کھانے سے پہلے بسم اللہ، کھانا کھلانے اور حلال کھانے کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

كتاب الأطعمة

کھانا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنا

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أكل أحدكم طعاما فليقل : بسم الله ، فإن نسي فى الأول فليقل فى الآخر : بسم الله فى أوله وآخره
”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ بسم اللہ پڑھے۔ اور اگر وہ شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو آخر پر یوں پڑھے: بسم الله فى أوله وآخره۔ اللہ کے نام کے ساتھ اس کے شروع اور اس کے آخر میں“۔
ابوداؤد، كتاب الأطعمة 3767۔ ترمذی، کتاب الاطعمة 1858 روایت صحیح ہے۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے، اتنے میں ایک اعرابی آیا تو اس نے اسے دو لقموں میں کھا لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أما لو أنه سمىٰ لكفاكم
”اگر وہ بسم اللہ پڑھ لیتا تو یہ کھانا تمہیں کافی ہوتا“۔
ابوداؤد، كتاب الاطعمة 3767۔ ترمذى، كتاب الاطعمة 1858۔ روایت صحیح ہے۔

کھانا کھلانے کے متعلق احکامات

① سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تطعم الطعام ، وتقرأ السلام علىٰ من عرفت وعلىٰ من لا تعرف
”کھانا کھلاؤ اور جسے جانتے ہو اسے بھی اور جسے نہیں جانتے اسے بھی سلام کرو“۔
بخارى، الإستئذان، حديث 6236۔ مسلم، كتاب الإيمان، باب بیان تفاضل الاسلام، حدیث 39/63۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
طعام الاثنين كافي الثلاثة ، وطعام الثلاثة كافي الأربعة
”دو افراد کا کھانا تین کے لیے اور تین افراد کا کھانا چار کے لیے کافی ہے“۔
بخاري، كتاب الأطعمة، حديث 5392۔ مسلم، كتاب الأشربة، حديث 2058/178۔
③ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
طعام الواحد يكفي الاثنين ، وطعام الاثنين يكفي الأربعة ، وطعام الأربعة يكفي الثمانية
”ایک کا کھانا دو کے لیے، دو کا کھانا چار کے لیے اور چار کا کھانا آٹھ کے لیے کافی ہے“۔
مسلم، كتاب الأشربة، حدیث 2059/179۔

حلال کھانے کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله تعالىٰ طيب لا يقبل إلا طيبا ، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين ، فقال تعالىٰ :
﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا﴾
(سورة المؤمنون: 51)
وقال تعالىٰ :
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾
(سورة البقرة: 172)
ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعت أغبر يمد يديه إلى السماء : يا رب ، يا رب ، ومطعمه حرام ، ومشربه حرام ، وملبسه حرام ، وغذي بالحرام ، فأنىٰ يستجاب لذٰلك؟
”بیشک اللہ تعالیٰ طیب و پاک ہے اور پاکیزہ چیزیں قبول کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس چیز کا حکم فرمایا جس کا رسولوں کو حکم فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
” اے رسولو، پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو.“
نیز فرمایا:
”اے ایمان والو! ہم نے جو پاکیزہ چیزیں تمہیں دی ہیں ان میں سے کھاؤ.“
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کا ذکر کیا جو دور دراز کا سفر طے کرتا ہے، اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں، پاؤں گرد آلود ہیں، وہ آسمان کی طرف اپنے ہاتھ دراز کر کے دعا کرتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب!۔ حالانکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور اس کی پوری نشوونما حرام سے ہوئی ہو تو اب اس کی دعائیں کیسے قبول ہوں؟“
مسلم، حدیث 1015۔ ترمذی 2989۔
② سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أكل طيبا وعمل صالحا فى سنة وأمن الناس من بوائقه دخل الجنة
”جو شخص پاکیزہ چیزیں کھاتا ہے اور سنت کے مطابق عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی شرارتوں سے محفوظ ہیں تو وہ جنت میں داخل ہوگا“۔
ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! کیا اس دور میں تو یہ چیزیں بہت سے لوگوں میں ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فسيكون فى قرون بعدي
”یہ میرے بعد کے ادوار میں ہوگا“۔
الترمذى، 2520۔ ضعيف سنن۔ ايضًا مشکوة شریف۔ یہ حدیث ضعیف ہے۔ اس میں ابو بشر صاحب ابی وائل مجہول ہے۔ دیکھئے التقريب 7950۔
③ سیدنا ابو تمیمہ، سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا:
”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں وصیت فرمائیں۔ “
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أول ما ينتن من الإنسان بطنه ، فمن استطاع أن لا يأكل إلا طيبا فليفعل ، ومن استطاع أن لا يحال بينه وبين الجنة بملء كف دم هراقه فليفعل
”انسان کے جسم میں سے اس کا پیٹ سب سے پہلے گلے سڑے گا۔ پس جو شخص پاکیزہ چیزیں کھانے کی استطاعت رکھتا ہو تو اسے ضرور ایسا کرنا چاہئے۔ اور جو شخص استطاعت رکھتا ہو کہ اس کے درمیان اور جنت کے درمیان لپ بھر خون حائل نہ ہو تو اسے ضرور ایسا کرنا چاہئے“۔
بخاری، کتاب الاحكام، باب من شاق شق الله عليه مشكوة باب التوکل والصبر الجزء الثاني حديث 7152۔ یہ ایک لمبی حدیث کا حصہ ہے۔