سچ بولنے کی فضیلت
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَبَ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءَهُ ۚ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكَافِرِينَ . وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ ۙ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ . لَهُم مَّا يَشَاءُونَ عِندَ رَبِّهِمْ ۚ ذَٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ.﴾
”پس اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر افترا پردازی کی، اور جب سچی بات اسے پہنچ گئی تو اسے جھٹلا دیا، کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے۔ اور جو رسول سچی بات لے کر آیا، اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہر وہ چیز ہے جس کی وہ خواہش کریں گے۔ بھلائی اور نیکی کرنے والوں کا یہی بدلہ ہے۔“
(39-الزمر:32 تا 35)
سچ بولنے والوں کے لیے بہترین نمونہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ﴾
”وہ مال ان فقیر مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور مال و دولت سے نکال دیے گئے، وہ لوگ اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلب گار تھے، اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے تھے، وہی لوگ سچے تھے۔“
(59-الحشر:8)
؎ صداقت ہو تو دل سینوں سے کھینچ آتے ہیں اے واعظ
حقیقت خود کو منوالیتی ہے مانی نہیں جاتی
﴿طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَّعْرُوفٌ ۚ فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللَّهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ﴾
”پس بہت بہتر تھا ان کے لیے فرمان کا بجا لانا اور اچھی بات کا کہنا، پھر جب کام مقرر ہو جائے، تو اگر اللہ سے سچے رہیں تو ان کے لیے بہتری ہے۔“
(47-محمد:21)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سچ بولنے والوں کے لیے خیر و بھلائی، جنت و دیگر انعام و اکرام بیان فرمائے ہیں۔ یعنی سچ میں خیر ہی خیر ہے۔ اگرچہ بظاہر بسا اوقات نقصان ہی نظر آ رہا ہو، لیکن ہوتی اس میں بھی خیر ہی ہے۔
عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: إن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وإن الرجل ليصدق حتى يكتب عند الله صديقا، وإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وإن الرجل ليكذب حتى يكتب عند الله كذابا .
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً سچائی، نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ آدمی سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اسے اللہ کے ہاں بہت سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور جھوٹ گناہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے، اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے، اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اسے بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔“
صـحيـح بـخـاري، كتاب الأدب، باب قول الله تعالى ، ﴿يأيها الذين آمنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقين﴾ وما ينهى عن الكذب، رقم : 6094 – صحیح مسلم، کتاب البر، باب قبح الكذب وحسن الصدق وفضله، رقم: 2607 .
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الصدق طمأنينة، وإن الكذب ريبة .
”سچائی باعث اطمینان اور جھوٹ باعث شکوک و شبہات ہے۔“
سنن ترمذی، کتاب صفة القيامة ، رقم: 2518 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔ ارواء الغلیل، رقم : 12، 2074.
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ضمانت دیتا ہوں جو شخص حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے گا، اسے جنت کے گردونواح میں گھر ملے گا۔ اور جو مذاق کرتے وقت بھی جھوٹ کو چھوڑ دے گا اسے جنت کے وسط میں گھر ملے گا۔ اور جو عمدہ اخلاق کا مالک ہوا سے جنت کے اعلیٰ مقام پر گھر ملے گا۔“
سنن ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی حسن الخلق، رقم : 4800 – سلسلة الصحيحة، رقم: 273 .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری چھ باتیں مان لو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: وہ باتیں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
➊ جب تم کوئی بات کرو تو جھوٹ مت بولو۔
➋ جب وعدہ کرو خلاف ورزی مت کرو۔
➌ جب تمہیں امانت دی جائے تو خیانت مت کرو۔
➍ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔
➎ اپنی نظریں نیچی رکھو۔
➏ اپنے ہاتھوں کو (برے کاموں سے) روکے رکھو۔“
السلسة الصحيحة، رقم: 1470.