قیامت کی نشانی : امام مہدی کا ظہور
وعن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : لا تقوم الساعة حتى يملك العرب رجل من أهل بيتى يواطي اسمه اسمي
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ میرے اہل بیت سے ایک آدمی عرب کا حاکم بن جائے گا جس کا نام میرے نام جیسا ہوگا۔
(ترمذی : کتاب الفتن : باب ماجاء في المهدی 2230، احمد 471/1، ابو داؤد 4282، ابن حبان 236/15، طبرانی کبیر 133/10، حاکم 488/4، صحيح الجامع الصغير 5180)
وعن عبد الله رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : لو لم يبق من الدنيا إلا يوم لطول الله ذلك اليوم حتى يبعث فيه رجل من أهل بيتى يواطي اسمه اسمي واسم أبيه اسم أبي
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دنیا میں اگر ایک ایسا دن بھی باقی ہے جسے اللہ تعالی طویل کر دیں گے اور اس میں میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی کو امام بنا کر ظاہر کریں گے جس کا نام میرے نام جیسا اور جس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام جیسا ہوگا۔
(ابو داؤد : كتاب المهدى 4283، مسند البزار 493، احمد 120/1، شرح السنة 457/7)
عن أبى سعيد الخدري رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تقوم الساعة حتى تمتلي الأرض ظلما وعدوانا ، قال : ثم يخرج من عترتي أو من أهل بيتى يملؤها قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وعدوانا
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ روئے زمین ظلم وزیادتی سے بھر جائے گی ، کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر میری نسل یا اہل بیت میں سے ایک آدمی نکلے گا جو زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح یہ ظلم وجور سے بھری پڑی تھی۔
(احمد 35/3 – 88، ابو داؤد 2485، ترمذی : كتاب الفتن : باب ماجاء في المهدى 2232، ابن ماجة 4134، حاكم 600/4، الحلية 101/3، شرح السنة 457/7، السلسلة الصحيحة 336/2)
و عن أبى سعيد رضى الله عنه قال : خشينا أن يكون بعد نبينا حدث فسألنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : يخرج المهدي فى أمتي خمسا أو سبعا أو تسعا
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حادثات کے ظہور کا خدشہ لاحق ہوا تو ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : امام مہدی میری امت میں ظاہر ہوں گے جو پانچ سال ، یا سات سال یا نو سال تک زندہ رہیں گے۔
(احمد 27/3 – 34)
عن على رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : المهدي منا أهل البيت يصلحه الله فى ليلة
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مہدی میرے اہل بیت سے ہو گا جس کی ایک ہی رات میں اللہ تعالیٰ اصلاح فرمادیں گے۔
(احمد 102/1، ابن ماجة : كتاب الفتن : باب خروج المهدى 4136، ابن ابي شيبة 678/8، البزار 243/2، ابو يعلى 465، الحلية 177/3، التاريخ الكبير 317/1، التذكره 515، صحيح الجامع 1140/2)
عن أم سلمة رضي الله عنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : المهدي من عترتي من ولد فاطمة
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی سنا ہے کہ مہدی میری نسل میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ہو گا۔
(ابو داؤد : كتاب المهدى 4278، ابن ماجة 4086)
عن أبى سعيد رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : يخرج فى آخر أمتي المهدي ، يسقيه الله الغيث ، وتخرج الأرض نباتها ويعطى المال صحاحا وتكثر الماشية وتعظم الأمة يعيش سبعا أو ثمانيا
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری آخری امت میں مہدی کا ظہور ہوگا ، اللہ اسے بارش سے سیراب فرمائے گا ، زمین اپنی نباتات اگائے گی، وہ مال کی صحیح صحیح تقسیم کرے گا، مویشی بکثرت ہوں گے، امت عظیم ہو جائے گی اور وہ مسلسل سات یا آٹھ سال تک زندہ رہے گا۔
(مستدرك حاكم : كتاب الفتن و الملاحم 557- 8/4، السلسلة الصحيحة 336/2)
وعن ثوبان رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يقتتل عند كنزكم ثلاثة ، كلهم ابن خليفة ثم لا يصير إلى واحد منهم ثم تطلع الرايات السود من قبل المشرق فيقتلونكم قتلا لم يقتله قوم … فإذا رأيتموه فبايعوه ولو حبوا على الثلج فإنه خليفة الله المهدي
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے کعبہ کے خزانے پر تین آدمی لڑائی کریں گے، تینوں خلیفہ کے بیٹے ہوں گے مگر وہ خزانہ کسی ایک کو بھی نہیں ملے گا پھر مشرق کی طرف سے سیاہ جھنڈے آئیں گے اور وہ تمہیں ایسا قتل کریں گے کہ ویسا کسی قوم نے قتل نہ کیا ہو۔ جب تم اسے دیکھو تو اس کی بیعت کر لینا خواہ تمہیں برف پر گھسٹ کر ہی جانا پڑے کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہو گا۔
(ابن ماجة : كتاب الفتن : باب خروج المهدى 4084، حاكم 463/4، النهاية في الفتن 26/1)
شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے مگر اس کا آخری جملہ کہ وہ اللہ کا خلیفہ ہوگا بسند صحیح ثابت نہیں۔
(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو السلسلة الضعيفة 119/1)
عن جابر بن عبد الله رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا تزال طائفة من أمتى يقاتلون على الحق ظاهرين إلى يوم القيامة ، قال : فينزل عيسى بن مريم عليهما السلام فيقول أميرهم : تعال صل لنا ، فيقول : لا ، إن بعضكم على بعض أمراء تكرمة الله هذه الأمة
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میری امت کا ایک گروہ قیامت تک حق پر غالب قائم رہتے ہوئے قتال کرتا رہے گا۔ نیز فرمایا : پھر عیسی علیہ السلام نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا امیر مہدی کہے گا آئیے نماز پڑھائیں۔ مگر عیسی علیہ السلام فرمائیں گے نہیں ! بلا شبہ امیر تم میں سے ہی ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو شرف بخشا ہے۔
(مسلم : کتاب الايمان : باب نزول عيسى بن مريم، حاكم 395، احمد 359/2-443، مسند ابی عوانة 106/1)
وعن جابر رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ينزل عيسى بن مريم فيقول أميرهم المهدي …
(المنار المنيف لابن قيم ص 147 وقال : هذا اسناد جيد)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عیسی ابن مریم نازل ہوں گے تو ان لوگوں کے امیر مہدی کہیں گے (اس حدیث میں صراحت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو نماز کی امامت کی دعوت دینے والے مسلمانوں کے امیر و امام مہدی موصوف ہوں گے جبکہ گذشتہ روایت میں امیر کی صراحت نہیں ہے۔)
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كيف أنتم إذا نزل ابن مريم فيكم وإمامكم منكم ؟
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا کیا حال ہو گا جب بوقت نماز فجر عیسی علیہ السلام تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تمہی میں سے ہو گا۔ یعنی حضرت عیسی علیہ السلام امامت نہیں کروائیں گے بلکہ امام مہدی کو آگے کر دیں گے۔
(بخاری: کتاب احادیث الانبياء : باب نزول عيسى بن مريم عليهما السلام 3449، مسلم 392)
وعن جابر بن عبد الله رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يكون فى آخر أمتي خليفة يحثي المال حثيا لا يعده عددا ، قال الحريري : قلت لأبي نضرة وأبي العلا : أتريان أنه عمر بن عبد العزيز ؟ فقالا : لا
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری آخری امت میں ایک خلیفہ ہوگا جو بلا حساب وکتاب چلو بھر بھر کر مال تقسیم کرے گا۔ جریری رحمہ اللہ راوی کا کہنا ہے کہ میں نے ابو نضرہ رحمہ اللہ اور ابو العلاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ وہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تو نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں۔
(مسلم : كتاب الفتن : باب لا تقوم الساعة حتى يمر الرجل 2912-2913، شرح السنة 86/15)
عن أبى سعيد الخدري رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : منا الذى يصلي عيسى بن مريم خلفه
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حضرت عیسی علیہ السلام جس امام کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے وہ امام ہم اہل بیت میں سے ہوگا۔
(المنار المنيف 148 لابن قيم وقال : اسناد جيد، الحاوى للسيوطى 64/2، صحيح الجامع الصغير 219/5، فيض القدير 17/6)
عن أبى سعيد الخدري رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : المهدي مني أجلى الجبهة أقنى الأنف ، يملأ الأرض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا ويملك سبع سنين
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مہدی میری اولاد سے ہوگا، چوڑی پیشانی اور باریک مگر لمبی ناک والا ہو گا۔ وہ زمین کو اس طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و طغیان سے بھر دی گئی تھی اور وہ سات سال تک حکومت کرے گا۔
(ابو داود : كتاب المهدى 4265، حاكم 557/4، المنار المنيف 144 وقال سنده جيد – صحيح الجامع الصغير 22/3-6، المشكاة للالباني 5454 وقال اسناده حسن)
عن عبد الله بن الزبير رضى الله عنه أن عائشة رضي الله عنها قالت : عبث رسول الله صلى الله عليه وسلم فى منامه فقلنا : يا رسول الله صنعت شيئا فى منامك لم تكن تفعله فقال : العجب إن ناسا من أمتي يؤمون البيت برجل من قريش ، قد لجأ بالبيت ، حتى إذا كانوا بالبيداء خسف بهم ، فقلنا يا رسول الله إن الطريق قد يجمع الناس ؟ فقال : نعم ، فيهم المستبصر والمجبور وابن السبيل ، يهلكون مهلكا واحدا ويصدرون مصادر شتى يبعثهم الله على نياتهم
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نیند میں گھبرا اٹھے تو ہم نے پوچھا : آج نیند میں آپ کے ساتھ جس طرح ہوا پہلے تو کبھی نہیں ایسا ہوا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تعجب ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ ایک قریشی آدمی کے لئے بیت اللہ پر چڑھائی کا قصد کریں گے کیونکہ اس نے بیت اللہ میں پناہ لی ہو گی اور جب وہ بیدا میدان میں پہنچیں گے تو سب زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے۔ ہم نے کہا : یا رسول اللہ راستے میں مقابلہ دیکھنے تو سب لوگ ہی جمع ہوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! ان میں اس مذموم ارادے سے آنے والے، مجبورا آنے والے اور سفر کرنے والے ہر طرح کے لوگ ہوں گے جنہیں یکبارگی ہلاک کر دیا جائے گا پھر روز قیامت وہ اپنی اپنی نیتوں کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔
(مسلم : كتاب الفتن : باب الخسف بالجيش الذى يؤم البيت 2884، احمد 121/6)
ایک روایت میں ہے کہ اس لشکر سے صرف ایک آدمی کی جان بخشی ہوگی جو لوگوں کو ان کی ہلاکت سے آگاہ کرے گا۔
(مسلم ايضا 2883)
فوائد :
➊ امام مہدی کا ظہور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیش گوئی کی روشنی میں ایک مسلمہ حقیقت ہے جو تا حال واقع نہیں ہوئی مگر قبل از قیامت اس کا وقوع ہو کر رہے گا۔
➋ امام مہدی کے ظہور کے وقت ساری دنیا فتنہ فساد ظلم وعدوان قتل و غارت اور کشت و خون کی ایسی لپیٹ میں ہوگی کہ ویسی آج تلک اہل زمین نے دیکھی نہ ہوگی۔
➌ امام مہدی کا نام خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے نام جیسا اور ان کے والد کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کے نام جیسا ہوگا اور یہ یاد رکھئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معروف نام دو تھے ایک محمد اور دوسرا احمد اور یہ دونوں قرآن مجید میں بھی مذکور ہیں لہذا امام موصوف کا نام محمد یا احمد بن عبد اللہ ہوگا۔
➍ امام مہدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت یعنی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے ہوں گے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے امام موصوف کا یہ نسب ذکر کیا ہے : محمد بن عبد اللہ علوی فاطمی حسنی رحمہ اللہ
(النهاية 26/1)
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے ہے۔
(المنار المنيف ص 139)
صاحب عون المعبود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مہدی باپ کی طرف سے حسنی اور ماں کی طرف سے حسینی ہوں گے۔
(عون المعبود 249/11)
➎ امام مہدی کا ظہور حضرت عیسی علیہ السلام سے پہلے ہو گا اور حضرت عیسی علیہ السلام ان کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے۔
➏ صحیحین میں اشارہ جبکہ دیگر کتب احادیث سنن و مسانید میں صراحتاً امام مہدی کا ذکر موجود ہے جس کے اقرار سے مفر نہیں۔ لہذا جس طرح قرآن کا بعض حصہ بعض کی تفسیر کرتا ہے اسی طرح بعض احادیث بعض کی تشریح کرتی ہیں۔
➐ اللہ تعالیٰ اچانک ایک ہی رات میں امام مہدی کی اصلاح فرمادیں گے۔ اس حدیث کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں :
(1) امام مہدی میں کچھ عیوب ونقائص صغیرہ گناہ ہوں گے جن کی ایک ہی رات میں من جانب الله اصلاح فرما دی جائے گی۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کو اختیار کیا ہے۔
(النهاية 27/1)
اور یہی رائج معلوم ہوتا ہے۔
(2) خلافت کا تصور ان کے وہم وگمان میں بھی نہ ہوگا مگر اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں انہیں خلافت کے لئے تیار کر کے منظر عام پر لے آئیں گے۔
➑ ظہور مہدی کے بعد ہر طرف خیر و برکت، مال و دولت، امن و امان اور خوشحالی کا ایسا سہانا سماں ہوگا کہ تاریخ انسان اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہوگی۔
➒ امام مہدی ظہور کے بعد زیادہ سے زیادہ نو سال اور کم از کم پانچ سال زندہ رہیں گے۔
(دیکھئے النهاية في الفتن 26/1)
➓ امام مہدی کوئی نبی یا رسول نہیں ہوں گے بلکہ ایک نیک صالح اور مجاہد حکمران خلیفہ ہوں گے جو منہج نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق شریعت محمدی کا احیا اور خلافت اسلامیہ کا قیام کریں گے۔
⓫ امام مہدی کا ظہور مشرق کی طرف سے ہو گا اس حدیث کے دو مطلب ہو سکتے ہیں :
ایک یہ کہ اس سے مدینے کا مشرق مراد لیا جائے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں یہ بات بیان فرمائی تھی اور یہی رائج معلوم ہوتا ہے۔
دوسرا یہ کہ اس سے دنیا کا مشرق مراد لیا جائے تو اس لحاظ سے مدینہ بلکہ مدینے کا مغرب بھی مشرق میں شامل ہوگا کیونکہ جغرافیے کے اعتبار سے وہ دنیا کے مشرق میں ہے۔
علاوہ ازیں دونوں صورتوں میں مشرق کی تحدید نہیں کی گئی لہذا مشرق کے عموم کی وجہ سے اس میں مشرق قریب ، وسطی اور مشرق بعید تینوں شامل ہیں۔
⓬ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام مہدی کا ظہور مشرقی ممالک سے ہوگا سامرا کی غار سے نہیں جیسا کہ بعض جاہل رافضیوں کا خیال ہے اہل مشرق ان کی مساعدت کریں گے اور ان کی حکومت قائم کریں گے ، ان کے سیاہ جھنڈے ہوں گے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا تھا۔ بیت اللہ کے نزدیک ان کی بیعت کی جائے گی۔
(النهاية 27/1)
⓭ امام مہدی جس دن ظاہر ہوں گے وہ عام دنوں سے خاصا طویل ہوگا اور یہ بھی ظہور مہدی کی ایک نشانی ہوگی۔
(دیکھئے ابو داؤد : کتاب المهدی 4279)
⓮ امام مہدی بیت اللہ میں پناہ لیں گے کیونکہ کچھ لوگ بغرض جنگ ان کی طرف پیش قدمی کریں گے مگر اللہ تعالیٰ ان سب کو بیت اللہ پہنچنے سے پہلے ہی بیدا چٹیل میدان میں زمین کے اندر دھنسا دیں گے۔
(دیکھئے مسلم : کتاب الفتن : باب الخسف بالجيش الذى يؤم البيت 2884)
⓯ مذکورہ لشکر کا زمین میں دھنس جانا امام مہدی کی مقبولیت کے لئے جلتی پر تیل کا کام دے گا اور لوگ مذکورہ نشانی دیکھ کر ان کے مہدی ہونے کو تسلیم کرلیں گے اور جوق در جوق ان کی بیعت کے لئے نکلیں گے۔ ایک حدیث بھی اس کی شاہد ہے گو اس کی صحت میں اختلاف ہے۔
(دیکھیے ابو داؤد : کتاب المهدى 4280)
⓰ بیت اللہ میں امام مہدی کی بیعت لیں گے جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ :
عن أبى قتادة رضى الله عنه قال أن رسول الله قال : يبايع لرجل ما بين الركن والمقام
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان ایک آدمی (امام مہدی) کی بیعت کی جائے گی۔
(احمد 312، ابن ابى شيبة 612/8 ، مجمع الزوائد 642/3)
⓱ کچھ روایات میں ہے کہ امام مہدی کا لشکر خراسان کی طرف سے آئے گا مگر خراسان والی کوئی روایت بھی بسند صحیح ثابت نہیں۔
⓲ ظہور مہدی کے بارے میں بہت سی احادیث مذکور ہیں جن میں صحیح اور ضعیف ہر طرح کی روایات پائی جاتی ہیں مگر صحیح روایات کو نظر انداز کر کے ضعیف روایات کی روشنی میں یہ نظریہ اپنانا کہ امام مہدی کا ظہور شیعہ کے امام مہدی موعود کی طرح ڈرامائی اور حقیقت سے دور ہے نا انصافی ہے کیونکہ سینکڑوں ضعیف روایات میں اگر ایک روایت بھی سند ومتن کے لحاظ سے صحیح ثابت ہو جائے تو اسے تسلیم کرنا اور فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر اس پر ایمان لانا ایمان کا تقاضہ ہے جبکہ امام مہدی کے بارے میں ایک دو نہیں بلکہ بے شمار صحیح روایات موجود ہیں جن پر محدثین نے تواتر کا حکم لگایا ہے اور ظہور مہدی کے اثبات میں مستقل کتابیں تصنیف کی ہیں۔
⓳ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امام مہدی کی بہت سی صفات و علامات بیان فرمادی ہیں جن کی روشنی میں امام مہدی کی پہچان امت کے لئے آسان ہے۔
(20) تا حال ظہور مہدی کی نشانی ظاہر نہیں ہوئی اگر چہ تاریخ میں بہت سے لوگوں نے مہدی موصوف سے متعلقہ احادیث کو غلط پہناوا دے کر مہدویت کا ڈھونگ رچایا مگر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہی ان کے کذب و افترا کو نمایاں کر دیا اور آج بھی اگر کوئی خواہ مخواہ ایسی جرات کرنے کی کوشش کرے گا تو دنیا میں ہی ذلیل ورسوا ہوگا۔ البتہ عوام کو چاہیے کہ جعلی مھدیوں سے بچنے کے لئے احادیث کی روشنی میں اصلی امام مہدی کی علامات وصفات یادرکھیں۔