ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزمر (39) — آیت 35

لِیُکَفِّرَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا وَ یَجۡزِیَہُمۡ اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِیۡ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۳۵﴾
تاکہ اللہ ان سے وہ بد ترین عمل دور کر دے جو انھوں نے کیے اور انھیں ان کا اجر ان بہترین اعمال کے مطابق دے جو وہ کیا کرتے تھے۔ En
تاکہ خدا ان سے برائیوں کو جو انہوں نے کیں دور کردے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے ان کو بدلہ دے
En
تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کردے اور جو نیک کام انہوں نے کیے ہیں ان کا اچھا بدلہ عطا فرمائے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 35) ➊ { لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِيْ عَمِلُوْا: لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ } محذوف فعل {أَعْطَاهُمْ ذٰلِكَ} کے متعلق ہے، یعنی اللہ تعالیٰ انھیں یہ جزا دے گا، تاکہ وہ ان سے وہ بدترین عمل دور کر دے جو انھوں نے کیے…۔ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کے ساتھ عدل سے بڑھ کر فضل کا معاملہ فرمائے گا۔ عدل یہ ہے کہ نیکیوں اور برائیوں کو برابر شمار کرکے جزا دی جائے، جب کہ فضل یہ ہے کہ برائی صرف ایک لکھی جائے اور نیکی دس گنا سے سات سو گنا یا بے حساب لکھی جائے، فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ» ‏‏‏‏ [الزمر: ۱۰] صرف کامل صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔ اسی فضل کی بدولت اللہ تعالیٰ اپنے متقی بندوں کے سب سے برے اعمال دور کر دے گا۔ جب سب سے برے اعمال دور ہو گئے تو کم برے اعمال بھی دور کر دے گا۔ چنانچہ اگر وہ پہلے کافر ہیں تو اسلام لانے کی بدولت پہلے گناہ معاف کر دے گا، اگر مسلمان تھے تو توبہ، ہجرت، حج اور ان کے تقویٰ کی وجہ سے ان کے تمام گناہ دور کر دے گا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ يُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ» ‏‏‏‏ [الأنفال: ۲۹] اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمھارے لیے (حق و باطل میں) فرق کرنے کی بڑی قوت بنا دے گا اور تم سے تمھاری برائیاں دور کر دے گا اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ مائدہ (۶۵)، سورۂ محمد (۲)، تغابن (۹)، عنکبوت (۷) اور احقاف (۱۶)۔
➋ { وَ يَجْزِيَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ:} یعنی انھیں ان کے اعمال کا بدلا ان کے ان اعمال کے لحاظ سے دیا جائے گا جو ان کے نامہ اعمال میں بہترین ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے کم تر درجے کے اعمال بھی بہترین بنا دیے جائیں گے اور ایک نیکی کا بدلا دس گنا سے سات سو گنا تک بلکہ بغیر حساب کے دیا جائے گا۔ دیکھیے سورۂ نحل (۹۶، ۹۷) اور طور (۲۱)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

35۔ تاکہ اللہ ان سے وہ برائیاں دور کر دے جو انہوں [51] نے کی تھیں اور جو اچھے کام وہ کرتے رہے انہی کے لحاظ سے انہیں ان کا اجر عطا کرے
[51] یعنی ایسے متقین نے اگر اپنے دور جاہلیت میں کچھ گناہ کے کام کئے بھی تھے تو اللہ ان کو محو کر دے گا۔ پھر اسلام لانے کے بعد انہوں نے جو اچھے کام کئے تھے ان میں سے جو کام سب سے بہتر ہو گا اسی کی جزا کے مطابق دوسرے عملوں کی بھی جزا دی جائے گی خواہ وہ اس پایہ کے نہ ہوں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لِیُكَ٘ـفِّ٘رَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَیَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ تاکہ اللہ ان سے برائیوں کو جو انھوں نے کیں دور کرے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے بہتر بدلہ دے۔ انسانی عمل کے تین احوال ہیں: اول: بدترین عمل۔دوم: بہترین عمل۔ سوم: نہ برا نہ اچھا۔
یہ آخری قسم مباحات کے زمرے میں آتی ہے، جن پر کوئی ثواب وعقاب مترتب نہیں ہوتا۔ بدترین اعمال سب معاصی اور بہترین اعمال سب نیکیاں ہیں۔ اس تفصیل سے آیت کریمہ کا معنی واضح ہو جاتا ہے۔ فرمایا: ﴿لِیُكَ٘ـفِّ٘رَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا یعنی ان کے تقویٰ اور احسان کے سبب سے ان کے صغیرہ گناہوں کو مٹا دے گا۔ ﴿وَیَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ یعنی ان کی نیکیوں اور تقویٰ کے سبب سے ان کو ان کی تمام نیکیوں کا اجر ملے گا۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَاِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا (النساء:4؍40) اللہ کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتااگر نیکی ہو تو وہ اسے دوگنا کر دیتا ہے اور اسے اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لِيُكَفِّرَ اللهُ عنهم أسوأ الذي عَمِلوا ويَجْزِيَهم أجْرَهُم بأحسن الذي كانوا يعملونَ}: عملُ الإنسانِ له ثلاثُ حالاتٍ: إمَّا أسوأ، أو أحسن، أو لا أسوأ ولا أحسن، والقسمُ الأخيرُ قسمُ المباحات وما لا يتعلَّق به ثوابٌ ولا عقابٌ، والأسوأ المعاصي كلُّها، والأحسنُ الطاعاتُ كلُّها. فبهذا التفصيل يتبيَّن معنى الآيةِ، وأنَّ قولَه {لِيُكَفِّرَ الله عنهم أسوأ الذي عَمِلوا}؛ أي: ذنوبهم الصغارَ والكبار بسبب إحسانِهِم وتقواهم، {ويَجْزِيَهم أجْرَهم بأحسنِ الذي كانوا يعملون}؛ أي: بحسناتِهِم كلِّها، {إنَّ الله لا يَظْلِمُ مثقالَ ذَرَّةٍ وإن تَكُ حسنةً يضاعِفْها ويُؤْتِ من لَدُنْه أجراً عظيماً}.