غصے کو ضبط کرنے کی فضیلت
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ لِلَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ . وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ .﴾
”پس تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وہ زندگانی دنیا کا کچھ یونہی سا اسباب ہے، اور اللہ کے پاس جو ہے وہ اس سے کئی گنا بہتر اور پائیدار ہے، وہ ان کے لیے ہے جو ایمان لائے اور صرف اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اور کبیرہ گناہوں سے اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور غصے کے وقت بھی معاف کر دیتے ہیں۔“
(42-الشورى:36,37)
مزید فرمایا:
﴿وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ . وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ .الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ.﴾
”اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے، جو ان پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ جو خوشی اور غم ہر حال میں اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے، اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ ان نیک کاروں کو محبوب رکھتا ہے۔“
(3-آل عمران:132 تا 134)
ان آیات مقدسہ میں اللہ تعالیٰ نے ان نامور بندوں کا ذکر فرمایا ہے کہ جو جنتوں اور اللہ کی رضا مندی کے حقدار ٹھہریں گے۔ ان چنیدہ بندوں میں غصے کو ضبط کرنے والے بھی ہیں۔ چھوٹی فضول باتوں پر یا بات بات پر غصہ کرنا درست نہیں۔ ہاں! جہاں شریعت، دین وغیرہ کا معاملہ ہو، جہاں محرمات الہیہ کا ارتکاب کیا جاتا ہو، وہاں غصہ آنا ممدوح ہے۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ليس الشديد بالصرعة، إنما الشديد الذى يملك نفسه عند الغضب .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاقتور وہ نہیں ہے جو پچھاڑ دے، اصل طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔“
صحیح بخاری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، رقم: 6114 ـ صحيح مسلم، کتاب البر والصلة ، باب فضل من يملك نفسه عند الغضب ، رقم: 2609 .
عن معاذ بن أنس رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من كظم غيظا، وهو قادر على أن ينفذه، دعاه الله سبحانه وتعالى على رؤوس الخلائق يوم القيامة حتى يخيره من الحور العين ما شاء .
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غصے کو پی جائے، جب کہ وہ بدلہ لینے پر قادر ہو، اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اسے تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور اسے کہے گا کہ وہ جس حور عین کو چاہے، اپنے لیے پسند کر لے۔“
سنن ترمذی، کتاب صفة القيامة، رقم: 2493 ـ سنن ابو داؤد، كتاب الأدب، باب من كظم غيظا، رقم : 4777 – البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غصہ نہ کر تجھے جنت مل جائے گی۔“
الترغيب والترهيب، كتاب الادب، باب الترهيب من الغضب رقم 4050 ـ صحيح الجامع الصغير، رقم : 7374.