(آیت 132) {وَاَطِيْعُوااللّٰهَوَالرَّسُوْلَ …:} یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار تو وہ شخص ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرماں بردار ہو۔ سود کھانا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھنا دو متضاد چیزیں ہیں۔ آیت کے الفاظ عام ہونے کی وجہ سے اس میں ہر نافرمان کے لیے بھی عتاب موجود ہے۔ (رازی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
132۔ اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاَطِیْعُوااللّٰهَوَالرَّسُوْلَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ﴿ لَعَلَّكُمْتُرْحَمُوْنَ﴾ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت حصول رحمت کا سبب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَحْمَتِیْوَسِعَتْكُ٘لَّ٘شَیْءٍ١ؕفَسَاَكْتُبُهَالِلَّذِیْنَیَتَّقُوْنَوَیُؤْتُوْنَالزَّكٰوةَ …﴾ (الاعراف: 7؍156) ”اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے اور میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکاۃ دیتے ہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأطيعوا الله والرسول}، بفعل الأوامر امتثالاً واجتناب النواهي {لعلكم تُرحمون}، فطاعة الله وطاعة رسوله من أسباب حصول الرحمة، كما قال تعالى: {ورحمتي وسعت كل شيء فسأكتبها للذين يتقون ويؤتون الزكاة ... } الآيات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔