قیامت کی نشانی : بیت اللہ پر چڑھائی کرنے والا لشکر زمین میں دھنس جائیگا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : بیت اللہ پر چڑھائی کرنے والا لشکر زمین میں دھنس جائیگا

عن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يغزو جيش الكعبة فإذا كانوا ببيداء من الأرض يخسف بأولهم وآخرهم ، قالت : قلت يا رسول الله كيف يخسف بأولهم و آخرهم وفيهم أسواقهم ومن ليس منهم ؟ قال : يخسف بأولهم وآخرهم ثم يبعثون على نياتهم
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ مقام بیداء میں پہنچے گا تو انہیں اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور شروع سے آخر تک سارے کے سارے کیوں دھنسا دیئے جائیں گے حالانکہ وہاں ان کے بازار بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان لشکر والوں میں سے نہیں ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں شروع سے آخر تک سارے کے سارے زمین میں دھنسا دیے جائیں گے پھر اپنی اپنی نیت کے مطابق ہر کوئی اٹھایا جائے گا۔
بخاری (2118)
عبید اللہ بن قبطیہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حارث بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن صفوان رحمہ اللہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور میں بھی ان کے ہمراہ تھا۔ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس لشکر کے متعلق دریافت کیا جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور یہ ان دنوں کی بات ہے جب عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ کے حاکم تھے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ایک آدمی بیت اللہ میں پناہ لے گا یعنی امام مہدی تو ان کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا جب وہ لشکر بیداء نامی جگہ پر پہنچے گا تو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے کہا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو زبردستی اس لشکر کے ساتھ مجبور ہو کر شامل ہوا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی لشکر کے ساتھ زمین میں دھنسایا جائے گا مگر روز قیامت اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ ابو جعفر رحمہ اللہ راوی فرماتے ہیں کہ بیداء مدینے کا ایک میدان ہے۔
مسلم : كتاب الفتن : باب الخسف بالجيش الذي يؤم البيت (2882)
ایک روایت میں ہے کہ اس لشکر میں صرف ایک آدمی کی جان بخشی ہوگی جو لوگوں کو ان کی ہلاکت کے بارے میں آگاہ کرے گا۔
مسلم کتاب الفتن (2883) (7242)
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کچھ لوگ جو قلیل تعداد اور قلیل ہتھیار ہوں گے وہ اس بیت اللہ میں پناہ لیں گے۔ ان کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا جو ایک میدان بیداء میں دھنسا دیا جائے گا۔
یوسف رحمہ اللہ راوی نے کہا : آج کل شام والے مکہ والوں سے لڑنے کے لئے آرہے ہیں یعنی حجاج بن یوسف کا لشکر جو عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑنے کے لئے آتا تھا۔
عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ تابعی نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ وہ لشکر نہیں۔
مسلم : ايضا (7243)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خواب سے بیدار ہوئے تو فرمایا : تعجب ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ ایک قریشی آدمی کے لئے بیت اللہ پر چڑھائی کا قصد کریں گے کیونکہ اس نے بیت اللہ میں پناہ لی ہوگی اور جب وہ بیداء میں پہنچیں گے تو سب دھنس جائیں گے۔ ہم نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! راستے میں مقابلہ دیکھنے کے لئے تو ہر طرح کے لوگ جمع ہوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! ان میں اس مذموم ارادے سے آنے والے ، مجبوراً آنے والے اور سفر کرنے والے ہر طرح کے لوگ ہوں گے جنہیں یکبارگی ہلاک کر دیا جائے گا پھر روز قیامت وہ اپنی اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے۔
مسلم : ايضا (2884) احمد (121/6) حلية الأولياء (11/5)

فوائد :

➊ قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کے لئے پیش قدمی کرے گا مگر وہ سارے کا سارا زمین میں دھنس جائے گا۔
➋ اس نشانی کا ظہور تاحال باقی ہے۔
➌ اس لشکر کی بیت اللہ کی طرف پیش قدمی کا سبب ایک آدمی ہو گا جو نا معلوم وجوہات کی بنا پر بیت اللہ میں پناہ لے گا۔ دوسری احادیث و قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امام مہدی ہوں گے جنہیں مسلمان پہلے قبول نہیں کریں گے بلکہ انہیں گرفتار کرنے کے لئے ایک لشکر بھیجیں گے مگر جب وہ لشکر اللہ کے حکم سے زمین میں زندہ دفن ہو جائے گا تو لوگوں کو یقین ہو جائے گا کہ یہ امام مہدی ہیں اور پھر وہ جوق در جوق ان کی بیعت کے لئے حاضر ہوں گے۔
ایک حدیث میں مکمل یہ صراحت مذکور ہے گو اس کی سند میں ضعف ہے۔
➍ جب مطلوبہ شخص بیت اللہ میں پناہ لے گا تو اس کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی ہوں گے جو تھوڑے بہت ہتھیاروں سے لیس ہوں گے۔
➎ بیت اللہ پر چڑھائی کے لئے آنے والا لشکر کفار کا نہیں بلکہ مسلمانوں کا ہوگا اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تعجب کی بات ہے کہ میری امت ہی کے کچھ لوگ ایک قریشی آدمی کے لئے بیت اللہ کی طرف پیش قدمی کریں گے۔ گو امت میں امت دعوت غیر مسلم بھی شامل ہے مگر یہاں امت اجابت مسلمان مراد ہے۔
➏ کچھ لوگ مجبوری پر اس لشکر کے ہمراہ چلیں گے ، کچھ ویسے ہی تماشہ دیکھنے کے لئے آجائیں گے اور کچھ ان کے راستے میں موجود بازاروں میں خرید و فروخت کے لئے آئے ہوئے ہوں گے جبکہ باقی لشکر بغرض جنگ آیا ہوگا مگر ان سب کو یک جنبش زندہ درگور کر دیا جائے گا اگرچہ روز قیامت ہر ایک کو اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا۔
➑ اللہ تعالی ہمیں اس ملعون لشکر کا حصہ بننے سے محفوظ فرمائے۔ آمين