قیامت کی نشانی : حیوانات و جمادات انسانوں سے ہم کلام ہوں گے
عن أبى سعيد الخدري رضى الله عنه قال قال النبى صلى الله عليه وسلم : والذي نفسي بيده لا تقوم الساعة حتى يكلم السباع الإنس ويكلم الرجل عذبة سوطه وشراك نعله ويخبره فخذه بما أحدث أهله بعده
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ درندے انسانوں سے گفتگو کریں گے اور آدمی کا کوڑا اور اس کے جوتے کا تسمہ بھی اس سے باتیں کرے گا نیز آدمی کی ران اسے اس کے اہل خانہ کی اس کی عدم موجودگی میں ہونے والی باتوں سے آگاہ کرے گی۔
احمد (3/105-111) حاكم (4/514) شرح السنة (4177) ترمذی (2181) السلسلة الصحيحة (1/241) ابن حبان (14/418) ابن ابي شيبة (8/664) البداية والنهاية (6/150) البزار (13143)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بھیڑیئے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اٹھا کر چلتا بنا۔ چرواہے نے بھیڑیئے کا تعاقب کیا اور اس سے بکری چھڑانے میں کامیاب ہو گیا۔ بھیڑیا اپنے انداز میں بیٹھ کر کہنے لگا : تجھے اللہ کا خوف نہیں کہ تو مجھ سے ایسا رزق چھین رہا ہے جسے اللہ تعالی نے میرا مقدر ٹھہرا رکھا ہے؟ چرواہے نے تعجب بھرے انداز سے کہا : بھیڑیا! اور مجھ سے انسانوں کی طرح باتیں کر رہا ہے؟ بھیڑیئے نے کہا : کیا میں تمہیں اس سے بھی عجیب بات کی خبر نہ دوں! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تو یثرب (مدینے) میں لوگوں کو ماضی کی باتوں سے آگاہ کر رہے ہیں۔ یہ سن کر چرواہا فوراً بکریاں ہانکتا مدینے جا پہنچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا واقعہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے سچ کہا ہے، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ درندے انسانوں سے باتیں کریں گے، آدمی کا کوڑا اور جوتے کا تسمہ اس سے ہمکلام ہوگا علاوہ ازیں اس کی ران اسے اس کی عدم موجودگی میں اس کے گھر میں ہونے والی باتوں سے باخبر کرے گی۔
ترمذی (2181) ابن حبان (6494) حاكم (4/514) بزار (2431) دلائل النبوة (6/41) ابن ابی شيبة (101) شرح السنة (4177) احمد (3/105) البداية (6/151) السلسلة الصحيحة (1/241)
ایک روایت میں ہے کہ وہ آدمی (چرواہا) یہودی تھا اور اس واقعہ کے بعد مسلمان ہو گیا۔
احمد (2/404)
مذکورہ واقعہ بالار اختصار بخاری و مسلم میں بھی ہے اور اس میں یہ لفظ بھی ہیں کہ اس عجیب و غریب واقعہ پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حیران ہو کر سبحان اللہ پکارنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
أمنت به وأبو بكر وعمر
میں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما اس پر ایمان لاتے ہیں۔
بخاری : کتاب فضائل اصحاب النبي : باب قول النبي لو كنت متخذا خليلا (3663) مسلم (2388)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے فارغ ہوئے تو صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف رخ انور کر کے ارشاد فرمایا : ایک آدمی (کھیتی باڑی کے لئے) گائے ہانک رہا تھا تو اچانک اس پر سوار ہو کر اسے مارنے لگا۔ گائے نے کہا کہ ہمیں اس (سواری) کے لئے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ ہمیں تو کھیتی باڑی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اس پر لوگ متعجبانہ انداز میں سبحان اللہ پکارنے لگے کیا گائے گفتگو کرتی ہے! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما اس پر ایمان رکھتے ہیں۔
بخاری: کتاب احادیث الانبياء (3471)
فوائد :
➊ حیوانات و جمادات کا انسانوں سے ہمکلام ہونا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ حیوانات کا ہمکلام ہونا تو عہد نبوی سے ثابت ہو چکا ہے البتہ جمادات کا ہمکلام ہونا بھی ظاہر ہو کر رہے گا۔
➌ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حیران ہوئے کہ حیوان بھی گفتگو کر سکتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثبت جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ میرا تو ایمان ہے کہ ایسا ممکن ہے۔
➍ جس ذات باری تعالیٰ نے انسان کو قوت گویائی بخشی ہے وہ جب چاہے حیوانات و جمادات کو بھی قوت گویائی بخش سکتی ہے۔ ان الله على كل شئ قدير
➎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کی اس بات پر تصدیق فرمائی کہ بھیڑیے نے اس سے گفتگو کی ہے جبکہ ہمارے ہاں کئی بد بخت ایسے ہیں جو اللہ کے محبوب، انبیاء کے سردار، انس و جن کے امام، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ پیش گوئی (حدیث) کو سچا نہیں گردانتے ان کے اعتراضات کے تسلی بخش جوابات کے لئے ملاحظہ ہو پیش گوئیوں کی حقیقت۔