حکم یہ ہے کہ جب بھی ایسا ادھار وصول ہو جائے تو اس کی صرف ایک بارزکوٰۃ ادا کر دے۔ تجارتی قرضوں کے علاوہ عام قرضوں کی بھی یہی صورت ہے۔
10۔ اگر دکاندار نے کسی سے رقم ادھار لے کر اپنے سرمایہ میں لگا رکھی ہے تو یا تو وہ زکوٰۃ ادا کرنے سے پہلے وہ ادھار واپس کر دے ورنہ وہ اس کے سرمایہ میں محسوب ہو گا۔
11۔ مال مستفاد کی آمیزش۔ مثلاً زید نے کاروبار دس ہزار سے شروع کیا۔ چند ماہ بعد اسے پانچ ہزار کی رقم کسی سے مل گئی اور وہ بھی اس نے کاروبار میں شامل کر دی۔ اب اگر وہ چاہے تو سال بعد اس بعد والی رقم کا حساب الگ رکھ سکتا ہے۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ ساتھ ہی ساتھ اس مال کی بھی زکوٰۃ نکال دی جائے، تاکہ آئندہ حساب کتاب کی پیچیدگیوں سے نجات حاصل ہو جائے۔ پھر اگر مال زکوٰۃ کچھ زیادہ بھی نکل گیا تو اللہ اس کا بہت بہتر اجر دینے والا ہے۔
12۔ بعض دکانیں ایسی ہوتی ہیں جن کا اچھا خاصا کاروبار ہوتا ہے۔ مگر دکان میں مال یا تو برائے نام ہوتا ہے یا ہوتا ہی نہیں۔ مثلاً سبزی فروش، پھل فروش، شیر فروش، قصاب، ہوٹل، اخباروں کے دفاتر یا پراپرٹی ڈیلروں کے دفاتر وغیرہ، ایسی دکانوں یا کاروباری اداروں میں موجود مال کے حد نصاب کو پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کے سالانہ منافع جات پر تجارتی زکوٰۃ عائد ہو گی اڑھائی فیصد کی شرح سے یا چالیسواں حصہ۔
13۔ گوالے یا گوجر حضرات کی دکان سرے سے ہوتی نہیں، بس ایک لکڑی کا تختہ یا تخت ہی ان کی دکان ہوتی ہے۔ یہ لوگ کافی تعداد میں گائے بھینسیں رکھتے ہیں۔ ان پر مویشی کی زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی کیونکہ وہ عامل پیداوار ہے۔ ان کے سالانہ منافع جات پر تجارتی زکوٰۃ عائد ہو گی یہی صورت ڈیری فارم، پولٹری اور مچھلی فارم وغیرہ کی بھی ہے۔
14۔ گائے بھینسیں اگر افزائش نسل کی خاطر رکھی جائیں تو ان پر گائے کی زکوٰۃ کی صورت میں زکوٰۃ لگے لگی، اور کوئی صاحب مویشیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہوں تو سالانہ منافع پر تجارتی زکوٰۃ ہو گی اور ڈیری فارم یا گوالوں کے پاس ہو تو یہ عامل پیداوار ہیں۔ ان کی زکوٰۃ بھی سالانہ منافع پر ہو گی۔
15۔ دکانوں اور مکانوں کے کرایہ یا کرایہ پر دی ہوئی ٹیکسیاں اور گاڑیاں وغیرہ ایسی چیزوں یعنی دکانوں، مکانوں یا ٹیکسیوں کی مالیت پر زکوٰۃ نہیں ہوتی بلکہ وصول شدہ کرائے کی کل رقم پر ہو گی اور سال بعد یہ حساب ہو گا۔ مثلاً ایک دکان کا کرایہ دو ہزار ہے تو سال بعد 24 ہزار پر زکوٰۃ ادا کرنا ہو گی۔ خواہ یہ رقم ساتھ ساتھ خرچ ہو جائے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اپنی کرایہ کی دکانوں کی زکوٰۃ ایسے ہی ادا کیا کرتے تھے۔ البتہ اس رقم سے پراپرٹی ٹیکس یا دوسرے سرکاری واجبات کی رقم مستثنی کی جا سکتی ہے۔
16۔
17۔ مشترکہ کاروبار یا سرمائے کی کمپنیوں میں لگے ہوئے سرمایہ کے متعلق یہ تسلی کر لینی چاہیے کہ آیا کمپنی اس مجموعی سرمایہ کی زکوٰۃ ادا کرتی ہے یا نہیں۔ اگر کمپنی نے زکوٰۃ ادا نہ کی ہو تو ہر حصہ دار کو اپنے اپنے حصہ کی زکوٰۃ خود ادا کر دینا چاہیے۔
1۔ زمین کی اپنی قیمت اس کی پیداوار کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے اور زکوٰۃ پیداوار پر لگتی ہے زمین کی قیمت پر نہیں۔ اسی طرح فیکٹریوں اور ملوں کی قیمت اس پیداوار کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے جو وہ پیدا کرتی ہیں۔ لہٰذا زکوٰۃ پیداوار پر ہونی چاہیے۔
2۔ جس طرح بعض زمینیں سال میں ایک فصل دیتی ہیں۔ بعض دو اور بعض اس سے زیادہ اسی طرح بعض کارخانے سال میں ایک دفعہ پیداوار دیتے ہیں۔ مثلاً برف اور برقی پنکھوں کے کارخانے وغیرہ بعض دو دفعہ جیسے اینٹوں کے بھٹے اور بعض سال بھر چلتے رہتے ہیں۔ اور ایک بات میں صنعتی پیداوار کی مماثلت تجارتی اموال سے ہے جس طرح تجارتی اموال پر لاگت کے مقابلہ میں منافع کم ہوتا ہے اسی طرح صنعتی اموال کا بھی حال ہے۔ جبکہ زرعی پیدوار میں لاگت کم اور پیداوار کی قیمت اس کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ان سب باتوں کو ملحوظ رکھ کر دیانتداری کے ساتھ جو اصل مستنبط ہو سکتی ہے وہ یہ ہے کہ صنعتی پیداوار پر زکوٰۃ پیداوار کے منافع پر ہونی چاہیے اور یہ پانچ فیصد یعنی نصف عشر ہونا چاہیے۔ خواہ یہ پیداوار سال میں ایک دفعہ ہو یا دو دفعہ کارخانے سارا سال کام کرتے ہیں ان پر زکوٰۃ تو سال بعد ہو گی مگر اس کی صورت وہی ہو گی یعنی زکوٰۃ پیداوار پر نہیں بلکہ منافع پر ہو گی اور یہ پانچ فیصد ہو گی۔ «والله اعلم بالصواب»
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس دو قول ہوئے۔ ایک تو رَدی چیزیں دوسرا حرام مال۔ اس آیت میں پہلا قول مراد لینا ہی اچھا معلوم ہوتا ہے، سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کھجوروں کے موسم میں انصار اپنی اپنی وسعت کے مطابق کھجوروں کے خوشے لا کر دوستوں کے درمیان ایک رسی کے ساتھ لٹکا دیتے، جسے اصحاب صفہ اور مسکین مہاجر بھوک کے وقت کھا لیتے، کسی نے جسے صدقہ کی رغبت کم تھی اس میں ردی کھجور کا ایک خوشہ لٹکا دیا، جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6138] کہ اگر تمہیں ایسی ہی چیزیں ہدیہ میں دی جائیں تو ہرگز نہ لو گے۔ ہاں اگر شرم و لحاظ سے بادل ناخواستہ لے لو تو اور بات ہے، اس کے نازل ہونے کے بعد ہم میں کا ہر شخص بہتر ہے بہتر چیز لاتا تھا۔ [سنن ترمذي:2987،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب تمہارا حق کسی پر ہو اور وہ تمہیں وہ چیز دے جو بے قدر و قیمت ہو تو تم اسے نہ لو گے مگر اس وقت جب تمہیں اپنے حق کی بربادی دکھائی دیتی ہو تو تم چشم پوشی کر کے اسی کو لو گے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم نے کسی کو اچھا مال دیا اور ادائیگی کے وقت وہ ناقص مال لے کر آیا تو تم ہرگز نہ لو گے اور اگر لو گے بھی تو اس کی قیمت گھٹا کر، تو تم جس چیز کو اپنے حق میں لینا پسند نہیں کرتے اسے اللہ کے حق کے عوض کیوں دیتے ہو؟ پس بہترین اور مرغوب مال اس کی راہ میں خرچ کرو اور یہی معنی ہیں «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ» [3۔ آل عمران: 92] کے بھی۔
پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا اور عمدہ چیز دینے کا۔ کہیں اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ وہ محتاج ہے، نہیں نہیں وہ تو بے نیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو، یہ حکم صرف اس لیے ہے کہ غرباء بھی دنیا کی نعمتوں سے محروم نہ رہیں گے، جیسے اور جگہ قربانی کے حکم کے بعد فرمایا «لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰي مِنْكُمْ» [22۔ الحج: 37] اللہ تعالیٰ نہ اس کا خون لے نہ گوشت، وہ تو تمہارے تقوے کی آزمائش کرتا ہے۔ وہ کشادہ فضل والا ہے، اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں، صدقہ اپنے چہیتے حلال مال سے نکال کر اللہ کے فضل اس کے بخشش اس کے کرم اور اس کی سخاوت پر نظریں رکھو، وہ اس کا بدلہ اس سے بہت بڑھ چڑھ کر تمہیں عطا فرمائے گا وہ مفلس نہیں وہ ظالم نہیں، وہ حمید ہے تمام اقوال افعال تقدیر شریعت سب میں اس کی تعریفیں ہی کی جاتی ہیں، اس کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں، وہی تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں، وہ ہی تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اس کے سوا کوئی کسی کی پرورش نہیں کرتا۔
مطلب آیت شریفہ کا یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے شیطان روکتا ہے اور دِل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ اس طرح ہم فقیر ہو جائیں گے، اس نیک کام سے روک کر پھر بے حیائیوں اور بدکاریوں کی رغبت دلاتا ہے، گناہوں پر نافرمانیوں پر حرام کاریوں پر اور مخالفت پر اکساتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے برخلاف حکم دیتا ہے کہ خرچ فی سبیل اللہ کے ہاتھ نہ روکو اور شیطان کی دھمکی کے خلاف وہ فرماتا ہے کہ اس صدمہ کے باعث میں تمہاری خطاؤں کو بھی معاف کر دوں گا اور وہ جو تمہیں فقیری سے ڈراتا ہے میں اس کے مقابلہ میں تمہیں اپنے فضل کا یقین دلاتا ہوں، مجھ سے بڑھ کر رحم و کرم، فضل و لطف کس کا زیادہ وسیع ہو گا؟ اور انجام کار کا علم بھی مجھ سے زیادہ اچھا کسے حاصل ہو سکتا ہے؟
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يحث الباري عباده على الإنفاق مما كسبوا في التجارات، ومما أخرج لهم من الأرض من الحبوب والثمار، وهذا يشمل زكاة النقدين والعروض كلها المعدة للبيع والشراء والخارج من الأرض من الحبوب والثمار. ويدخل في عمومها الفرض والنفل، وأمر تعالى أن يقصدوا الطيب منها ولا يقصدوا الخبيث وهو الرديء الدون يجعلونه لله، ولو بذله لهم من لهم حق عليه لم يرتضوه، ولم يقبلوه إلا على وجه المغاضاة والإغماض، فالواجب إخراج الوسط من هذه الأشياء والكمال إخراج العالي، والممنوع إخراج الرديء فإن هذا لا يجزي عن الواجب، ولا يحصل فيه الثواب التام في المندوب.
{واعلموا أن الله غني حميد}؛ فهو غني عن جميع المخلوقين، وهو الغني عن نفقات المنفقين وعن طاعات الطائعين، وإنما أمرهم بها وحثهم عليها لنفعهم ومحض فضله وكرمه عليهم، ومع كمال غناه وسعة عطاياه فهو الحميد فيما يشرعه لعباده من الأحكام الموصلة لهم إلى دار السلام، وحميد في أفعاله التي لا تخرج عن الفضل والعدل والحكمة، وحميد الأوصاف لأن أوصافه كلها محاسن وكمالات لا يبلغ العباد كنهها ولا يدركون وصفها. فلما حثهم على الإنفاق النافع نهاهم عن الإمساك الضار، وبين لهم أنهم بين داعيين: داعي الرحمن يدعوهم إلى الخير ويعدهم عليه الخير والفضل والثواب العاجل والآجل وإخلاف ما أنفقوا، وداعي الشيطان الذي يحثهم على الإمساك، ويخوفهم إن أنفقوا أن يفتقروا.
فمن كان مجيباً لداعي الرحمن، وأنفق مما رزقه الله فليُبْشِر بمغفرة الذنوب وحصول كل مطلوب، ومن كان مجيباً لداعي الشيطان فإنه إنما يدعو حزبه ليكونوا من أصحاب السعير، فليختر العبد أي الأمرين أليق به.
وختم الآية بأنه {واسع عليم}؛ أي واسع الصفات كثير الهبات عليم بمن يستحق المضاعفة من العاملين، وعليم بمن هو أهل فيوفقه لفعل الخيرات، وترك المنكرات.