اصولِ حدیث اور حجیتِ سنت سے متعلق مودودی کے شبہات کا علمی رد

فونٹ سائز:
یہ اقتباس حکیم اجمل خان صاحب کی مرتب کردہ کتاب "جماعت اسلامی کو پہچانیے” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

حدیثِ نبوی پر شکوک اور شبہات

حضرت مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسری:

اخبار اہلِ حدیث مورخہ 14/ ستمبر 45ء سے مولانا مودودی سے خطاب شروع ہوا تھا۔ جو 30 نومبر 45ء تک جاری رہا۔ ناظرینِ اہلِ حدیث نے اس سلسلے کو پسند کر کے فرمائش کی کہ اس کو کتابی شکل میں متشکل کیا جائے چنانچہ اس مضمون کو رسالہ ہذا کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ مولانا مودودی کی نسبت ہمارا گمانِ غالب ہے کہ آپ سر سید احمد خاں یا مولوی عبد اللہ چکڑالوی کی طرح حدیثِ نبوی کے منکر نہیں ہیں۔ البتہ حدیث کے متعلق تحقیق کرتے ہوئے آپ محدثین کا مسلک اور طریقہ تنقید چھوڑ کر دوسرا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ چنانچہ اس کا ثبوت ناظرین ان اوراق میں ملاحظہ کریں گے۔
[صفر المظفر 1365ھ، جنوری 1946ء]

مسلمانوں کا اجتماعی عقیدہ و ابتداء سے یہی چلا آیا ہے کہ قرآنِ مجید کے ساتھ حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی حجتِ شرعی ہے۔ خلافتِ اولیٰ کا انعقاد حدیث "الائمۃ من القریش” ہی کی بنا پر ہوا تھا۔ خلافتِ منعقد ہونے کے بعد سے پہلے اہم مسئلہ وراثتِ بنی علیہ السلام کا پیش ہوا تھا جس میں مدعیہ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا تھیں اور خلافتِ راشدہ مدعاعلیہا کی، اس مسئلے کا فیصلہ بھی ایک حدیث ہی سے ہوا تھا جس کے الفاظ ہیں: "نحن معاشر الانبیاء لا نورث ما ترکنا صدقۃ” (بخاری:6730، اصولِ کلینی) اس کے بعد تیسرا اہم مسئلہ خلیفۃ المسلمین کے سامنے جیشِ اسامہ پیش آیا تھا یہ بھی حدیث ہی کے ماتحت فیصل ہوا تھا۔

اس کے بعد ہر زمانہ میں حدیث کی حجیت مسلم رہی۔ فرقِ اتنام رہا کہ کسی گروہ میں روایات غالب رہیں، کسی میں استنباط غالب رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امتِ مسلمہ میں دو گروہ پیدا ہو گئے۔ محدثین اور فقہاء رحمہم اللہ اس کے بعد بھی امتِ مسلمہ میں حدیث کی حجیت متوارث چلی آئی۔ یہاں تک کہ ہندوستان کے شہر علی گڑھ میں سر سید احمد خاں مرحوم پیدا ہوئے۔ انھوں نے حدیث کے متعلق انگاری آواز اٹھائی یعنی یہ کہا کہ بحیثیتِ حجتِ شرعی کے قرآنِ مجید کافی ہے۔ حدیث کی ضرورت نہیں۔ ساتھ ہی اس کے یہ بھی تسلیم کیا کہ روایت کی حیثیت سے صحیح بخاری سب سے اعلیٰ اور مستند ہے۔ اس کے بعد یہ آواز لاہور پہنچی۔ مولوی عبد اللہ چکڑالوی نے اس کو قبول کیا اور اس خیال کی اشاعت میں بہت کوشش کی۔ لاہور کے بعد یہ آواز امرتسر میں پہنچی۔ یہاں بھی چند آدمیوں کی ایک جماعت پیدا ہو گئی۔ جنھوں نے اپنا نام امتِ مسلمہ رکھا اور کفایتِ قرآن اپنا نصب العین قرار دیا۔ ان سب جماعتوں میں وجوہاتِ عدمِ حجیتِ حدیث میں بہت سا اختلاف ہے۔ ان اختلافوں کے متعلق آج ہمارا روئے سخن نہیں ہے کیونکہ اس کے متعلق ہمارے کئی ایک رسالے (اتباع الرسول، دلیل الفرقان، حدیثِ نبوی اور تقلیدِ شخصی، برہانِ الحدیث وغیرہ) شائع شدہ ہیں۔

❀ آخری دور میں مولانا مودودی صاحب نے قلم اٹھایا جو پہلی جماعتوں سے تخفیفِ حدیث میں بحیثیتِ استدلال کسی قدر زیادہ قوی ہیں۔ آپ نے بڑی سچائی سے کام لیتے ہوئے ایک موقع پر علمِ حدیث کو واجب العمل تسلیم کیا ہے۔ ملاحظہ ہو (تفہیمات: ص 316) مگر ساتھ ہی اس کے جب میدانِ تحقیق میں آئے تو حدیث کے متعلق آپ نے وہ شبہات ایسے پیدا کئے جن کو بحیالِ خود لاینحل سمجھ کر شائع کیا ہے میں نے ان شبہات کو ان کے خیال میں "لاینحل” اس لئے کہا ہے کہ انہوں نے ان شبہات کا جواب نہیں دیا۔ پہلا شبہ انہوں نے اسماء الرجال کی حیثیت سے کیا۔ آپ کے الفاظ اس بارے میں یہ ہیں۔
(مسلک اعتدال: ص314 و قرآن اور سنت رسول: ص388 وترجمان القرآن)

❀ محدثین رحمہم اللہ کی خدماتِ مسلمہ۔ یہ بھی مسلم کہ نقدِ حدیث کے لئے جو مواد انہوں نے فراہم کیا ہے وہ صدرِ اوّل کے اخبار و آثار کی تحقیق میں بہت کارآمد ہے۔ کلام اس میں نہیں بلکہ صرف اس امر میں ہے کہ کلیۃً ان پر اعتماد کرنا کہاں تک درست ہے وہ بہرحال تھے تو انسان ہی۔ انسانی علم کے لئے جو حدیں فطرۃً اللہ نے مقرر رکھی ہیں ان سے آگے تو وہ نہیں جاسکتے تھے۔ انسانی کاموں میں جو نقص فطری طور پر رہ جاتا ہے اس سے تو ان کے کام محفوظ نہ تھے۔ (تفہیمات: ص319)

مولانا مودودی صاحب نے اس اقتباس میں محدثین کی نسبت جو خیال ظاہر کیا ہے۔ اسی کو مولانا حالی مرحوم نے اپنی مسدس میں یوں ادا کیا ہے۔

گروہ ایک جو یا تھا علمِ نبی کا | لگایا پتہ جس نے ہر مفتری کا
نہ چھوڑا کوئی رخنہ کذبِ خفی کا | کیا قافیہ تنگ ہر مدّعی کا
کئے جرح و تعدیل وضعِ قانون | نہ چلنے دیا کوئی باطل کا افسوں

موصوف کے شبہہ کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی راوی کی نسبت یقین نہیں ہو سکتا کہ وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی محدث نے اس کو کہا ہے۔ کیونکہ کئی ایک راوی ایسے ہے کہ ان کو بعض محدثین نے ضعیف کہا ہے اور بعض نے ان کو ثقہ کہا ہے اسی طرح بعض نے ان راویوں کے حق میں اچھے الفاظ کہے اور بعضوں نے برے کہے۔ اس لئے کسی راوی کے متعلق کسی جانب یقین نہیں ہو سکتا کہ وہ ایسا ہی تھا جیسا کہ ہم اس کو سمجھتے ہیں۔
میں کہتا ہوں کہ آپ کو اس امر کے فیصلے کے لئے دُور جانے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ اس کے فیصلے کے لئے میرا اور آپ کا وجود ہی مثال کے لئے کافی ہے۔ ہم دونوں کو اچھا کہنے والے بھی ہیں اور برا کہنے والے بھی ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔
استاد غالب مرحوم نے کیا خوب کہا ہے۔

غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے! | ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے

تو کیا ایسی صورت میں ثالث یا خیر ہمارے حق میں فیصلہ کر کے صحیح رائے قائم کر سکتا ہے یا نہیں کہ ہم کون ہیں۔ ذرا اور اوپر چلئے۔ مولانا اسمٰعیل شہید رحمۃ اللہ اور حضرت شاہ ولی اللہ کی نسبت آراءِ علماء میں بکثرت اختلاف ہے۔ کیا ان آراء کو سامنے رکھ کر آج تک آپ نے کوئی فیصلہ کیا ہے یا نہیں، ذرا اور اوپر چلئے۔ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ رضی اللہ عنہما کے متعلق امت میں جو اختلاف ہے وہ بھی آپ سے مخفی نہیں کہ وہ افضل الامۃ تھے یا (خاک بدہن قائل) فرعون اور ہامان تھے۔

(حیات القلوب شیعہ) کیا اتنے بڑے اختلاف کا فیصلہ بھی آپ نے کبھی کیا ہے یا نہیں ضرور کیا ہو گا۔ اس فیصلے کی وجوہات کیا ہیں۔ انہیں وجوہات سے راویانِ حدیث کا فیصلہ بھی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ محدثین نے اس کے متعلق اصول مقرر کئے ہوئے ہیں۔ اسی لئے محدثین کی بابت مولانا حالی کا یہ کہنا صحیح ہے:

رجال اور اسانید کے جو ہیں دفتر! | گواہ ان کی آزادی کے ہیں یکسر
نہ تھا ان کا احساں فقط اہلِ دیں پر | وہ تھے اس میں ہر قوم و ملّت کے رہبر
لبرٹی میں جو آج فائق ہیں سب سے | یہ بتلائیں لبرل بنے ہیں وہ کب سے

[اہلحدیث: 14 ستمبر45ء]

❀ مولانا مودودی صاحب نے اس قسط کو بڑے فخر و مباہات سے لکھا ہے یہ سمجھ کر کے یہ طریقِ تنقیح گو یا ان کی قابلیت کا خاص طرۂ امتیاز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح سے حدیث کے فن پر سر سید احمد خاں مرحوم علی گڑھ نے بھی حملہ نہیں کیا تھا۔ میں موصوف کی اصلی عبارت نقل کر کے اپنے ناظرین کو عموماً اور ممدوح کے ان احباب کو خصوصاً توجہ دلاؤں گا جو حدیث کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ واجب العمل ہے۔ وہ ذرا غور سے ان عبارتوں کو پڑھیں اور سوچیں کہ ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
موصوف نے اسماء الرجال (جس کا ذکر پہلے آ چکا ہے) کی بحث کے بعد لکھا ہے۔

دوسری اہم چیز:

سلسلہ اسناد ہے محدثین نے ایک ایک حدیث کا متعلق یہ تحقیق کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہر راوی جس شخص سے روایت لیتا ہے۔ آیا وہ اس کا ہم عصر تھا تو اس سے ملا بھی یا نہیں۔ اور ملا تھا تو آیا اس نے یہ خاص حدیث خود سنی یا کسی اور سے سن لی اور اس کا حوالہ نہیں دیا۔ ان سب چیزوں کی تحقیق انھوں نے اسی حد تک کی ہے جس حد تک انسان کر سکتے تھے مگر لازم نہیں کہ ہر ہر روایت کی تحقیق میں یہ سب امور ان کو ٹھیک ٹھیک ہی معلوم ہو گئے ہوں۔ بہت ممکن ہے کہ جس روایت کو وہ متصل السند قرار دے رہے ہیں وہ درحقیقت منقطع ہو اور انھیں یہ معلوم نہ ہو سکا ہو کہ بیچ میں کوئی ایسا مجہول الحال راوی چھوٹ گیا ہے جو ثقہ نہ تھا۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ جو روایتیں مرسل یا معضل یا منقطع ہیں اور اس بناء پر پایہ اعتبار سے گری ہوئی سمجھی جاتی ہیں ان میں سے بعض ثقہ راویوں سے آئی ہوں اور بالکل صحیح ہوں۔ یہ اور ایسے ہی بہت سے امور ہیں جن کی بناء پر اسناد اور جرح و تعدیل کے علم کو کلیۃً صحیح نہیں سمجھا نہیں جا سکتا یہ مواد اس حد تک قابلِ اعتماد ضرور رہے کہ سنتِ نبوی اور آثارِصحابہؓ کی تحقیق میں اس سے مدد لی جائے اور اس کا مناسب لحاظ کیا جائے مگر اس قابل نہیں ہے کہ بالکل اسی پر اعتماد کر لیا جائے۔ (تفہیمات: ص 323-324)

مولانا مودودی صاحب!

قاضیِ کبیر (سشن جج) کسی خون کے مقدمہ میں دو تین آدمیوں کی شہادت سے جس کو اس نے جانچ لیا ہو، قاتل سے قصاص کا حکم دے یا چور کی چوری پر نصابِ شہادت پا کر ہاتھ کاٹنے کی سزا دے تو کیا آپ کے پیدا کردہ احتمالات ان مقدمات اور ان جیسے اور خطرناک مقدمات پر حاوی ہوں گے یا نہیں؟ آپ بذاتِ خود قاضیِ کبیر کے عہدہ پر فائز ہو جائیں تو کسی چور یا کسی زانی یا کسی قاتل کو شرعی سزا دیں گے یا ہر شہادت پر یہی احتمال پیدا کریں گے میرا گمان ہے۔ اگر ہر شہادت پر آپ یہی گمان پیدا کریں گے تو حکومتِ اعلیٰ کی طرف سے آپ جلد اس عہدہ سے سبکدوش کر دیئے جائیں گے۔
مولانا! میں نے جو مثالیں پیش کی ہیں۔ یہ شرعی مقدمات کی ہیں۔ ان میں شہادتوں کا نصاب بھی قرآنِ شریف نے مقرر کیا ہے اور اس پر عمل کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ انھیں نصوصِ قرآنیہ کی بنا پر محدثین رضی اللہ عنہم اجمعین نے اپنے قواعدِ روایت کو استنباط کیا ہے۔ آپ نے جو احتمالات پیدا کئے ہیں ایسے احتمالات شاعروں نے بھی بتائے ہیں جو کہتے ہیں:

پیغامبر رقیب بنے یہ خبر نہ تھی! | دنیا کے کاروبار ہیں سب اعتبار پر

مگر آپ جانتے ہیں:

کلامِ شعری اور ہے کلامِ خطابی اور ہے یہاں محدثین نے معاصرین کی روایت کے لئے یہ شرط لگائی ہے کہ ان کی ملاقات ہو چکی ہو اس کا ثبوت ان کو کسی روایت میں مل جائے تو وہ ساری روایتوں کے لئے کافی ہوتا ہے۔ ثبوتِ ملاقات کے لئے ان کا اصطلاحی الفاظ [أخبرنا حدّثنا] ہوتے ہیں۔ اگر کسی ایک روایت میں یہ الفاظ مل جائیں تو باقی کے لئے کافی ہیں۔ اس کی مثال آپ کو علمِ معانی بیان میں یوں ملے گی۔ کوئی شاعر سارے قصیدے میں افعال کو زمانہ اور افلاک کی طرف منسوب کرتا ہے مثلاً ہے۔

أشاب الصغیر وافنی الکبیر | کر الغداۃ ومر العشی

سارے قصیدے میں اس قسم کی نسبتیں زمانہ کی طرف کرتا ہے مگر اخیر میں جا کر ایک مصرع یہ بھی ملتا ہے۔

وقیّل اللہ للشمس اطلعی

یعنی اللہ سورج کو چڑھنے کا حکم دیتا ہے اس پر صاحبِ مطول اپنی رائے کا اظہار یوں کرتے ہیں، اگر آخری مصرع یہ نہ ہوتا تو شاعر کو دہریہ کہا جاتا۔ اس ایک مصرع نے بلکہ ایک لفظ نے شاعر کو دہریت کے فتوے سے بچا لیا۔ اردو میں بھی ایک مثال سناؤں تو مفید ہو گی مولانا حالی مرحوم مسلمان تھے اور موحّد مسلمان اس کے باوجود آپ افعال کی نسبت زمانہ کی طرف کر رہے ہیں۔ جو دہریوں کا طریقہ ہے۔ فرماتے ہیں:

کیا گر حکومت نے تم سے کنارا | تو اس میں نہ تھا کچھ تمہارا اجارا
زمانہ کی گردش سے ہیں کس کو چارا | کبھی یاں ہیں بہمن کبھی یاں ہے دارہ

ایسی نسبتیں کرنے والے کو بھی دہریت سے محفوظ رکھ کر خدا کا قائل سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ اسی مسدس کے ایک ایک مصرع میں خدا کا نام یوں لیتا ہے:

نہیں بادشاہی کچھ آخر خدائی | جو ہے آج اپنی تو کل ہے پرائی

بس یہ ہے اصولِ کلام جو ہر قوم میں اور ہر ایک جماعت میں بلکہ ہر اہل علم کے نزدیک مسلم اور مقبول ہے۔ جسے آپ نے کمزور سمجھ کر ٹال دیا۔ آپ نے متصل اور منقطع حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے۔
مولانا! آپ کو کبھی دنیاوی عدالتوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو گا، یا واقعات آپ نے سنے ہوں گے کہ عدالتِ شرعی میں ایک شخص شہادت دے کہ زید نے عمرو کو کچھ دیا ہے۔ عدالت پوچھتی تمہیں یہ علم کیسے ہوا وہ کہے میرے سامنے روپیہ دیا گیا۔ دوسرا گواہ یہ شہادت دے کہ میں نے کسی آدمی سے ایسا سنا تھا۔ آپ بحیثیتِ قاضی ہونے کے فیصلہ دیں کہ یہ شہادتیں شرعی صورت میں ایک سی ہیں یا کچھ فرق رکھتی ہیں۔ آپ کے جواب کا مجھے انتظار ہے۔ اللہ جزائے خیر دے۔

❀ محدثین نے جو نصوص نے قواعد و ضوابط روایات کو قرآنِ شریف ہی سے استنباط کیا ہے۔ اور پھر ایک ایک روایت کو ان قواعد سے جانچا ہے۔ مولانا حالی مرحوم نے محدثین کے حق میں بالکل صحیح لکھا ہے۔

اسی دھن میں آساں کیا ہر سفر کو! | اسی شوق میں طے کیا بحر و بر کو!
سنا خازن علم و دیں جس بشر کو! | لیا اس سے جا کر خبر اور اثر کو!

❀ پس آپ کا یہ کہنا کہ "اسناد اور جرح و تعدیل کے علم کو کلیۃً صحیح نہیں سمجھا جا سکتا”۔ یہ معنی رکھتا ہے کہ دنیا کی عدالتیں چاہے طاغوتی ہوں یا شرعی، بالکل ناقابلِ اعتبار ہیں۔ ان کے فیصلے صحیح سمجھے جانے کے لائق نہیں ہیں۔ پس آئندہ کو آپ ایک سلسلہ مضمون یہ بھی شروع کریں کہ دنیا کی کسی عدالت کا فیصلہ قابلِ اعتبار نہیں ہے۔ مگر صرف یہ کہہ دینا کافی نہ ہو گا۔ بلکہ قانونِ شہادت ایک نیا تجویز کرنا ہو گا۔ جس پر یہ شعر صادق آئے گا۔

ہم پیرویِ قیس نہ فرہاد کریں گے | اک طرزِ جنوں اور ہی ایجاد کریں گے

اخیر میں آپ کا یہ کہنا استعجاب سے خالی نہیں ہے کہ، اس سے مدد لی جائے اور اس کا مناسب لحاظ کیا جائے مگر اس پر بالکلیہ اعتماد نہ کیا جائے۔
وہ باقی حصہ جس کے نہ ہونے سے اس سلسلہ محدثین کو ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ وہ کیا ہے؟ اگر وہ حصہ وہ ہے جس کو آپ نے مجتہدین کا خاصہ بتایا ہے تو اس کا ذکر مع جواب درجِ ذیل ہے۔ (اہلحدیث: 21 ستمبر 45ء)

اعتزال:

مولانا مودودی کی تنقید کو ہم بغور پڑھتے ہیں تو بے ساختہ منہ سے نکل جاتا ہے کہ مولانا کا مسلک، اعتدال نہیں بلکہ "اعتزال” ہے، اعتزال سے ہماری مراد وہ مصدر نہیں ہے جس سے معتزلہ فرقہ مشتق کیا جاتا ہے۔ بلکہ اصلی معنی میں اعتزال مراد ہے۔ اس لفظ کے معنیٰ علیحدگی کے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں۔ موصوف اپنی تحریرات میں عموماً مرزا صاحب قادیانی کا تتبع کرتے ہیں۔ [تشبیہ قادیانی تتبع میں ہے قادیانی مذہب میں نہیں منہ] یعنی، جس طرح مرزا صاحب قادیانی اپنی تحریرات میں کسی فن کی اصطلاحات کے پابند نہیں رہتے اسی طرح ہمارے مخاطب مولانا مودودی صاحب بھی اصطلاحاتِ سابقہ کے پابند نہیں رہتے۔ بلکہ بزبانِ حال کہتے ہیں:

کوئے جاناں سے خاک لائیں گے | اپنا صومعہ الگ بنائیں گے!

آج ہم اس دعوے کا ثبوت پیش کرتے ہیں، مولانا موصوف لکھتے ہیں:

محدثین رحمہم اللہ کا خاص موضوع اخبار و آثار کی تحقیق بلحاظِ روایت کرنا تھا اس لئے ان پر اخباری نقطہ نظر غالب ہو گیا تھا اور وہ روایات کو معتبر قرار دینے میں زیادہ تر صرف اسی چیز کا لحاظ فرماتے تھے کہ اسناد اور رجال کے لحاظ سے وہ کیسی ہیں۔ رہا فقیہانہ نقطہ نظر تو وہ ان کے موضوعِ خاص سے ایک حد تک غیر متعلق تھا، اس لئے اکثر وہ ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا تھا۔ اور وہ روایات پر اس حیثیت سے کم ہی نگاہ ڈالتے تھے۔ اسی وجہ سے اکثر ایسا ہوا ہے کہ ایک روایت کو انھوں نے صحیح قرار دیا ہے۔ حالانکہ معنی کے لحاظ سے وہ زیادہ اعتبار کے قابل نہیں اور ایک دوسری روایت کو وہ قلیل الاعتبار قرار دے گئے ہیں، حالانکہ معنیٰ و صحیح معلوم ہوتی ہے۔ یہاں اس کا موقع نہیں کی مثال دے کر تفصیل کے ساتھ اس پہلو کی توضیح کی جائے۔ مگر جو لوگ امورِ شریعت میں نظر رکھتے ہیں ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ محدثانہ نقطہ نظر بکثرت مواقع پر فقیہانہ نقطہ نظر سے ٹکرا گیا ہے اور محدثین کرام صحیح احادیث سے بھی احکام و مسائل کے استنباط میں وہ توازن اور اعتدال ملحوظ نہیں رکھ سکے ہیں جو فقہاء مجتہدین نے رکھا ہے۔ (تفہیمات: ص 23-24)

یہ اقتباس:

ہم کو دو باتوں کی اطلاع دیتا ہے۔ ایک یہ کہ فقہ اور حدیث دو الگ الگ چیزیں ہیں اس کی فرع یہ ہے کہ فقیہانہ نظر اور محدثانہ نظر بھی الگ الگ ہے۔ اس موقع پر مولانا موصوف کو چاہیے تھا کہ وہ اپنی منظورِ نظر فقہ کی جامع مانع تعریف کر دیتے۔ اگر ان کی نظر میں وہی تعریف صحیح ہے جو فقہاء کرام نے خود کی ہوئی ہے تو اسے ہم محدثانہ روش کے خلاف نہیں پاتے وہ تعریف صاحبِ توضیح کے الفاظ میں یہ ہے۔ [هو العلم بالاحكام الشرعية العلمية من أدلتها التفصيلية] (یعنی) جو مسائل قرآن و حدیث سے استنباط کئے جائیں۔ ان کو جاننا علمِ فقہ ہے۔
اس تعریف کے مطابق آئیے ہم صحیح بخاری کا مطالعہ کریں اور اس مطالعہ میں ہم مدرسہ دیوبند، مدرسہ رحمانیہ دہلی، مدرسہ لہریا سرائے اور مدرسہ عمر آباد مدارس وغیرہ کے شیوخِ حدیث کو یکجا جمع کر کے تکلیف دیں کہ وہ بعد غور و فکر ہمیں بتائیں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث کو محض اسناد کی رو سے جمع کیا ہے یا فقیہانہ نظر سے بھی ان میں کام لیا ہے۔ امام ممدوح کی "صحیح” سے ہم ایک دو مثالیں پیش کرتے ہیں۔ آنحضرت علیہ السلام فوت ہوئے تو آپ کی زرہ گروی تھی۔ اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اللہ تقریباً بیس بائیس جگہ لائے ہیں اگر ان کی نظر صرف اسناد پر ہوتی تو ایک دفعہ روایت کر دینا کافی تھا۔ پھر یہ تعددِ روایت فقیہانہ نقطہ نظر سے پیدا ہوا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی روش بتاتی ہے کہ ممدوح نہ صرف خود محدث اور فقیہ تھے بلکہ طالب علموں کے لئے فقیہہ گر تھے [جزاہ اللہ عنا وعن سائر الطالبین] ہاں اس میں شک نہیں کہ سند حدیث کی روح ہے بلکہ محدثین کی اصطلاح میں سند ہی حدیث ہے۔ صحیح مسلم کے مقدمہ میں ہے اگر سند حدیث کی ضروری نہ ہوتی تو جو کوئی چاہتا کہہ لیتا اس موقع پر مجھے حضرت ابوالاستاد مولانا ذو الفقار علی مرحوم (مترجم حماسہ) کا شعر یاد آ گیا جو انہوں نے علمِ حدیث کی تعریف میں کہا ہوا ہے۔

العلم ما كان فيه قال حدثنا! | وما سوى ذاك وسواس الشياطين
ترجمہ: پختہ علم وہی ہے جس میں حدثنا کی سند ہو باقی مشکوک ہے۔

لیکن اس کے معنیٰ یہ نہیں کہ محدثین فقیہانہ نظر سے خالی تھے۔ یہ بات بھی طرداً للباب (چلتے چلتے) ظاہر کر دوں تو بے جا نہ ہو گا کہ فقہ اور فقیہانہ نظر دو قسم پر ہے۔ اس کو حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ نے واضح طور پر لکھا ہے فرماتے ہیں:
ایک فقہ تو وہ تھی جو قرآن و حدیث سے استنباط کی جاتی تھی۔ دوسری وہ کہ متأخرین فقہاء نے سابقین فقہاء کے اقوال کو اصل قرار دے کر ان سے مسائل استخراج کرنے شروع کئے۔ اس قسم کے مسائل کا مجموعہ فقہ "قسمِ ثانی” ہے۔
جب میں صحیح بخاری کو پڑھتا ہوں تو ممدوح کی اصلِ نظر قرآن و حدیث پر پاتا ہوں، مگر گاہے بگاہے صحابہ و تابعین وغیرہ کے اقوال کو پیش کر کے بھی استخراج کر لیا کرتے ہیں جو ان کے اور سب محدثین کے نزدیک حجتِ شرعیہ فقہ قسم اول ہی ہے اور فقہ قسم ثانی مع اس کے ماخذوں کے ان کے نزدیک حجتِ شرعیہ ملزمہ نہیں بلکہ حجتِ اقناعیہ ہے۔ اس لئے کہ ان کا اصول ہے [قول الصحابی لیس بحجة] ہاں اعتدال کا مسلک چھوٹ نہ جائے اس لئے میں یہ کہنے سے نہیں رک سکتا کہ محدثین میں ایسے حضرات بھی ہیں جن کی اصل غرض روایات جمع کرنا ہی ہے۔ فقیہانہ استنباط ان کے مقصد کے علاوہ ہے۔ مگر اجنبی اور غیر نہیں۔ اس کی مثال صحیح مسلم ہمارے سامنے موجود ہے۔ جو ایک ہی حدیث کو تحویلات کر کے مختلف سندوں کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ بعض اسناد میں اتنا باریک فرق ہوتا ہے جس کو واؤ اور فاء کا فرق کہنا چاہئیے۔ تیسری کتاب ہمارے سامنے صحیح ترمذی ہے۔ اس کی روش ہی نرالی ہے وہ مثلِ امام بخاری کے استنباطی تراجم مقرر نہیں کرتے ہیں، مگر عموماً ہر باب کے اخیر میں فقہاء اسلام کے اقوال نقل کر دیتے ہیں، جس سے مقصد ان کا یہ ہے کہ ذخیرۂ معلومات جمع کر کے طلباء کے سامنے رکھا جائے۔ (جزاہم اللہ عنّا)، اسی طرح دیگر کتبِ احادیث میں ہم کو محدثانہ اور فقیہانہ نظریں ملتی ہیں، یہ تو فقہ اپنی تعریف کے مطابق ہے، جس کو ہم نے کتاب "توضیح” سے نقل کیا ہے۔ اگر فقہ کی کوئی جدید تعریف مودودی صاحب کی نظر میں ہے تو ہم اس کو سننے کے متمنی ہیں۔ آپ نے اسی اقتباس میں یہ فقرہ بھی لکھ دیا ہے:
ایک روایت کو انھوں (محدثین رحمہم اللہ) نے صحیح قرار دیا ہے حالانکہ معنی کے لحاظ سے وہ زیادہ اعتبار کے قابل نہیں (حوالہ مذکور)۔
ہم قصورِ علم کا اعتراف کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ہم اس فقرہ کو نہیں سمجھتے کہ معنی سے آپ کی مراد کیا ہے۔ لفظی ترجمہ ہے یا کچھ اور۔ اور اس کی مثال کون سی حدیث ہے جو سند کے لحاظ سے محدثین کے نزدیک صحیح ہو اور معنی کے لحاظ سے فقہاء کے نزدیک اعتبار کے قابل نہ ہو۔ آپ کی رفعِ تکلیف کے لئے میں خود ہی ایک حدیث پیش کئے دیتا ہوں جس کو بعض فقہاء نے خلافِ قیاس کہہ کر نظر انداز کیا ہے۔ جس کا مضمون یہ ہے کہ جو شخص گائے یا بھینس مصراۃ [یعنی وہ گائے یا بھینس جس کو فروخت کرنے کیلئے دودھ پہلے سے روکا جائے] خریدے اس کا دودھ کم پائے اور اس کو واپس کرنا چاہے تو ایک صاع غلہ یا کھجور اس کے ساتھ دے۔ کہتے ہیں کہ یہ حدیث قیاس کے خلاف ہے۔ محدث اس کے جواب میں کہتا ہے۔ یہ قیاسِ اصطلاحی نہیں ہے بلکہ آپ کی ذاتی رائے ہے جو ایک معنی سے حدیث کا مقابلہ ہے۔ اب میں مولانا مودودی اور ناظرین کو بالائی منزل میں لے جانا چاہتا ہوں۔ پس ناظرین غور سے سنیں۔
محدثین سندِ حدیث کے ذریعہ سے متنِ حدیث کو لے کر گویا دربارِ رسالت میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ گویا رسالت کی زبانِ مبارک سے الفاظ حدیث سن لیتے ہیں۔ اس لئے ان کو کچھ پروا نہیں ہوتی کہ ہمارا فہم یا قیاس اس متنِ حدیث کے مخالف ہے یا موافق وہ زبان اور دل کے اتفاق سے کہتے ہیں سمعنا واطعنا۔ اس وقت ان کی زبان پر یہ ورد ہوتا ہے۔

ہوتے ہوئے مصطفیٰؐ کی گفتار | مت دیکھ کسی کا قول و کردار

جب اصلِ ملے تو نقل کیا ہے | یہاں وہم و خطا کا دخل کیا ہے

[اہل حدیث 28 ستمبر 45ء]

مولانا مودودی کا مسلک:

ہم خوش ہیں کہ مولانا مودودی نے اپنا عقیدہ اور مسلک مندرجہ ذیل الفاظ میں صاف صاف بتا دیا ہے۔ فرماتے ہیں: اس بحث سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ جس طرح حدیث کو بالکلیہ رد کر دینے والے غلطی پر ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ بھی غلطی سے محفوظ نہیں ہیں جنھوں نے حدیث سے استفادہ کرنے میں صرف روایات ہی پر اعتماد کر لیا ہے۔ مسلکِ حق ان دونوں کے درمیان ہے اور یہ وہی مسلک ہے جو ائمہ مجتہدین نے اختیار کیا ہے۔

❀ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کی فقہ میں آپ بکثرت ایسے مسائل دیکھتے ہیں جو مرسل اور متصل اور منقطع احادیث پر مبنی ہیں۔ یا جن میں ایک قوی الاسناد حدیث کو چھوڑ کر ایک ضعیف الاسناد حدیث کو قبول کیا گیا ہے۔ یا جن میں احادیث کچھ کہتی ہے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ اور ان کے اصحاب کچھ کہتے ہیں۔
❀ یہی حال امام مالک رحمۃ اللہ کا ہے۔ باوجودیکہ اخباری نقطہ نظر ان پر زیادہ غالب ہے۔ مگر پھر بھی ان کے تفقہ نے بہت سے مسائل میں ان کو ایسی احادیث کے خلاف فتویٰ دینے پر مجبور کیا، جنہیں محدثین صحیح قرار دیتے ہیں۔ لیث بن سعد نے ان کی فقہ سے تقریباً ستر (70) مسئلے اس نوعیت کے نکالے ہیں۔ امام شافعی رحمۃ اللہ کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔ (تفہیمات ص 323-324)

اصل بات پر مولانا مودودی نے غور نہیں کیا ان کو سہو ہو گیا۔ اصل بات یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ مرسل حدیث کو ضعیف نہیں کہتے۔ دوسرے محدثین کی دلیل یہ ہے کہ حدیثِ مرسل میں صحابی کا نام متروک ہو جانے سے سلسلہ اسنادِ منقطع ہو گیا۔ اور شبہ پیدا ہو گیا صحابی کے سوا کوئی اور راوی بھی نہ چھوٹ گیا ہو۔ اس لئے یہ سند کالعدم سمجھی جائے۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ اور ان کے متبعین کہتے ہیں کہ تابعی نے جو صحابی کو چھوڑ کر آنحضرت علیہ السلام کے نام سے روایت کیا ہے۔ یہ اس کا کمالِ اعتماد ہے۔ اس لئے سند میں خلل نہیں سمجھنا چاہئے۔ مولانا مودودی کے قابلِ غور ایک نکتہ ہے اگر غور کریں گے تو اس کا فیصلہ وہ خود ہی فرمائیں گے۔ وہ پہلے کہہ چکے ہیں کہ محدثین نے جن راویوں کی نسبت اچھی یا بُری رائیں لکھی ہیں۔ ان کی محنت قابلِ شکریہ ہے لیکن بشریت سے وہ بھی خالی نہ تھے۔ ممکن ہے ان راویوں میں ان سے غلطی ہو گئی ہو۔

اس بناء پر میں آپ کو توجہ دلاتا ہوں کہ جس صورت میں آپ محدثین کی کھلی رائے کے متعلق غلطی کا امکان بتاتے ہیں۔ اگر وہ محدث کسی راوی کا نام ہی نہ لے جیسے مرسل کی صورت میں ہوتا ہے تو اس صورت میں یہ امکان ڈبل امکان ہو جائے گا۔ یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین مرسل کو نہیں مانتے۔ مگر امام ابو حنیفہ اس کو قابلِ استناد جانتے ہیں، یہ اختلافات دراصل ایک اصولی اختلاف ہے۔ اس کی مثال میں آپ کو بتاؤں تو مفید ہو گی، بعض علماء کے نزدیک مفہومِ مخالف حجت ہے اور بعض کے نزدیک نہیں۔ مفہومِ مخالف کسے کہتے ہیں؟ کسی اسم یا فعل کو مقید بالوصف کر کے حکم لگایا جائے۔ تو بعض علماء عدمِ وصف کے وقت اس پر حکم نہیں لگاتے۔ بعض پھر بھی لگا دیتے ہیں۔ مثلاً آیت کریمہ [وَ رَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیۡ فِیۡ حُجُوۡرِکُمۡ] یعنی تمہاری ربیبہ لڑکیاں جو تمہاری گودوں میں پرورش پاتی ہیں وہ تم پر حرام ہیں۔ [النساء:23]

بعض اکابر نے اس کے مفہومِ مخالف کو سند لے کر جوان ربیبہ سے نکاح کا فتویٰ دے دیا۔ (ملاحظہ ہو تفسیر معالم وغیرہ) مگر جمہور علماء عدمِ جواز کے قائل ہیں۔ کیونکہ مفہومِ مخالف ان کے ہاں حجت نہیں۔ پس یہ ایک اصولی اختلاف ہے۔ اسی طرح مرسل کا حجت ہونا یا نہ ہونا اصولی اختلاف ہے۔ یہ نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہ حدیث کی صحت میں سند کی ضرورت نہیں سمجھتے تھے، نہ یہ ہے کہ سند کو کافی نہیں جانتے تھے۔ اسی طرح امام شافعی اور امام مالک رحمہم اللہ بھی کسی حدیث کو بلا سند صحیح نہیں کہتے تھے۔ مولانا مودودی صاحب کو اگر اس پر اصرار ہے تو وہ چند حدیثیں بطورِ مثال ہم کو بتائیں جن کو ان حضرات نے سند کے لحاظ سے نہیں بلکہ فقیہانہ نظر سے صحیح مانا ہو۔

أولئك آبائي فجئني بمثلهم | إذا جمعتنا يا جرير المجامع

لیث بن سعد کے جن ستر (70) مسائل کا آپ نے ذکر کیا ہے آپ ان کو پیش کریں گے تو ہم بھی غور کریں گے۔ ان کو حدیث سے ماخوذ بتائیں گے یا متروک ٹھہرائیں گے لیکن یہ سب کچھ مسائلِ مذکورہ پیش ہونے پر ہو گا۔ سنی سنائی بات نہیں۔ امام مالک رحمۃ اللہ کا موطا ہمارے اور آپ کے سامنے ہے کھول کر ان مسائل کا حوالہ دے دیجئے،

اپنا تو یہ ہے قول آئے ہیں آئیے | دعویٰ اگر کیا ہے تو کچھ کر دکھائیے

[اہل حدیث 5 اکتوبر 45ء]

❀ مولانا مودودی نے کھلے لفظوں میں حجیتِ حدیث سے انکار نہیں کیا بلکہ ہم ان کو کھلے منکرِ حدیث سمجھتے اور کہتے ہیں۔ اسی لئے سلسلہ ہذا کی پہلی قسط میں ہم نے ان کی بابت بتصریح لکھ دیا تھا کہ، مولانا مودودی صاحب نے بڑی سچائی سے کام لیتے ہوئے ایک موقع پر علمِ حدیث کو واجب العمل تسلیم کیا ہے۔ (تفہیمات: ص 316)،(اہل حدیث 14 ستمبر 45ء ص 3)

❀ چونکہ ان کے شبہات سے منکرینِ حدیث کو قوت پہنچتی ہے اور یہ قوتِ شدید انکار کا موجب ہوتی ہے۔ لہذا یہ نسبتِ مجازی اسی قسم سے ہے جس قسم سے آیتِ کریمہ کے الفاظ ہیں:
[کَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَیۡکُمۡ مِّنَ الۡجَنَّۃِ] (الاعراف:27)فاندفع ما اوردو ما کاد یرد مولانا مودودی کے شبہات کو ہم نے موجبِ قوت منکرینِ حدیث کہا ہے۔ اس کا ثبوت ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں موصوف فرماتے ہیں:
معاذ اللہ اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ یہ لوگ کسی حدیث کو حدیثِ صحیح جان کر اس سے انحراف کرتے تھے۔ نہیں، بلکہ اصل معاملہ تھا کہ ان کے نزدیک صحتِ حدیث کا مدار صرف اسناد پر نہ تھا۔ بلکہ اسناد کے علاوہ ایک کسوٹی بھی تھی جس پر وہ احادیث کو پرکھتے تھے اور جس حدیث کے متعلق ان کو اطمینان ہو جاتا تھا کہ یہ حقیقت سے اقرب ہے اسی کو قبول کر لیتے تھے، خواہ وہ خالص محدثانہ نقطہ نظر سے مرجوح ہی کیوں نہ ہو۔ (تفہیمات ص 323)

❀ اس اقتباس کا خلاصہ یہ ہے کہ محدثین اور مجتہدین کے مسلک الگ الگ ہیں۔ بعض احادیث محدثین کے نزدیک بنظرِ سند ضعیف ہوتی ہیں مگر مجتہدین بنظرِ فقاہت انہی کو راجح قرار دے کر ان پر عمل کرتے اور کراتے ہیں۔ اسی کا عکس النقیض یہ ہے کہ محدثین بعض احادیث کو بنظرِ سند صحیح سمجھتے ہوں گے اور مجتہدین بنظرِ فقاہت ان کو غلط قرار دے کر رد کر دیتے ہوں گے۔ اسی کی مزید تشریح مندرجہ ذیل اقتباس میں ملتی ہے۔
یہ دوسری کسوٹی کونسی ہے؟ ہم اس سے پہلے بھی اشارۃً اس کا ذکر کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ تفقہ کی نعمت سے سرفراز فرماتا ہے۔ اس کے اندر قرآن اور سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غائر مطالعہ سے ایک خاص ذوق پیدا ہو جاتا ہے اور ایسی بصیرت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ جواہر کی نازک سے نازک خصوصیات تک پرکھ لیتی ہیں۔ اس کی نظر بحیثیتِ مجموعی شریعتِ حقہ کے پورے سسٹم پر ہوتی ہے اور وہ اس سسٹم کی طبیعت کو پہچان جاتا ہے۔ اس کے بعد جب جزئیات اس کے سامنے آتی ہیں تو اس کا ذوق اسے بتا دیتا ہے کہ کونسی چیز اسلام کے مزاج اور اس کی طبیعت سے مناسبت رکھتی ہے اور کون سی نہیں رکھتی۔ روایات پر جب وہ نظر ڈالتا ہے تو ان میں بھی یہی کسوٹی رَدّ و قبول کا معیار بن جاتی ہے، اسلام کا مزاج عین ذاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج ہے جو شخص اسلام کے مزاج کو سمجھتا ہے اور جس نے کثرت کے ساتھ کتاب وسنت رسول اللہ کا گہرا مطالعہ کیا ہوتا ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا مزاج شناس ہو جاتا ہے کہ روایات کو دیکھ کر خود بخود اس کی بصیرت اسے بتا دیتی ہے کہ ان میں سے کونسا قول یا کونسا فعل میری سرکار کا ہو سکتا ہے اور کون سی چیز سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اقرب ہے۔ یہی نہیں، بلکہ جن مسائل میں اس کو قرآن وسنت سے کوئی چیز نہیں ملتی ان میں بھی وہ کہہ سکتا ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے فلاں مسئلہ پیش آتا تو آپ اس کا فیصلہ یوں فرماتے۔ یہ اس لئے کہ اس کی روح، روحِ محمدی میں گم اور اس کی نظر بصیرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ متحد ہو جاتی ہے۔ اس کا دماغ اسلام کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے اور وہ اسی طرح دیکھتا اور سوچتا ہے جس طرح اسلام چاہتا ہے کہ دیکھا اور سوچا جائے۔ اس مقام پر پہنچ جانے کے بعد انسان اسناد کا زیادہ محتاج نہیں رہتا، وہ اسناد سے مدد ضرور لیتا ہے مگر اس کے فیصلے کا مدار اس پر نہیں ہوتا۔ وہ بسا اوقات ایک غریب، ضعیف، منقطع السند مطعون فیہ حدیث کو بھی لے لیتا ہے۔ اس لئے کہ اس کی نظر اس افتادہ پتھر کے اندر ہیرے کی جوت دیکھ لیتی ہے۔ اور بسا اوقات وہ ایک غیر معلل، غیر شاذ، متصل السند مقبول حدیث سے بھی اعراض کر جاتا ہے اس لئے کہ اس جامِ زریں میں جو بادہ معنیٰ بھری ہوئی ہے وہ اسے طبیعتِ اسلام اور مزاجِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مناسب نظر نہیں آتی۔ (تفہیمات: ص 325-326)

اس اقتباس میں الفاظ کی بھر مار سے مرزا غالب کا یہ شعر بے ساختہ منہ سے نکل جاتا ہے:

ملے تو حشر میں لے لوں زبانِ ناصح کی | عجیب چیز ہے یہ طولِ مدّعا کے لئے

ان دونوں اقتباسوں کو ملحوظ رکھ کر ہم قائلینِ حدیث سے عموماً اور اعیانِ اہل حدیث سے خصوصاً پوچھتے ہیں کہ اصولِ حدیث کی کتابوں میں کوئی اصل اور قاعدہ ان معنیٰ کا بھی ملتا ہے۔ اگر ملتا ہے تو پتہ بتائیں۔ ورنہ ہم تو مولانا مودودی سے پوچھیں گے کہ "یہ جوہرِ بے بہا” آپ نے کہاں سے پایا اور یہ بھی سوال کریں کہ اس قسم کا مجموعہ احادیث جو مجتہدین کے اختلافِ مسالک کی وجہ سے الگ ظہور میں آیا وہ کہاں ملتا ہے؟ کتب خانہ رامپور کی مطبوعہ کتابوں میں ہے یا بانکی پور کی قلمی کتابوں میں، ہم اس کے متلاشی ہیں۔ اگر پتہ چل جائے کہ عنقا کے گھونسلے میں ہے تو ہم وہاں بھی پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ ہمارا شوق وہی ہے جو مولانا حالی مرحوم نے محدثین رحمہم اللہ کا بتایا ہے؛

سناخازن علم و دیں جس بشر کو | لیا اس سے جا کر خبر اور اثر کو

ائمہ اربعہ کا اختلاف:

مولانا مودودی کا جولانِ قلم ملاحظہ کیجئے کہ مذکورہ بالا ہر دو اقتباسوں کا رَدّ گویا آپ خود ہی فرماتے ہیں۔ اس بارے میں آپ کے الفاظ یہ ہیں:۔
❀ یہ چیز چونکہ سراسر ذوقی ہے اور کسی ضابطہ کے تحت نہیں آتی، نہ آ سکتی ہے۔ اس لئے اس میں اختلاف کی گنجائش پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی چنانچہ اسی وجہ سے ائمہ مجتہدین کے درمیان جزئیات میں بکثرت اختلافات ہوئے ہیں پھر یہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ ایک شخص کا ذوق لامحالہ دوسرے شخص کے ذوق سے کلیۃً مطابق ہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی مسلک کے ائمہ نے بہت سے مسائل میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کے اقوال میں جو اختلافات پائے جاتے ہیں وہ اس کی ایک روشن مثال ہیں۔ (تفہیمات: ص 324)

ہم نے جو کہا ہے کہ یہ اقتباس پہلے دو اقتباسوں کا رَدّ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجتہدین کے اختلافِ مذاہب کا فیصلہ کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ ان کے اپنے اختلافِ ذوق پر مبنی ہے۔ اس لئے نہ کوئی حنفی شافعی کو اور نہ شافعی حنفی کو کہہ سکتا ہے کہ تمہارا فلاں مسئلہ غلط ہے۔ کیونکہ وہ جواب میں کہہ دے گا میرے امام کا ذوقِ سلیم یہی کہتا ہے۔ جو میں نے اختیار کیا ہوا ہے۔ یہ ذوقی اختلاف گویا اس شعر کا مصداق ہوا،

مجھے تو ہے منظور، مجنوں کو لیلیٰ | نظر اپنی اپنی، پسند اپنی اپنی

مولانا مودودی کے ان اقتباسوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحبِ ہدایہ کا بہت سے مسائل میں روایات کے متعلق یہ کہنا "هو حُجّة على الشافعي” صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ دونوں مجتہدوں کا ذوق الگ الگ ہے پھر ایک کی روایت دوسرے پر حجت کیسی۔ بلکہ اس شعر کی مصداق ہوئی،

نہ وہ میری مانے، نہ میں ناصحوں کی | نہیں مانتا کوئی کہنا کسی کا!

[اہل حدیث 12 اکتوبر 45ء]

❀ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ بقول مولانا مودودی ہر امام اور فقیہ کا ذوق الگ الگ تھا خصوصاً ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کا ذوق بالکل جدا جدا تھا۔ ہر امام اپنے ذوق کے مطابق فتویٰ دیتا تھا۔ اس کے آگے مولانا فرماتے ہیں:
پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر مجتہد کا ذوق ہر مسئلہ میں صواب ہی کو پہنچ جائے۔ انسان بہرحال کمزوریوں کا مجموعہ ہے۔ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کا مجتہد بھی غلطی کر سکتا ہے اور کر جاتا ہے۔ اسی بنا پر ائمہ مجتہدین ہمیشہ ڈرتے رہے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ اپنے متبعین کو ہدایت کی ہے کہ ہم پر بالکل اعتماد نہ کرلو خود بھی تحقیق کرتے رہو اور جب کوئی سنت ہمارے قول کے خلاف ثابت ہو جائے تو ہمارے قول کو رَدّ کر کے سنت کی پیروی کرو۔

امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[لا يحل لأحد أن يقول مقالتنا حتى يعلم من أين قلنا] کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ ہماری بات کو اختیار کرے، جب تک اسے یہ معلوم نہ ہو کہ ہم نے وہ بات کس دلیل کی بنیاد پر کہی ہے۔
[المدخل إلى السنن الكبرى: ص210 رقم262]

امام زفر رحمہ اللہ کا قول ہے:

[إنما نأخذ بالرأي ما لم نجد الأثر فإذا جاء الأثر تركنا الرأي وأخذنا بالأثر] ہم رائے کو اسی وقت اختیار کرتے ہیں جب ہمیں اثر نہ ملے، پھر جب اثر مل جائے تو ہم رائے کو چھوڑ دیتے ہیں اور اثر کو اختیار کرتے ہیں۔
[الفقيه والمتفقه – الخطيب البغدادي: ج1 ص510]

امام مالک رحمہ اللہ کا ارشاد ہے:

[إنما أنا بشر أخطئ وأصيب فانظروا في رأيي فكلما وافق الكتاب والسنة فخذوه وكلما لم يوافق الكتاب والسنة فاتركوه] میں بھی ایک انسان ہوں، مجھ سے غلطی بھی ہوتی ہے اور درست بات بھی نکلتی ہے۔ لہٰذا میری رائے کو کتاب و سنت پر پرکھو؛ جو بات کتاب و سنت کے موافق ہو اسے لے لو، اور جو کتاب و سنت کے موافق نہ ہو اسے چھوڑ دو۔
[جامع بيان العلم وفضله: ج1 ص775 رقم1435]

امام شافعی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ:

[فاضربوا بقولي عرض الحائطِ، فلا قول لي مع رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم] میرے قول کو دیوار پر دے مارو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مقابلے میں میرا کوئی قول معتبر نہیں۔

[البداية والنهاية – ط دار ابن كثير: ج11 ص18]

غرض یہ کہ تمام ائمہ بالاجماع کہتے ہیں کہ جس شخص پر کسی مسئلہ میں سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم روشن ہو جائے اس کے لئے پھر کسی دوسرے شخص کا قول لینا حرام ہے خواہ وہ کیسے ہی بڑے مرتبہ کا شخص ہو۔ (تفہیمات: ص 324-326)

❀ اس اقتباس کو میں نے غور سے پڑھا تو میں اپنی سمجھِ ناقص کے مطابق اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ مقولہ لکھتے ہوئے کتاب "معیارِ الحق” (مصنفہ حضرت مولانا شمس العلماء نذیر حسین المعروف میاں صاحب مرحوم مغفور) مولانا مودودی کے زیرِ نظر ہو گی۔ کیونکہ یہ مضمون معیار الحق کا گویا خلاصہ ہے۔ اور اس اقتباس کا خلاصہ یہ اشعار ہیں۔

کیا تجھ سے کہوں حدیث کیا ہے | دُر دانہٴ درجِ مصطفےٰ ہے
صوفی و عالم حکیمِ دینی!! | کرتے رہے اسی کی خوشہ چینی
بابا کے پاس سے کون لایا! | جس نے پایا یہیں سے پایا
گو غوث و قطب و مقتدا ہے | وہ بھی اسی دَر کا ایک گدا ہے
جب اصل ملے تو نقل کیا ہے | یاں وہم و خطا کا دخل کیا ہے
ہوتے ہوئے مصطفےٰ کی گفتار | مت دیکھ کسی کا قول و کردار

یہی وہ مسلک ہے جس کو لے کر خالص اہلِ حدیث اٹھتے تھے اور اب تک بفضلِ اللہ اسی پر قائم ہیں۔ اس لئے اس اقتباس کی روشنى ميں اہلِ حديث آپ سے معانقہ کرتے ہوتے یہ شعر پڑھتے ہیں۔

رات تھوڑی حسرتیں دل میں بہت
صلح کیجئے بس لڑائی ہو چکی

مولانا اجازت دیں تو چلتے چلتے ایک بات دریافت کرلیں۔ ہم آپ کے پہلے اقتباسوں میں یہ بات پڑھ چکے ہیں کہ فقہاء اور محدثین میں مسلک کا اختلاف تھا۔ بعض روایتوں کو محدث اِسناد کی نظر سے ضعیف (یا موضوع) کہہ دیتے تھے، مگر فقیہ فقیہانہ نظر سے ان کو صحیح سمجھ کر ان پر عمل کر لیتے تھے۔ اس موقع پر میں اپنے قصورِ علم کا اعتراف کر کے یہ پوچھتا ہوں کہ چاروں مجتہدین کا ذوق تو آپ نے فرما دیا کہ الگ الگ تھا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ان کے ہر ایک مسئلہ کا صحیح ہونا بھی ضروری نہیں تھا اس لئے کہ وہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے مسائل کو سنتِ مطہرہ پر جانچ کر قبول کر لیا کرو۔ جزاک اللہ

اے وقتِ تو خوش باد کہ وقتِ ماخوش کردی

پس میں پوچھتا ہوں کہ مولانا وہ سنتِ مطہرہ کی کسوٹی ہمارے پاس کس طریقے سے پہنچی۔ اسناد کے ذریعے یا مجتہدوں کے ذوقِ سلیم کے ذریعے سے۔ مجتہدین کے ذوقِ سلیم کو تو آپ سنتِ مطہرہ کا محتاج مانتے ہیں لیکن سنتِ مطہرہ کیا چیز ہے اور ہمارے پاس اس کے آنے کا ذریعہ کیا ہے؟ پس یہ عقدہ جس طرح ہو جلدی حل کر دیجئے۔ ع

بس اس جواب پر پھیرا ہے فیصلہ دل کا

مختصر یہ ہے کہ آپ کا اور ہمارا اس امر پر تو اتفاق ثابت ہو گیا کہ آپ مسائلِ فقہ کو [محتاج الی القرآن والسنۃ] مانتے ہیں ۔ مگر اس میں اختلاف ہے (خدا کرے یہ بھی نہ رہے) کہ احادیث کا ذریعہ علم ہمارے نزدیک صرف اسناد ہے۔ اور آپ کے نزدیک مجتہدانہ ذوق بھی ذریعہ علم ہے۔
پس اس مزیت کا ثبوت آپ کے ذمہ ہے۔ اگر میں کہوں کہ آپ خود ہی اپنے سابقہ دعوے کی تردید اس اقتباس میں فرما چکے ہیں تو غالباً غلط نہ ہو گا۔
آپ کا اور ہمارا دوسرا اختلاف اس امر میں ہے کہ آپ ایک طرف احادیث پر عمل کرنے کی تاکید کرتے ہیں (جزاک اللہ) مگر دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ ان پر پورا اعتماد نہیں۔ پس آپ کا ہمارا اختلاف منطقی اصطلاح میں یہ ہے کہ ہم قضیہ ضروریہ۔ مطلقہ موجبہ کے قائل ہیں اور آپ اسکے ساتھ ممکنہ عامہ سالبہ کو بھی ملاتے ہیں۔ اس بارے میں مدارسِ عربیہ کے علماء اور طلباء جو فیصلہ کر سکتے ہیں۔ جو حضرت مولانا مودودی سے حسنِ ظن رکھتے ہیں وہ اپنا حسنِ ظن بحال رکھ کر ہمارے اس اختلاف میں انصاف سے فیصلہ فرمائیں گے تو ہم سن کر خوش ہوں گے،

تمہیں تقصیر اس بُت کی جو ہے میری خطا لگتی
مسلما نو ! ذرا انصاف سے کہیو خدا لگتی!

[19 اکتوبر 45ء]

مولانا کا مخصوص عقیدہ:

ساتویں قسط علماء اہلِ حدیث کے لئے خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کیونکہ اس میں مولانا مودودی کا عقیدہ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ حدیث کو تفسیرِ قرآن مانتے ہیں [جزاہ اللہ خیر الجزاء] باوجود اس کے ہم نے اس نمبر کا اضافہ کیوں کیا؟ اس نمبر میں اس کا جواب دینا ہمارا مقصود ہے۔ پہلے مولانا موصوف کا عقیدہ ان کے الفاظ میں سنیئے۔
قرآنِ مجید ہدایت کے لئے کافی ہے۔ اس میں وہ صحیح علم موجود ہے جس کی روشنی میں انسان صراطِ مستقیم پر چل سکتا ہے اور اس میں وہ تمام اصول بیان کر دیئے گئے ہیں جن پر اللہ کا پسندیدہ دین قائم ہے۔ مگر اس علم سے فائدہ اٹھانے کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہے ایک یہ کہ طالبِ علم استفادہ کی خالص نیت رکھتا ہو اور ان مبادی سے واقف ہو جو قرآن کو سمجھنے کے لئے ضروری ہیں۔ دوسرے یہ کہ ایک ماہر فن استاد موجود ہو جو کتاب اللہ کے نکات سمجھائے، آیات کا صحیح معنی و مفہوم بتائے، احکام پر خود عمل کر کے دکھائے، اور قوانین کو عملی زندگی میں نافذ کر کے ان کا تفصیلی ضابطہ مقرر کر دے، پہلی چیز کا تعلق ہر شخص کی اپنی ذات سے ہے۔ رہی دوسری چیز، تو اس کا انتظام اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔ کتاب کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی غرض سے بھیجا گیا تھا کہ آپ اس ماہر فن کی ضرورت کو پورا کریں۔ آپ نے استاد کی حیثیت سے جو کچھ بتایا اور سکھایا ہے وہ بھی اسی طرح خدا کی طرف سے ہے۔ اس کو ”غیر از قرآن“ کہنا صحیح نہیں ہے۔ جو شخص اس کی ضرورت کا منکر ہے اور قرآن کو اس معنی میں کافی کہتا ہے کہ اس کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی و عملی ہدایت کی حاجت نہیں ہے، وہ دراصل یہ کہتا ہے کہ صرف قرآن کی تنزیل کافی تھی۔ خدا تعالیٰ نے [نعوذ باللہ] یہ فعل عبث کیا کہ اس کے ساتھ رسول کو بھی مبعوث کیا۔ (تفہیمات: ص 338)

ناظرین کرام! با الفاظِ مولانا مودودی منکرینِ حدیث کے اس فقرہ کو حیرت کی نظر سے دیکھیں گے اور تعجب کے کانوں سے سنیں گے۔ موصوف نے یہ کیا فرمایا ہے کہ:
خدا تعالیٰ نے نعوذ باللہ یہ فعل عبث کیا کہ اس کے ساتھ رسول کو بھی مبعوث کیا۔

منکرینِ حدیث اس کے جواب میں کہیں گے کہ رسول کے معنی ہی ”پیغام پہنچانے والا“ رسول کی ولادت قرآن پر دلالتِ تضمنی ہے۔ ایک کا مفہوم دوسرے سے الگ کیسے متصور ہو سکتا ہے، یہ کیونکر ممکن تھا کہ پیغام پہنچے اور پیغام رساں نہ پہنچے۔ خیر یہ تو آپ کا اور اہلِ قرآن کا باہمی مکالمہ ہو گا، ہم نے جو آپ کا مطلب سمجھا ہے اس کے متعلق اپنا مافی الضمیر عرض کرتے ہیں۔ آپ کے اس اقتباس کا مطلب یہی سمجھا اور یہی ہے کہ قرآن متن ہے مثلِ کافیہ کے، اور احادیثِ نبویہ اس کی تفسیر ہیں مثلِ شرح جامی کے۔ اس لئے دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے۔ بالکل سچ ہے۔ [جزاک اللہ] آپ نے خوب کہا مگر [قد بقى فى الخبايا في الزوايا] ابھی بہت کچھ مخفی ہے۔

اول: قرآنِ مجید کی یہ آیت ہے۔

[وَ اَخَوٰتُکُمۡ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ] تمہاری دودھ بہنیں تم پر حرام ہیں۔ [النساء:23]
اس آیت کی تفسیر تو بالکل صاف ہے کہ ایک لڑکے نے کسی عورت کی لڑکی کے ساتھ دودھ پیا وہ اس کی ہمشیرہ ہونے کی وجہ سے حرام ہے، مگر اس لڑکی کی حقیقی خالہ اس لڑکے پر اس رضاعت کی وجہ سے حسبِ تفسیرِ آیت کے حرام نہ ہونی چاہئے ۔ حالانکہ حدیث کی رو سے حرام ہے۔
على هذا القياس کسی لڑکی نے کسی لڑکے کے ساتھ مل کر دودھ پیا تو وہ لڑکی اس رَضیع کے حق میں اس آیت کی تفسیر میں آجائے گی مگر اس لڑکے کے والد، چچا، اور ماموں کا رشتہ اس لڑکی کے ساتھ کیوں حرام ہو گا؟ کیونکہ تفسیر میں وہ چیز داخل ہوتی ہے جس کو ن متن کا لفظ متحمل ہو، مثال کے طور پر ”کافیہ“ کی عبارت پیش کرتا ہوں یعنی لفظ ”وضع لمعنى مفرد“ شارح جامی نے اس عبارت میں ”مفرد“ کو مرفوع و مجرور بنا کر بلا کھٹکا تشریح کر دی لیکن مفرد (منصوب) کی حالتِ نصب میں جب تشریح کرنی چاہی تو کھٹکا ہوا کہ اس پر نصب کی علامت نہیں ہے۔ اس لئے اس تیسری ترکیب کو معذرت کر کے داخل کیا۔ مجرور اور مرفوع کیلئے کوئی معذرت نہیں کی کیونکہ ان دونوں ترکیبوں کیلئے متن متحمل تھا۔
مختصر یہ کہ متن متحمل ہو تو شرح اس کو کھول سکتی ہے۔ غیر جنس کو شرح داخل نہیں کر سکتی [فإنهم لعلهم دقيق]
مذکورہ بالا رشتے ایک مرفوع حدیث کے ماتحت حرام ہیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: [يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب] دودھ سے مثلِ نسب کے حرمت ثابت ہوتی ہے۔ [صحیح البخاری، حدیث: 2645]
فرمائیے یہ حدیث آیتِ مذکورہ کی تفسیر ہے یا حکمِ جدید؟ بينوا تؤجروا۔

دوم: آیتِ کریمہ:

[وَ اَنۡ تَجۡمَعُوۡا بَیۡنَ الۡاُخۡتَیۡنِ] یعنی دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ [النساء:23] صدق اللہ۔
آپ کے قابلِ غور سوال یہ ہے کہ اُخت کا لفظ پھوپھی اور خالہ کو شامل نہیں۔ حدیث میں جو آیا ہے کہ کسی منکوحہ لڑکی کو اس کی پھوپھی کے ساتھ جمع کرنا جائز نہیں اسی طرح کسی منکوحہ کو اس کی خالہ کے ساتھ جمع کرنا جائز نہیں۔ کیا یہ اس آیت کی تفسیر ہے یا حکمِ جدید۔

سوم: آیتِ کریمہ:

[اَلزَّانِیَۃُ وَ الزَّانِیۡ] اس آیت میں زانی مرد و عورت کی سزا سو (100) کوڑے (بید شدید) آئی ہے۔ [سورۃ النور:2]
حدیث میں آیا ہے جس مرد اور عورت نے ایک دفعہ نکاح کر لیا ہو۔ پھر ان سے زنا کا فعل صادر ہو۔ تو ان کی سزا رجم (پتھراؤ) ہے کیا یہ اس آیت کی تفسیر ہے یا حکمِ جدید؟

چہارم: آیت کریمہ:

[وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَۃُ فَاقۡطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا] یعنی چور مرد ہو یا عورت اس کے ہاتھ کاٹ دو۔ [المائدۃ:38]
اس چوری کا نصاب جو حدیثوں میں آیا ہے وہ ربع دینار یا دس درہم کی چیز ہے۔ یہ قید اس آیت کی تفسیر میں کیسے داخل ہو سکتی ہے؟ کیونکہ آیت تو عام ہے چاہے پیسے کی چوری ہو یا روپے کی۔ ایک دینار کی ہو یا سو دینار کی۔
یہ چند مثالیں ہم نے بیان کی ہیں۔ اگر بالاستیعاب سب مثالیں لکھی جائیں تو اچھی خاصی ایک ضخیم کتاب بن جائے۔ مگر ہم بحکمِ خیر الکلام ما قل ودل چند مثالوں پر اکتفا کرتے ہوئے بقولِ مرزا غالب مرحوم

نہ دے نامے کو اتنا طول غالبؔ مختصر لکھ دے
حسرت سنج ہوں عرضِ ستم ہائے جدائی کا

آپ نے منکرینِ حدیث سائل کے جواب میں جو حدیث کو قرآنِ مجید کی تفسیر بتا کر اس کو ساکت کیا ہے بہت اچھا کیا۔ ہماری ان مثالوں کے جواب میں حدیث کو مثبت حکمِ شرعی مان کر خود پسند فرمائیں! تاکہ ہمیں بھی کہنے کا موقع ملے۔

کون کہتا ہے کہ ہم تم میں جدائی ہوگی
یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی

[اہلِ حدیث 26 اکتوبر 45ء]

سُنّت پر عمل سے انحراف:

اب ہم وہ اقتباس نقل کرتے ہیں۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مولانا موصوف کا مسلک کیا ہے۔ اس اقتباس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فعل کو واجب العمل سنت نہیں جانتے اور یہ بھی جو اصطلاحات علماء اہل حدیث کی متعلقہ سنت و بدعت رائج ہیں، مولانا موصوف ان کے بھی پابند نہیں۔ لطف یہ اپنی طرف سے بھی کوئی اصطلاح مقرر نہیں کرتے چنانچہ رسالہ ”ترجمان القرآن“ کا مندرجہ ذیل اقتباس قابل ملاحظہ ہو۔ ناظرین بغور پڑھیں موصوف فرماتے:
میں اسوہ اور سنت اور بدعت وغیرہ اصطلاحات کے ان مفہومات کو غلط، دین میں تحریف کا موجب سمجھتا ہوں۔ جو بالعموم آپ حضرات (فقہاء اور محدثین) کے ہاں رائج ہیں۔ آپ کا یہ خیال کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بڑی داڑھی رکھتے تھے۔ اتنی ہی بڑی داڑھی رکھنا سنت رسول یا اسوۂ رسول ہے یہ معنی رکھتا ہے کہ آپ عاداتِ رسول کو بعینہٖ وہ سنت سمجھتے ہیں جس کے جاری اور قائم کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام مبعوث کئے جاتے رہے ہیں۔ مگر میرے نزدیک صرف یہی نہیں کہ یہ سنت کی صحیح تعریف نہیں ہے بلکہ میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ اس قسم کی چیزوں کو سنت قرار دینا اور پھر ان کے اتباع پر اصرار کرنا ایک سخت قسم کی بدعت اور ایک خطرناک تحریف دین ہے۔ جس سے نہایت برے نتائج پہلے بھی ظاہر ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ظاہر ہونے کا خطرہ ہے۔
[ترجمان القرآن جلد 26 عدد 403-605 ص 274 بابت مئی، جون 45ء]

❀ علماء حدیث ان اصطلاحات کے متعلق جو الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ وہ کتب اصول میں موجود ہیں، اسوہ سے مراد ان کی فعلِ نبوی ہے۔ قرآن مجید میں بھی یہ لفظ آیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:
[لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ] اسی بنا پر صحابہ کرام ازواج مطہرات سے پوچھتے تھے کہ آنحضرت علیہ السلام گھر میں رہ کر کیا کام کیا کرتے ہیں؟ ازواج فرماتی ہیں: [كان في مهنة أهله] حضور گھر والوں کی خدمت میں مشغول رہتے۔ [بخاری:676]

صحابہ کی غرض اس سوال سے یہی ہوتی تھی کہ ہم بھی اپنے گھروں میں وہی کام کریں جو آنحضرت علیہ السلام کیا کرتے ہیں تاکہ اسوۂ حسنہ کی تعمیل مکمل ہو جائے۔ بدعت کی تعریف بھی علماء حدیث کے نزدیک وہی ہے جو حدیث میں یوں آئی ہے۔

[من أحدث في أمرنا هذا ليس منه فهو رد] جو شخص دین اسلام میں کوئی نئی بات نکالے وہ مردود ہے۔ [صحیح البخاری، حدیث: 2697]
پس یہی بدعت ہے۔ اسوہ اور سنت دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ ان دونوں کا ملخص یہ ہے۔
[ما فعل رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم]

مولانا مودودی کو چاہئے تھا کہ ان اصطلاحات پر ناراضگی کا اظہار کر کے اپنی اصطلاحات پیش کرتے مگر انھوں نے وہی کیا ہے جو کسی شاعر نے کیا تھا۔ اس نے ایک مولوی صاحب کے حق میں جن سے اس کو کچھ چپقلش تھی یہ شعر کہا تھا۔

واعظ شہر کو مردم ملکش می خوانند
قول مانیز است کہ او مردم نیست

یعنی شاعر کہتا ہے کہ: لوگ مولوی صاحب کو فرشتہ کہتے ہیں۔ ہم بھی ان کے حق میں یہی کہتے ہیں کہ وہ آدمی نہیں ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ وہ ہیں کیا؟ یہ دربطنِ شاعر۔

اسی طرح جناب مودودی صاحب نے کمال کیا کہ ان اصطلاحات کے متعلق اپنا عندیہ ظاہر نہیں کیا۔ اگر ظاہر کر دیتے تو ہم بھی اس پر غور کرتے۔ اب تو آپ اس مصرع کے تحت بخیریت رہے۔
نگفتہ ندار دکسے با تو کار!
آپ نے بڑی خفگی کے لہجے میں ان اصطلاحات کے ماتحت ہمیں برے نتائج سے ڈرایا ہے ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں،

ناصحا اتنا تو دل میں تو سمجھ اپنے کہ ہم
لاکھ نادان ہیں، کیا تجھ سے بھی ناداں ہونگے

مولانا مودودی صاحب جب ان اصطلاحات کی خرابیوں کا اظہار کریں گے۔ جو ان کے ذہن میں ہے تو ہم بھی ان کا جواب دیں گے یا قبول کر لیں گے سرِ دست تو ہم ان خرابیوں کو بچوں کا ہوّا سمجھتے ہیں۔
کئی سال ہوئے آگرہ میں ایک جلسہ اسلامیہ ہوا تھا جس میں مختلف مذاہب کے واعظ جمع تھے، سنی بھی تھے، شیعہ بھی تھے۔ میرے جیسے اہلِ حدیث بھی تھے میں نے اپنی تقریر میں بڑی نرمی کے ساتھ اتباعِ سنت کا شوق دلانے کو کہا۔ جو کام حضور علیہ السلام نے کیا وہ بلا کھٹکا کرو جو نہیں کیا وہ مت کرو۔ میرے دل میں چونکہ بدعات مروّجہ سے نفرت تھی۔ اس لئے میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا کہ حضور علیہ السلام نے اگر تعزیہ بنایا تھا تو بنالو۔ اگر نہیں کیا تھا تو چھوڑ دو۔ شیعہ جماعت بھی اس جلسے میں شریک تھی۔ ان کے ایک زبردست واعظ بھی موجود تھے۔ وہ بھلا اس اصول کو سن کر کیسے خاموش رہتے۔ میرے بعد وہ اسٹیج پر آئے۔ آنحضرت علیہ السلام کی بڑی تعریف کی آپ کو بہت بڑھایا نتیجہ کے طور پر بتایا کہ ”یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایسے نبی نے جو کچھ کیا تھا وہی ہم کریں۔
مطلب یہ تھا کہ اتباعِ سنت کی پابندی ہم سے اٹھا دی جائے۔ بلکہ ہمیں آزاد چھوڑ دیا جائے جس رسم کو چاہیں داخلِ مذہب کر لیں۔ میں نے یہ سن کر ببانجِ فرما یا اللہ تعالیٰ نے:
[اَیَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ یُّتۡرَکَ سُدًی] [سورۃ القیامۃ:36]

اب میں بتاتا ہوں کہ مولانا مودودی صاحب نے مذکورہ اقتباس میں اپنا جو خیال بتایا ہے۔ دراصل یہ حنفی مسلک ہے۔ کتبِ اصول ”نور الانوار“ وغیرہ میں لکھا ہے کہ افعالِ نبوی دو (2) قسم کے ہوتے ہیں۔

سننِ ھدیٰ اور سننِ زوائد۔
سننِ ھدیٰ: ان افعال کو کہتے ہیں جو از قسمِ عبادت ہوں اور ان پر ثواب مرتب ہو۔
سننِ زوائد: وہ ہیں جو بنیتِ عبادت نہیں بلکہ بطورِ عادت کے کئے ہوں۔ چنانچہ وہ انہی میں مندرجہ ذیل افعالِ نبویہ کو شمار کرتے ہیں۔ صبح کی سنتیں پڑھ کر دائیں کروٹ ذرا سا لیٹ جانا۔ دوسری اور چوتھی رکعت کو اٹھتے وقت ذرا بیٹھ جانا جس کو ”جلسہ استراحت“ کہتے ہیں۔ عید الفطر کی نماز کو کچھ کھا کر جانا۔ اور عید الاضحیٰ کی نماز کو بغیر کھائے جانا۔ اس قسم کے بہت سے افعال نبویہ حنفیہ کے نزدیک سننِ زوائد میں داخل ہیں محدثین کے نزدیک یہ سب سننِ ھدیٰ ہیں صحابہ کرام کی روش سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حتی الامکان کسی فعل کو نہیں چھوڑتے تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی نسبت روایت ہے کہ وہ مکہ، مدینہ کے درمیان ایک مقام پر پہنچ کر ضرورت سے اتر آتے اور پیشاب کرنے بیٹھ جاتے۔ پوچھنے پر فرمایا: کہ میں نے آنحضرت علیہ السلام کو یہاں پر بیٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔

مجھے تو ہے منظور، مجنوں کو لیلیٰ
نظر اپنی اپنی، پسند اپنی اپنی

ہمیں مولانا مودودی کے اس مسلک پر اعتراض نہیں، بلکہ ہم خوش ہیں کہ انہوں نے اپنا مسلک صاف لفظوں میں بتا دیا گو انہوں نے یہ حوالہ نہیں دیا کہ یہ کس گروہ کا مسلک ہے۔ شاید یاد نہ ہوگا، قرآن مجید غور سے پڑھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آیت کریمہ: [قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ] اپنے معنی میں بہت وسیع ہونے کی وجہ سے ہر قسم کے افعالِ نبویہ کو شامل ہے، سننِ ھدیٰ اور زوائد کا امتیاز باقی نہیں رہنے دیتی بلکہ بآوازِ بلند کہتی ہے۔

بندۂ عشق شدی ترکِ نسب کن جامی
کہ دریں راہ فلاں ابنِ فلاں چیزے نیست

[اہلِ حدیث 2 نومبر 45ء]

تقلید و عدم تقلید:

کچھ شک نہیں کہ لفظ تقلید بمعنی معروف نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں، بلکہ علماء اصول ایک اصطلاحی لفظ ہے۔ جب سے ہندوستان میں، بحث تقلید کا چرچا ہوا ہے۔ اس لفظ کی تعریف و تشریح کافی سے زیادہ شائع ہو چکی ہے۔ ان ساری تشریحات کا خلاصہ یہ ہے کہ تقلید ہے [أخذ قول غير النبي من غير معرفة دليله] (مسلم الثبوت) وغیرہ کتبِ اصول اس تعریف کی حامل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کسی غیر نبی کے مسئلہ شرعی کو مان لینا اس کی دلیل جانے کے بغیر یہ اس کی تقلید ہے۔ مثلاً دو شخص بغرضِ سوال ایک عالم کے پاس جائیں اور پوچھیں کہ فاتحہ خلف الامام پڑھنے کا حکم کیا ہے؟ واجب ہے یا حرام؟ وہ مولوی صاحب فرما دیں کہ واجب ہے یا حرام۔ صرف اس کے اتنے قول پر یقین کرنے والا اس مفتی کا مقلد ہے۔ اور اگر پوچھیں کہ آپ کے فتویٰ کی دلیل کیا ہے اور وہ مفتی صاحب اپنے فتوے کی دلیل میں آیت یا حدیث پیش کریں تو وہ غیر مقلد ہے۔ فتویٰ چاہے وجوبِ فاتحہ کا ہو یا حرمت کا ۔ اس سے بحث نہیں۔ چونکہ خدا اور رسول کا حکم خود اپنے اندر دلیل رکھتا ہے اس لئے صاحب (مسلم الثبوت) نے کھلے لفظوں میں کہہ دیا۔
[فالرجوع إلى الرسول ليس بتقليد] رسول کی طرف رجوع کرنا تقلید نہیں ہے۔
کیونکہ رسول کا قول کسی دوسرے قول کا محتاج نہیں بلکہ وہ اس مثال کا مصداق ہے۔

آفتاب آمد دلیلِ آفتاب

اس تمہید کے بعد مولانا مودودی کا فتویٰ سننے کے قابل ہے آپ فرماتے ہیں:
اسلام میں دراصل تقلید سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کی نہیں ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقلید بھی اس بنا پر ہے کہ آپ جو کچھ فرماتے ہیں وہ اللہ کے اِذن اور فرمان کی بنا پر ہے۔ ورنہ اصل میں تو مُطاع اور آمر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں۔ ائمہ کی پیروی کی حقیقت صرف یہ ہے کہ ان ائمہ نے اللہ اور رسول کے احکام کی چھان بین کی۔ آیاتِ قرآنی اور سنتِ رسول سے معلوم کیا کہ مسلمان کو عبادات اور معاملات میں کس طریقے پر چلنا چاہئے۔ اور اصولِ شریعت سے جزئی احکام کا استنباط کیا۔ لہذا وہ بجائے خود آمر و ناہی نہیں ہیں۔ نہ بذاتِ خود مطاع اور متبوع ہیں۔ بلکہ علم رکھنے والے کے لئے علم کا ایک معتبر ذریعہ ہو سکتے ہیں۔ جو شخص خود احکام الٰہی اور سُننِ نبوی میں نظر بالغ نہ رکھتا ہو اور خود اصول سے فروع کا استنباط کرنے کا اَھل نہ ہو، اس کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ علماء اور ائمہ میں سے، جس پر بھی اسے اعتماد ہو اس کے بتائے ہوئے طریقے کی پیروی کرے۔ اگر کوئی شخص اس حیثیت سے ان کی پیروی کرتا ہے تو اس پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں لیکن اگر کوئی شخص ان کو بطورِ خود آمر و ناہی سمجھے یا ان کی اطاعت اس انداز سے کرے جو اصل آمر و ناہی کی اطاعت ہی میں اختیار کیا جا سکتا ہو، یعنی ائمہ میں سے کسی کے مقرر کردہ طریقے سے ہٹنے کو اصلِ دین سے ہٹ جانے کا ہم معنی سمجھے اور اگر کسی ثابت شدہ صریح آیتِ قرآنی کے خلاف ان کا کوئی مسئلہ پایا جائے تب بھی وہ اپنے امام کی پیروی پر اصرار کرے تو یہ بلا شبہ شرک ہوگا۔ [ترجمان القرآن ماہِ رمضان و شوال 63ھ ص 86]
❀ اس اقتباس میں مولانا موصوف سے اگر غلطی نہیں تو سہو و نسیان ضرور ہوا ہے کہ تقلید کے جو معنیٰ علمائے اصول کی اصطلاح میں ہیں۔ انھوں نے چھوڑ دیئے ہیں۔ یا اس سے ان کو بھول ہوگئی۔ ان معنی سے کوئی رسول کا مقلد نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ تقلید دل سے بے علمی کا نام ہے۔ چنانچہ حجت الاسلام حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ کتاب "المستصفیٰ” میں لکھتے ہیں کہ [التقلید لیس في شیئ من العلم] تقلید علم کا درج نہیں۔ تو جو شخص رسول علیہ السلام کی بات سن کر مانے اس کو اصل دلیل کا علم حاصل ہو چکا۔ وہ مقلد کیسے ہوا؟ مولانا موصوف کو سہو ہو گیا ہے۔ کیونکہ انھوں نے خیال نہیں فرمایا کہ تقلید علماء اصول کے نزدیک تو بے علمی کا درجہ ہے اور علماء فلسفہ کی اصطلاح میں عدمِ ملکہ کا درجہ ہے۔ [فافهم فإنہ دقیق]
مختصر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع فرض و واجب ہے تقلید فرض و واجب نہیں، بلکہ ان کی اتباع کو تقلید کہنا جائز ہی نہیں۔ ورنہ لازم آئے گا کہ خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب مقلد تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو مولانا روم جیسے صوفی بزرگ مقلد کی شان میں یہ شعر کیوں لکھتے،

آں مقلد ہست چوں طفلِ علیل!
گرچہ دارد بحثِ باریک و دلیل!

(مقلد بیمار بچے کی طرح ہے چاہے حجتیں اور باتیں بہت بنائے) (مثنوی)
چند سال گزرے ہیں کہ میرا مکالمہ دربارۂ تقلید میرے مکرم دوست مولوی مرتضیٰ حسن صاحب دیوبندی سے ہوا تھا۔ جو اخبار "اہلحدیث” اور "العدل” گوجرانوالہ میں شائع ہوتا رہا۔ [یہ مضمون بعد میں بصورتِ رسالہ موسومہ "تنقید التقلید” طبع ہوا]

موصوف نے اس میں ایک نئی بات پیدا کی تھی کی سب سے پہلا غیر مقلد شیطان تھا۔ جس نے خدا سے سجدۂ آدم کے لئے دلیل طلب کی تھی۔ میں اس وقت بھی سن کر حیران ہوا تھا کہ ہمارے مخاطب اپنی کتبِ اصول سے جن پر ان کو ناز ہے کیوں ایسے بے خبر ہو گئے ہیں کہ وہ شیطان کو خدا سے طالبِ دلیل کہہ کر غیر مقلد بناتے ہیں وہ نہیں سوچتے کہ خدا کے حکم سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے۔ امرتسر کے ایک جلسے دیوبندیہ میں مولوی خیر محمد صاحب جالندھری نے بھی یہی مضمون میرے جواب میں کہا تھا۔ جس سے مجھے مزید تعجب ہوا۔ آخر مجھے امام غزالی کے قول سے تسلی ہوئی کہ تقلید علم کا درجہ نہیں۔
مولانا مودودی نے علماءِ مجتہدین کا جو منصب بتایا ہے وہ ٹھیک ہے کہ وہ موجدِ حکم نہیں بلکہ مبلغِ حکم ہیں۔ مگر عامیِ لایعلم کو ان (مجتہدین) کے بتائے ہوئے مسئلے کا مقلد بنانا قابلِ غور بات ہے۔
کیونکہ اس کے معنیٰ تو یہ ہوئے یا نتیجہ یہ ہوا کہ سائل ان ائمہ سے ایک امام کو اپنا واجب الاتباع ضرور قرار دے لے۔ حالانکہ یہ کوئی دینی مسئلہ نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ عامی آدمی کو اپنے ہر مخاطب عالم سے مسئلہ پوچھ لینا چاہئے۔ چنانچہ "ردالمحتار” "شامی” شیخ ابنِ ہمام رحمۃ اللہ کا قول درج ہے کہ
[زمانہ سلف میں یہی دستور تھا کہ عام آدمی اپنے شہر کے جس مفتی سے چاہتا فتویٰ پوچھ لیتا]
ہمارے خیال میں ان دو سوالوں میں فرق ہے۔ ایک سوال کے الفاظ یہ ہیں کہ سائل کہتا ہے، مولوی صاحب! فلاں مسئلے میں اللہ ورسول کا کیا حکم ہے؟ دوسرے سوال کے الفاظ یہ ہیں کہ مولوی صاحب! فلاں مسئلے میں حنفی مذہب کا کیا فتویٰ ہے؟ مولانا موصوف بتائیں کہ دونوں سوالوں میں سے کس سوال کے الفاظ ان کے نزدیک صحیح ہیں اور کس کے غلط، ہم پچھلے سوال کے الفاظ کو غلط سمجھتے ہیں، کیونکہ اس سائل نے پہلے ہی حنفی فقہ کو واجب الاتباع مذہب مان رکھا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ نہیں۔ بلکہ اصل واجب الاتباع مذہب اللہ اور رسول کا حکم ہے چنانچہ ارشاد ہے۔ [اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ]
ہم مولانا مودودی کو دوستانہ مشورہ دیں گے تو غالباً کوئی شکایت نہ ہوگی کہ وہ مسئلہ تقلید کے متعلق کتاب "معیار الحق” مصنف مولانا نذیر حسین صاحب دہلوی اور اور "الارشاد” مصنف مولوی ابویحییٰ صاحب شاہجہانپوری ملاحظہ فرمائیں تو ان پر مسئلہ تقلید اور عدم تقلید خوب واضح ہو جائے گا۔ سرِدست میں اس بارے میں اس پر اکتفا کرتا ہوں۔

کبھی فرصت میں سن لینا بڑی ہے داستاں میری

[اہلِ حدیث 9 نومبر 45ء]