تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ الْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ:} ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ غصہ سے مغلوب ہونے کے بجائے اس پر قابو پا لیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلوان ہرگز وہ نہیں جو بہت زیادہ پچھاڑ دینے والا ہو، بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔“ [بخاری، الأدب، باب الحذر من الغضب: ۶۱۱۴، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ”مجھے وصیت فرمائیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ تَغْضَبْ] ”غصہ مت کر۔“اس نے کئی دفعہ درخواست دہرائی، آپ نے یہی فرمایا: [لاَ تَغْضَبْ] ”غصہ مت کر۔“ [بخاری، الأدب، باب الحذر من الغضب: ۶۱۱۶۔ ترمذی: ۲۰۲۰]
➌ {وَ الْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ:} یہ دراصل غصہ پی جانے کا لازمی تقاضا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں پر میں قسم کھاتا ہوں، صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ معاف کر دینے سے بندے کی عزت میں اضافہ ہی کرتا ہے اور جو اللہ کے لیے نیچا ہوتا ہے اللہ اسے اونچا کر دیتا ہے۔“ [مسلم، البر والصلۃ، باب استحباب العفو: ۲۵۸۸۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ۔ ترمذی: 2325] اور یہ احسان کا مقام ہے اور اللہ محسنین سے محبت رکھتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
«اتقوا النار ولو بشق تمرة»
[بخاری، کتاب الأدب، باب طیب الکلام۔۔۔]
یعنی دوزخ کی آگ سے بچو خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ دے کر بچو اور اس ترغیب سے مقصود بخل اور حرص جیسی مہلک بیماریوں کا علاج ہے۔
[بخاری۔ کتاب الادب، باب الحذر من الغضب]
غصہ پی جانا اور معاف کر دینا دو الگ الگ کام ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص وقتی طور پر غصہ پی جائے اور بات دل میں رکھے اور پھر کسی وقت اس سے انتقام لے لے۔ گویا غصہ پی جانے کے بعد قصور وار کو معاف کر دینا ایک الگ اعلیٰ صفت ہے اور اللہ ایسے ہی نیکو کار لوگوں سے محبت رکھتا ہے جس میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«كَاظِم» کے معنی چھپانے کے بھی ہیں یعنی اپنے غصہ کا اظہار بھی نہیں کرتے۔
اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان [خلاف شرع باتوں سے] روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے [مسند ابویعلیٰ:4338:ضعیف] ۱؎ [مسند ابو یعلیٰ]
یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقتاً پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے [صحیح بخاری:6114] ۱؎ [احمد]
سیدنا حارثہ بن قدامہ سعدی رضی اللہ عنہ حاضر خدمت نبوی میں عرض کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی نفع کی بات کہیے جو مختصر ہو تاکہ میں یاد بھی رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اس نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا کئی کئی مرتبہ یہی کہا [مسند احمد:34/5:صحیح] ۱؎ [مسند احمد]
کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا مجھے کچھ وصیت کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر وہ کہتے ہیں میں نے جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ تمام برائیوں کا مرکز غصہ ہی ہے [مسند احمد:152/5:صحیح] ۱؎ [مسند احمد]
مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ بن محمد رحمہ اللہ کو غصہ چڑھا آپ وضو کرنے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے میں نے اپنے استادوں سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ بجھانے والی چیز پانی ہے پس تم غصہ کے وقت وضو کرنے بیٹھ جاؤ [مسند احمد:226/4:ضعیف] ۱؎
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اپنا قرض اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے لوگو سنو! جنت کے اعمال سخت اور مشکل ہیں اور جہنم کے کام آسان اور سہل ہیں نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچ جائے کسی گھونٹ کا پینا اللہ کو ایسا پسند نہیں جتنا غصہ کے گھونٹ کا پی جانا ایسے شخص کے دل میں ایمان رچ جاتا ہے۔ [مسند احمد][مسند احمد:327/1:ضعیف جداً]۱؎
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص باوجود قدرت کے اپنا غصہ ضبط کر لے اسی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کر لے [سنن ابوداود:4777،قال الشيخ الألباني:حسن] ۱؎ [مسند احمد]
اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے غصہ میں آپے سے باہر نہیں ہوتے لوگوں کو ان کی طرف سے برائی نہیں پہنچتی بلکہ اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈر کر ثواب کی امید پر معاملہ سپر دالہ کرتے ہیں، لوگوں سے درگزر کرتے ہیں ظالموں کے ظلم کا بدلہ بھی نہیں لیتے اسی کو احسان کہتے ہیں اور ان محسن بندوں سے اللہ محبت رکھتا ہے
حدیث میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ کہ صدقہ سے مال نہیں گھٹتا دوسرے یہ کہ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے تیسرے یہ کہ تواضع فروتنی اور عاجزی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔[سنن ترمذي:2325،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎
اور حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک پکارے گا کہ اے لوگو درگزر کرنے والو اپنے رب کے پاس آؤ اور اپنا اجر لو۔ مسلمانوں کی خطاؤں کے معاف کرنے والے جنتی لوگ ہیں۔[ضعیف و منقطع] ۱؎
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم وصف المتقين وأعمالهم فقال: {الذين ينفقون في السراء والضراء}؛ أي: في حال عسرهم ويسرهم إن أيسروا أكثروا من النفقة وإن أعسروا لم يحتقروا من المعروف شيئاً ولو قل، {والكاظمين الغيظ}: أي: إذا حصل لهم من غيرهم أذية توجب غيظهم، وهو امتلاء قلوبهم من الحنق الموجب للانتقام بالقول والفعل. هؤلاء لا يعملون بمقتضى الطباع البشرية بل يكظمون ما في القلوب من الغيظ، ويصبرون عن مقابلة المسيء إليهم.
{والعافين عن الناس}، يدخل في العفو عن الناس العفو عن كل من أساء إليك بقول أو فعل، والعفو أبلغ من الكظم، لأن العفو ترك المؤاخذة مع السماحة عن المسيء، وهذا إنما يكون ممن تحلى بالأخلاق الجميلة وتخلى من الأخلاق الرذيلة، وممن تاجر مع الله وعفا عن عباد الله رحمة بهم وإحساناً إليهم، وكراهة لحصول الشر عليهم، وليعفو الله عنه ويكون أجره على ربه الكريم لا على العبد الفقير، كما قال تعالى: {فمن عفا وأصلح فأجره على الله}.
ثم ذكر حالة أعم من غيرها وأحسن وأعلى وأجل، وهي الإحسان، فقال تعالى: {والله يحب المحسنين}، والإحسان نوعان: الإحسان في عبادة الخالق والإحسان إلى المخلوق.
فالإحسان في عبادة الخالق فسرها النبي - صلى الله عليه وسلم - بقوله: «أن تعبد الله كأنك تراه، فإن لم تكن تراه فإنه يراك».
وأما الإحسان إلى المخلوق فهو إيصال النفع الديني والدنيوي إليهم ودفع الشر الديني والدنيوي عنهم، فيدخل في ذلك أمرهم بالمعروف ونهيهم عن المنكر وتعليم جاهلهم ووعظ غافلهم والنصيحة لعامتهم وخاصتهم، والسعي في جمع كلمتهم وإيصال الصدقات والنفقات الواجبة والمستحبة إليهم على اختلاف أحوالهم وتباين أوصافهم، فيدخل في ذلك بذل الندى وكف الأذى واحتمال الأذى، كما وصف الله به المتقين في هذه الآيات، فمن قام بهذه الأمور فقد قام بحق الله وحق عبيده.