آزمائش اور استقامت کا ثواب
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴾
”اور ہم تمہیں آزمائیں گے، کچھ خوف و ہراس اور بھوک سے، اور مال و جان اور پھلوں میں کمی سے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔ “
(2-البقرة:155)
اس آیت میں خطاب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے ہے، لیکن دیگر مؤمنین بھی اس میں شامل ہیں۔ اس لیے کہ جو لوگ دعوت الی اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کی ذمہ داری قبول کریں گے، ان کا مقابلہ اہل فسق و فجور سے ہوگا، اور جو لوگ حق پر قائم رہیں گے اور اس کی طرف دوسروں کو بلائیں گے، ان کی ابتلاء و آزمائش لازم ہے، یہی سنت ابراہیمی ہے۔ اور یہ آزمائش اس لیے بھی ضروری ہے، تا کہ جھوٹے اور سچے، اور صبر کرنے والے، اور جزع و فزع کرنے والے میں تمیز ہو سکے اور جو صبر سے کام لیتا ہے۔ اللہ سے اجر کی امید رکھتا ہے، اور راضی بقضائے الہی ہوتا ہے، اللہ اسے بشارت دیتا ہے کہ اس کا اجر اس کو پورا پورا ملے گا۔“ (تیسیر الرحمن: 1/ 87)
تو خاک میں مل اور آگ میں جل
جب خشت بنے تب کام بنے
ان خام دلوں کے عنصر پر
بنیاد رکھ تعمیر نہ کر
مزید برآں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۚ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾
”پس آپ راہِ حق پر قائم رہیں جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے، اور وہ لوگ بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کیا ہے، خبردار! تم حد سے بڑھنا، اللہ تمہارے تمام اعمال کو دیکھنے والا ہے۔“
(11-هود:112)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور دیگر مؤمن بندوں کو دین حق پر ہر حال میں ثابت قدم رہنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے کہ دشمنانِ دین پر غالب آنے کا یہی سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اور اللہ کے خلاف بغاوت و سرکشی سے منع کیا ہے، اس لیے کہ ہلاکت و بربادی کا یہی پیش خیمہ ہے۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تیار ہو جاؤ! تیار ہو جاؤ!“ اس کے بعد آپ ہنستے ہوئے انہیں دیکھے گئے۔ مفسر ابوالسعود کہتے ہیں کہ: ”استقامت تمام اصولی و فروعی احکام اور تمام نظری اور عقلی خوبیوں کو شامل ہے۔ اور اس ضمن کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا انتہائی مشکل کام ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”مجھے سورہ ہود نے بوڑھا بنا دیا (ترمذی)۔“ (بحوالہ تيسير الرحمن: 1/ 664)
اللہ رب العزت اپنے مومن بندوں کو جو اس کی راہ میں حق پر قائم رہتے ہیں، اور آنے والی تکالیف، مصائب و پریشانیوں کے مقابل صبر و استقلال کا نمونہ بن جاتے ہیں تو اللہ ایسے بندوں کی قدر کرتا ہے، اور انہیں بڑے انعام و اکرام سے نوازتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا:
﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ . نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ . نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ.﴾
”واقعی جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے، پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو بلکہ اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعدہ دیئے گئے ہو۔ تمہاری دنیوی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق رہے اور آخرت میں بھی رہیں گے، جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ تم مانگو سب جنت میں موجود ہے غفور و رحیم معبود کی طرف یہ سب کچھ بطور مہمانی کے ہے۔“
(41-فصلت:30تا 32)
مزید ارشاد فرمایا: ﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ . أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ.﴾
”بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پالنہار اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے تو ان پر نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے۔ یہ تو اہل جنت ہیں جو سدا اسی میں رہیں گے ان اعمال کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے۔“
(46-الأحقاف:13،14)
یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آزمائش پر استقامت اور صبر کرنے کا درس دیتے، اور تلقین فرمایا کرتے تھے:
عن سفيان بن عبد الله رضى الله عنه قال: قلت: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم قل لي فى الإسلام قولا لا أسأل عنه أحدا بعدك قال: قل آمنت بالله، ثم استقم
سیدنا سفیان بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتلا دیں کہ اس کی بابت آپ کے علاوہ میں کسی اور سے نہ پوچھوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کہو میں اللہ پر ایمان لایا، پھر استقامت اختیار کرو۔“
صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب جامع أوصاف الإسلام، رقم: 38.
بعض دفعہ آزمائش اتنی سخت ہوتی ہے کہ انسان مرنے کی بھی خواہش کرنے لگ جاتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
والذي نفسي بيده لا تذهب الدنيا حتى يمر الرجل بالقبر، فيتمرغ عليه، ويقول: يا ليتني كنت مكان صاحب هذا القبر، وليس به الدين، إلا البلاء .
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا ختم نہ ہوگی حتیٰ کہ آدمی قبر پر سے گزرے گا تو اس پر لوٹ پوٹ ہوگا اور کہے گا کہ کاش! اس قبر والے کی جگہ میں ہوتا۔ ایسا دین (کی حفاظت) کی وجہ سے نہیں کہے گا، بلکہ اس کا سبب دنیا کی آزمائش ہوگی۔“
صحيح بخاري، كتاب الفتن، باب لا تقوم الساعة حتي يغبط أهل القبور، رقم: 7115ـ صحيح مسلم، کتاب الفتن، باب لا تقوم الساعة حتى يمر الرجل رقم : 157 .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وما يزال البلاء بالمؤمن والمؤمنة فى نفسه، وولده، وماله، حتى يلقى الله وما عليه خطيئة .
”مومن مرد و عورت اپنی جان، اولاد اور مال میں ہمیشہ آزمائش سے دوچار رہتی ہے، حتیٰ کہ اللہ سے ملاقات کے وقت اس کے بدن پر ایک گناہ بھی باقی نہیں ہوتا۔“
مسند الامام احمد : 2/ 450 – صحيح سنن الترمذي، الزهد، باب ماجاء فى الصبر على البلاء، رقم: 2399
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من مسلم يصيبه أذى من مرض فما سواه إلا حط الله به سيئاته كما تحط الشجرة ورقها .
”مسلمان کو بیماری کی وجہ سے جو تکلیف لاحق ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے گناہوں کو اس طرح گراتے ہیں جس طرح درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔“
صحيح البخارى رقم : 5660 – صحیح مسلم كتاب البر والصلة باب ثواب المؤمن فيما يصيبه من مرض ، رقم : 2571 .
عن المقداد بن أسود رضى الله عنه قال: أيم الله! لقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن السعيد لمن جنب الفتن، إن السعيد لمن جنب الفتن، إن السعيد لمن جنب الفتن، ولمن ابتلي فصبر فواها .
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچا لیا گیا، نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچا لیا گیا، نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچا لیا گیا، اور جو (فتنوں میں) آزمایا گیا اور اس نے صبر کیا اس کے کیا ہی کہنے۔“
سنن ابو داؤد، كتاب الفتن، باب في النهي عن السعي في الفتنة، رقم : 4263 ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 973