اسلامی معاشرت میں اخوت، صلہ رحمی اور باہمی صلح کے احکام

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

اجتماعی روابط

اسلام نے معاشرہ کے افراد کے درمیان باہمی تعلقات کو دو بنیادوں پر قائم کیا ہے :
◈ ایک باہمی اخوت جو ایک دوسرے کے درمیان مضبوط بندھن کی حیثیت رکھتی ہے۔
◈ اور دوسرے حقوق اور حرمتیں جن کا اسلام تحفظ کرتا ہے یعنی ہر فرد کے خون، آبرو اور مال کا احترام۔
اسلام ہر اُس قول عمل اور برتاؤ کو حرام قرار دیتا ہے جو ان بنیادی تعلقات کو نقصان پہنچانے یا ان کو متاثر کرنے والا ہو اور نقصان خواہ مادی ہو یا تہذیبی ، جس درجہ کا ہوگا اسی کی مناسبت سے حرمت کا درجہ بھی متعین ہوگا۔ درج ذیل آیات میں چند ایسی حرام چیزوں کو بیان کیا گیا ہے جو باہمی اخوت اور انسانی حرمتوں کو نقصان پہنچانے والی ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے :
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ‎10‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ‎11 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ
”مؤمن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں لہذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو اور اللہ سے ڈرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ اے ایمان والو ! نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ ایک دوسرے پر طعن کرو۔ اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد بدترین نام فسق ہے۔ اور جو لوگ باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں۔ اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو کہ بعض گمان گناہ ہیں۔ تجسس نہ کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ تم تو اس سے گھن ہی کرتے ہو۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ یقین جانو کہ اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔“
(سورۃ الحجرات : 10 تا 12)
پہلی آیت میں اللہ تعالٰی نے بیان فرمایا ہے کہ مؤمنین آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ان کے اندر انسانی اخوت کے ساتھ دینی اخوت بھی جمع ہوگئی ہے۔ اس اخوت کا تقاضا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن کر نہ رہیں بلکہ باہم متعارف ہوں، ایک دوسرے سے کٹیں نہیں بلکہ جڑیں، آپس میں لڑائی جھگڑا نہ کریں بلکہ مل جل کر رہیں، باہم بغض و عداوت نہ رکھیں بلکہ محبت کریں۔ اور اختلاف نہ کریں بلکہ متحد ہو کر رہیں۔ حدیث میں آتا ہے :
لا تحاسدوا ولا تدابروا ولا تباغضوا وكونوا عباد الله إخوانا
”با ہم حسد نہ کرو نہ ایک دوسرے سے پیٹھ موڑو نہ آپس میں بغض رکھو۔ بلکہ اللہ کے بندو آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔“
بخاری کتاب الادب باب ما ينهي عن التحاسد والتدابر ح : 6064 ، مسلم كتاب البر والصلة باب تحريم الظلم والتجسس ح : 2563

کسی مسلمان سے ترک تعلق جائز نہیں

اسی بنا پر اسلام نے مسلمان بھائی کے ساتھ سنگدلانہ برتاؤ کرنا اسکا بائیکاٹ کرنا یا اس سے بے رخی برتنا حرام ٹھہرایا۔ اگر دو مسلمانوں کے درمیان بغض پیدا ہو جائے تو ان کو اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تین دن تک مہلت دی گئی ہے۔ اس کے بعد ان کو لازما صلح صفائی کی کوشش کرنی چاہیے۔ چنانچہ قرآن نے مؤمنین کے جو اوصاف حمیدہ بیان کیے ہیں، ان میں سے ایک وصف یہ ہے :
اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ
”جو مؤمنوں پر نرم ہوں گے۔“
(سورۃ المائدة : 54)
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :
لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث، فإن مرت به ثلاث فليلقه فليسلم عليه، فإن رد عليه السلام فقد اشتركا فى الأجر وإن لم يرد عليه فقد باء بالاثم وخرج المسلم من الهجرة
”مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے۔ اس کے بعد اسے چاہیے کہ ملاقات کرے اور اسے سلام کرے۔ اگر وہ سلام کا جواب دے تو دونوں اجر میں شریک ہوں گے۔ اور اگر وہ جواب نہ دے تو گناہ کا مستحق ہو گا۔ اور سلام کرنے والا ترک تعلق کے گناہ سے بری ہوگا۔“
ابو داود کتاب الادب باب فى هجرة الرجل إخاه ح : 4912 – واسناده ضعیف
اگر کسی قرابت دار سے، جس کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کا اسلام نے حکم دیا ہے، قطع رحمی کی جائے تو اس کی حرمت اور زیادہ سخت ہو جاتی ہے۔ ارشاد الہی ہے :
وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيباً
”اور اُس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو۔ اور قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے بچو۔ یقین جانو کہ اللہ تمہاری نگرانی کر رہا ہے۔“
(سورۃ النساء : 1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلہ رحمی کی تصویر کشی اس طرح کی ہے :
الرحم معلقة بالعرش تقول، من وصلني وصله الله ومن قطعني قطعه الله
”رحم (رشتہ و ناطہ) عرش میں معلق ہو کر کہتا ہے : جس نے مجھے جوڑا اس کو اللہ جوڑے گا اور جس نے مجھے کاٹا اللہ اس کو کاٹے گا۔“
بخاری کتاب الادب باب من وصل وصله الله ح : 5988 5989 ۔ مسلم کتاب البر والصلة باب صلة الرحم ح : 2555
نیز فرمایا :
لا يدخل الجنة قاطع
”قاطع (قطع رحمی کرنے والا) جنت میں داخل نہ ہو گا۔“
بخاری کتاب الادب باب اثم القاطع ح : 5984 ، مسلم کتاب البر والصلة باب صلة الرحم ح : 2556
بعض علماء نے قاطع سے قطع رحمی کرنے والا اور دیگر علماء نے قاطع الطریق (رہزن) مراد لیا ہے اور دونوں تقریباً یکساں ہیں۔
صلہ رحمی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک قرابت دار دوسرے قرابت دار کے ساتھ برابری کا معاملہ کرے کہ وہ جڑے تو یہ جڑے اور اگر وہ اچھا سلوک کرے تو یہ بھی اچھا سلوک کرے۔ یہ تو امر طبیعی ہے۔ بلکہ جو چیز واجب ہے وہ یہ کہ رشتہ داروں کو بہر حال جوڑے اگر چہ کہ وہ اس سے ترک تعلق کریں۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
ليس الواصل بالمكافي ولكن الواصل الذى إذا قطعت رحمه وصلها
”صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو برابری کا معاملہ کرتا ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جو قطع رحمی کرنے والے کو جوڑتا ہے۔“
بخاری کتاب الادب باب ليس الواصل بالمكافئ ح : 5991
یہ اس صورت میں ہے جب کہ ترک تعلق اور بائیکاٹ اللہ کے لیے اس کی راہ میں اور حق کی خاطر نہ ہو۔ ورنہ ایمان کی مضبوطی کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ محبت بھی اللہ ہی کے لیے ہو اور بغض بھی اللہ ہی کے لیے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے تین ساتھیوں سے جنہوں نے غزوہ تبوک میں شرکت نہیں کی تھی، پچاس دنوں تک ترک تعلق کیا۔ ان سے سلام و کلام کا سلسلہ بند رہا یہاں تک کہ اللہ تعالی نے آیت نازل فرما کر ان کی تو بہ کو شرف قبولیت سے بخشا۔
بخاری کتاب المغازی باب حديث كعب بن مالك بن الروح : 4418 – مسلم كتاب التوبة باب حديث توبة كعب بن مالك – ح : 2769
اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج مطہرات سے ایک ماہ تک علیحدگی اختیار فرمائی۔
بخارى كتاب النكاح باب هجرة النبي لنسائه : 5202 ، مسلم کتاب الصیام باب الشهر يكون تسعا وعشرين ح : 1085 ، 1083 ۔ لیکن اس میں ایک مہینہ (29 یا 30) دن کا ذکر ہے۔ واللہ اعلم
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے ترک تعلق کیا یہاں تک کہ اُس کا انتقال ہو گیا کیونکہ وہ ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاطر میں نہیں لایا جس میں مردوں کو اس بات سے منع کر دیا گیا ہے کہ وہ عورتوں کو مسجد جانے سے روکیں۔
مسند احمد : 2/ 36 واصله عند مسلم في كتاب الصلوة باب خروج النساء الى المساجد ح : 442
لیکن اگر ترک تعلق اور بغض دنیوی اغراض کے لیے ہو، تو یہ نہایت حقیر چیز ہے۔ ایک مسلمان کس طرح اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے بغض رکھ سکتا ہے جبکہ اس کے نتیجہ میں اسے اللہ کی مغفرت اور اس کی رحمت سے محروم ہونا پڑے؟ صحیح حدیث میں ہے :
تفتح أبواب الجنة يوم الاثنين و الخميس فيغفر الله عزوجل لكل عبد لا يشرك بالله شيئا إلا رجلا كان بينه وبين أخيه شحناء فيقول: أنظروا هذين حتى يصطلحا أنظروا هذين حتى يصطلحا أنظروا هذين حتى يصطلحا
”جنت کے دروازے سوموار اور جمعرات کے دن کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ عزوجل ہر ایسے بندے کی مغفرت فرماتا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ سوائے اس شخص کے کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان بغض و عداوت ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: انہیں چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ صلح کرلیں، انہیں چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ صلح کرلیں، انہیں چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ صلح کر لیں۔“
مسلم کتاب البر والصلة باب النهي عن الشحناء ح : 2565
اور جس کا حق ہو، اس کے پاس اس کے بھائی کا معذرت کرنا کافی ہے۔ اسے چاہیے کہ اپنے بھائی کی معذرت کو قبول کرلے اور جھگڑا ختم کر دے۔ معذرت قبول نہ کرنا اور اسے رد کر دینا، حرام ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متنبہ فرمایا ہے کہ جو شخص ایسا کرے گا وہ قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حوض پر نہ پہنچ سکے گا۔
مجمع الزوائد : 18 بحواله طبرانی فی الأوسط : 21/2 ح : 1033) عن جابر و عن عائشہ رضی اللہ عنہا : 6 / 160 – ح : 6291) واسنادهما ضعیف

باہم صلح صفائی

جن مسلمانوں کے درمیان ناچاقی ہو ان کو آپس میں صلح صفائی کر لینی چاہیے کہ یہ اخوت دینی کا تقاضا ہے۔ اس کی ذمہ داری معاشرہ پر بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ اسلامی معاشرہ ایک دوسرے کا کفیل اور معاون ہوتا ہے۔ لہذا اس کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ تماش بین بن کر اپنے بعض فرزندوں کو اس حال میں چھوڑ دے کہ وہ باہم لڑتے جھگڑتے رہیں اور ان کے درمیان دشمنی کی آگ بھڑکتی رہے یا عداوت کی خلیج وسیع ہوتی رہے۔ معاشرہ کے اصحاب الرائے اور اہل فکر و دانش لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خالص حق کے لیے اور خواہشات نفس سے بچتے ہوئے اس معاملہ میں مداخلت کریں اور مسلمانوں کے تعلقات کو درست کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
”لہذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرادو اور اللہ سے ڈرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔“
(سورۃ الحجرات : 10)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں اس طرح اصلاح کرنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور بغض و خصومت کے خطرناک ہونے سے آگاہ فرمایا ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
ألا أدلكم على أفضل من درجة الصلوة والصيام والصدقة؟ قالوا بلى يا رسول الله قال: إصلاح ذات البين فإن فساد ذات البين هى الحالقة، لا أقول إنها تحلق الشعر ولكن تحلق الدين
”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ نماز روزہ اور صدقہ سے بڑھ کر فضیلت والا کام کونسا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ضرور بتائیے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: لوگوں کے درمیان صلح صفائی کرانا کیونکہ تعلقات کا بگاڑ مونڈنے والی چیز ہے۔ بالوں کو مونڈنے والی نہیں بلکہ دین کو مونڈنے والی ہے۔“
ابو داود كتاب الادب باب في أصلاح ذات البين ح : 4919 – ترمذى كتاب صفة القيامة باب : 56 ح : 2509