تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ يَغْفِرُوْنَ:} غصے کی حالت میں معاف کر دینے کا ذکر خاص طور پر فرمایا، کیونکہ یہ کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جو نہایت مضبوط ارادے کے مالک ہوں، کیونکہ عموماً غصے میں آدمی عقل و ہوش سے عاری ہو جاتا ہے۔ اس حال میں اپنے آپ پر قابو رکھنا آدمی کی کمالِ عقل اور ضبطِ نفس کی دلیل ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيْسَ الشَّدِيْدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيْدُ الَّذِيْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ] [بخاري، الأدب، باب الحذر من الغضب: ۶۱۱۴] ”پہلوان وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑ دے، پہلوان صرف وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں عفو و درگزر کی خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ (دیکھیے آل عمران: ۱۵۹) عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [مَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِيْ شَيْءٍ يُؤْتٰی إِلَيْهِ حَتّٰی يُنْتَهَكَ مِنْ حُرُمَاتِ اللّٰهِ فَيَنْتَقِمُ لِلّٰهِ] [بخاري، الحدود، باب کم التعزیر و الأدب؟: ۶۸۵۳] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی معاملے کا انتقام نہیں لیا جو آپ سے کیا گیا۔ ہاں! اللہ تعالیٰ کی حرمتوں میں سے کسی کو توڑا جاتا تو آپ اللہ کی خاطر انتقام لیتے۔“ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۳۳، ۱۳۴) خلفائے راشدین میں بھی یہ وصف بدرجہ کمال موجود تھا، جیسا کہ ان کی سیرت سے ظاہر ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب غصہ آیا تو آپ کا چہرہ سرخ ہو جاتا جیسے کسی نے چہرہ پر انار نچوڑ دیا جو مثلاً فاطمہ مخزومی قریشی کی چوری کا مقدمہ پیش ہوا تو قریشیوں نے سیدنا اسامہ بن زید کو سفارش کے لیے کہا۔ سیدنا اسامہ نے سفارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصہ سے سرخ ہو گیا اور فرمایا:”اسامہ! تم اللہ کی حدود میں سفارش کرتے ہو؟“ [بخاري۔ كتاب الحدود۔ باب كراهية الشفاعة فى الحد]
اسی طرح ایک دفعہ سیدنا معاذ بن جبلؓ نے عشا کی نماز میں سورۃ بقرۃ شروع کر دی ایک دیہاتی نے نماز توڑ کر اپنی الگ نماز پڑھ لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا معاذ پر سخت ناراض ہوئے اور تین بار فرمایا: «افتّان انت يا معاذ؟» ”معاذ کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہو؟“ [بخاري۔ كتاب الادب۔ باب من لم ير اكفار من قال ذلك متاوّلا او جاهلا] اور ایسی اور بھی مثالیں بہت ہیں۔
نیز سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ: مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غصہ مت کیا کر۔ اس نے دوبارہ، سہ بارہ یہی بات پوچھی تو آپ ہر بار یہی کہتے رہے کہ غصہ مت کیا کر“ [بخاری۔ کتاب الادب۔ باب الحذر من الغضب]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور حدیث میں ہے کہ بہت ہی زیادہ غصے کی حالت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے سوا اور کچھ الفاظ نہ نکلتے کہ فرماتے اسے کیا ہو گیا ہے اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔[صحیح بخاری:6031]
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسلمان پست و ذلیل ہوتا تو پسند نہیں کرتے تھے لیکن غالب آ کر انتقام بھی نہیں لیتے تھے بلکہ درگذر کر جاتے اور معاف فرما دیتے۔ ان کی اور صفت یہ ہے کہ یہ اللہ کا کہا کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں جس کا وہ حکم کرے بجا لاتے ہیں جس سے وہ روکے رک جاتے ہیں نماز کے پابند ہوتے ہیں جو سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔
اور جیسے کہ سردار انبیاء رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں کیا جبکہ اسی وقت کفار غفلت کا موقع ڈھونڈ کر چپ چاپ لشکر اسلام میں گھس آئے جب یہ پکڑ لیے گئے اور گرفتار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو معافی دے دی اور چھوڑ دیا۔
اسی طرح لبید بن اعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو علم و قدرت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے درگذر فرما لے۔[صحیح بخاری:5763]
اور اسی طرح جس یہودیہ عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی بدلہ نہ لیا اور قابو پانے اور معلوم ہو جانے کے باوجود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنے بڑے واقعہ کو جانا آنا کر دیا اس عورت کا نام زینب تھا یہ مرحب یہودی کی بہن تھی۔ جو جنگ خیبر میں محمود بن سلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس نے بکری کے شانے کے گوشت میں زہر ملا کر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تھا خود شانے نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اقرار کیا تھا اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور اگر آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے راحت حاصل ہو جائے گی یہ معلوم ہو جانے پر اور اس کے اقبال کر لینے پر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔[صحیح بخاری:3169]
معاف فرما دیا گو بعد میں وہ قتل کر دی گئی اس لیے کہ اسی زہر سے اور زہریلے کھانے سے بشر بن برا رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تب قصاصاً یہ یہودیہ عورت بھی قتل کرائی گئی۔ اور بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کے ایسے بہت سے واقعات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين يَجتنبونَ كبائرَ الإثم والفواحشَ}: والفرق بين الكبائرِ والفواحشِ ـ مع أنَّ جميعَهما كبائرُ ـ أنَّ الفواحشَ هي الذُّنوب الكبارُ التي في النفوس داعٍ إليها كالزِّنا ونحوه، والكبائرُ ما ليس كذلك، هذا عند الاقتران، وأمَّا مع إفرادِ كلٍّ منهما عن الآخر؛ فإنَّ الآخر يدخُلُ فيه. {وإذا ما غضبوا هم يغفِرونَ}؛ أي: قد تخلَّقوا بمكارم الأخلاق ومحاسن الشِّيم، فصار الحلم لهم سَجِيَّة وحسن الخلق لهم طبيعةً، حتى إذا أغضَبَهم أحدٌ بمقاله أو فعاله؛ كظموا ذلك الغضب، فلم يُنْفِذوه، بل غفروه، ولم يقابِلوا المسيءَ إلاَّ بالإحسان والعفو والصفح، فترتَّب على هذا العفو والصفح من المصالح ودفع المفاسد في أنفسهم وغيرهم شيءٌ كثير؛ كما قال تعالى: {ادفَعْ بالتي هي أحسنُ فإذا الذي بينَكَ وبينَه عدواةٌ كأنَّه وليٌّ حميمٌ. وما يُلَقَّاها إلاَّ الذينَ صَبَروا وما يُلَقَّاها إلاَّ ذو حَظٍّ عظيم}.