تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ:} یعنی ایک تو وہ فقراء ہیں پھر مہاجر ہیں۔ مراد ان سے وہ لوگ ہیں جو اس وقت مکہ معظمہ اور عرب کے دوسرے علاقوں سے صرف اس جرم میں نکال دیے گئے تھے کہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ یہ لوگ اپنے وطن میں گھر بار اور جائداد وغیرہ سب کچھ رکھتے تھے مگر اب خالی ہاتھ تھے، نہ ان کے پاس رہنے کے لیے گھر تھے نہ ضرورت کے لیے مال۔ بنو نضیر کا علاقہ فتح ہونے سے پہلے ان کی رہائش اور معاش کا کوئی مستقل بندوبست نہ تھا۔ انصار نے انھیں اپنے ساتھ اپنے گھروں میں رکھا ہوا تھا اور انھیں اپنے باغات اور زمینوں کی آمدنی میں بھی شریک کر رکھا تھا۔ اس آیت میں فرمایا کہ یہ لوگ مالِ فے کے حق دار ہیں، تاکہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے مشورے سے بنو نضیر کے باغات اور زمینیں فقراء مہاجرین میں تقسیم کر دیں اور ان کے پاس انصار کی جو زمینیں اور باغات تھے وہ انصار کو واپس کر دیے گئے۔ صرف دو انصاریوں کو ان اموال میں سے کچھ نہ کچھ دیا گیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مال فے میں صرف اس زمانے کے مہاجرین کا حصہ تھا، بلکہ قیامت تک جو لوگ مسلمان ہونے کی وجہ سے اپنے ملک سے نکال دیے جائیں انھیں جگہ دینا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانا مسلمان ملکوں کا فرض ہے۔ اس کے لیے زکوٰۃ کے علاوہ اموال فے بھی خرچ کیے جائیں گے۔
➌ { يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا:} یعنی ہجرت سے ان کا مقصد دنیا کی کوئی چیز نہیں، بلکہ انھوں نے محض اللہ کا فضل یعنی جنت اور اس کی رضا کی تلاش کے لیے ہجرت کی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے وعدہ فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۷۲) کی تفسیر۔
➍ { وَ يَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ:} اور وہ اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی یعنی ان کے دین کی مدد کرتے ہیں۔
➎ { اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ:} یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے عمل کے ساتھ اپنے قول میں سچے ہونے کو ثابت کر دیا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کے صادق ہونے کی شہادت دی ہے، اگلی آیت میں انصار کے بھی {” الْمُفْلِحُوْنَ “} ہونے کی شہادت دی ہے۔ سورۂ انفال میں دونوں کے متعلق فرمایا: «اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا» [الأنفال: ۷۳] ”وہی سچے مومن ہیں۔“ اب اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو ان کے صدق یا ایمان میں شک کرے یا ان کے متعلق زبان درازی کرے!؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر انصار کی مدح بیان ہو رہی ہے اور ان کی فضیلت، شرافت، کرم اور بزرگی کا اظہار ہو رہا ہے، ان کی کشادہ دلی، نیک نفسی، ایثار اور سخاوت کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے مہاجرین سے پہلے ہی دارالہجرت مدینہ میں اپنی بود و باش رکھی اور ایمان پر قیام رکھا، مہاجرین کے پہنچنے سے پہلے ہی یہ ایمان لا چکے تھے بلکہ بہت سے مہاجرین سے بھی پہلے یہ ایماندار بن گئے تھے۔
مسند احمد میں ہے کہ { مہاجرین نے ایک مرتبہ کہا: یا رسول اللہ! ہم نے تو دنیا میں ان انصار جیسے لوگ نہیں دیکھے تھوڑے میں سے تھوڑا اور بہت میں سے بہت، برابر ہمیں دے رہے ہیں، مدتوں سے ہمارا کل خرچ اٹھا رہے ہیں بلکہ ناز برداریاں کر رہے ہیں اور کبھی چہرے پر شکن بھی نہیں بلکہ خدمت کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں، دیتے ہیں اور احسان نہیں رکھتے کام کاج خود کریں اور کمائی ہمیں دیں، اے اللہ کے رسول! ہمیں تو ڈر ہے کہ کہیں ہمارے اعمال کا سارا کا سارا اجر انہی کو نہ مل جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، نہیں جب تک تم ان کی ثناء اور تعریف کرتے رہو گے اور ان کے لیے دعائیں مانگتے رہو گے۔“ } ۱؎ [مسند احمد:201/3:صحیح]
صحیح بخاری میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاریوں کو بلا کر فرمایا کہ میں بحرین کا علاقہ تمہارے نام لکھ دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! جب تک آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی اتنا ہی نہ دیں ہم اسے نہ لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا، اگر نہیں لیتے تو دیکھو آئندہ بھی صبر کرتے رہنا میرے بعد ایسا وقت بھی آئے گا کہ اوروں کو دیا جائے گا اور تمہیں چھوڑ دیا جائے گا۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:3894]
صحیح بخاری کی اور حدیث میں ہے کہ { انصاریوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہمارے کھجوروں کے باغات ہم میں اور ہمارے مہاجر بھائیوں میں تقسیم کر دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، پھر فرمایا: ”سنو! کام کاج بھی تم ہی کرو اور ہم سب کو تم پیداوار میں شریک رکھو“، انصار نے جواب دیا یا رسول اللہ! ہمیں یہ بھی بخوشی منظور ہے۔“ } [صحیح بخاری:2325]
اسی مطلب پر اس حدیث کی دلالت بھی ہے جو مسند احمد میں انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ { ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی ایک جنتی شخص آنے والا ہے“، تھوڑی دیر میں ایک انصاری رضی اللہ عنہ اپنے بائیں ہاتھ میں اپنی جوتیاں لیے ہوئے تازہ وضو کر کے آ رہے تھے، داڑھی پر سے پانی ٹپک رہا تھا، دوسرے دن بھی اسی طرح ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور وہی شخص اسی طرح آئے تیسرے دن بھی یہی ہوا سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ آج دیکھتے بھالتے رہے اور جب مجلس نبوی ختم ہوئی اور یہ بزرگ وہاں سے اٹھ کر چلے تو یہ بھی ان کے پیچھے ہو لیے اور انصاری رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے مجھ میں اور میرے والد میں کچھ بول چال ہو گئی ہے جس پر میں قسم کھا بیٹھا ہوں کہ تین دن تک اپنے گھر نہیں جاؤں گا پس اگر آپ مہربانی فرما کر مجھے اجازت دیں تو میں یہ تین دن آپ کے ہاں گزار دوں، انہوں نے کہا بہت اچھا چنانچہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ تین راتیں ان کے گھر ان کے ساتھ گزاریں، دیکھا کہ وہ رات کو تہجد کی لمبی نماز بھی نہیں پڑھتے صرف اتنا کرتے ہیں کہ جب آنکھ کھلے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی بڑائی اپنے بستر پر ہی لیٹے لیٹے کر لیتے ہیں یہاں تک کہ صبح کی نماز کے لیے اٹھیں، ہاں یہ ضروری بات تھی کہ میں نے ان کے منہ سے سوائے کلمہ خیر کے اور کچھ نہیں سنا، جب تین راتیں گزر گئیں تو مجھے ان کا عمل بہت ہی ہلکا سا معلوم ہونے لگا، اب میں نے ان سے کہا کہ دراصل نہ تو میرے اور میرے والد صاحب کے درمیان کوئی ایسی باتیں ہوئی تھیں، نہ میں نے ناراضگی کے باعث گھر چھوڑا تھا بلکہ واقعہ یہ ہوا کہ تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ایک جنتی شخص آ رہا ہے اور تینوں مرتبہ آپ ہی آئے تو میں نے ارادہ کیا کہ آپ کی خدمت میں کچھ دن رہ کر دیکھوں تو سہی کہ آپ ایسی کون سی عبادتیں کرتے ہیں جو جیتے جی بہ زبان رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے جنتی ہونے کی یقینی خبر ہم تک پہنچ گئی۔ چنانچہ میں نے یہ بہانہ کیا اور تین رات تک آپ کی خدمت میں رہا تاکہ آپ کے اعمال دیکھ کر میں بھی ویسے ہی عمل شروع کر دوں لیکن میں نے تو آپ کو نہ تو کوئی نیا اور اہم عمل کرتے ہوئے دیکھا، نہ عبادت میں ہی اوروں سے زیادہ بڑھا ہوا دیکھا، اب جا رہا ہوں لیکن زبانی ایک سوال ہے کہ آپ ہی بتائیے آخر وہ کون سا عمل ہے جس نے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی جنتی بنایا؟ آپ نے فرمایا: بس تم میرے اعمال تو دیکھ چکے ان کے سوا اور کوئی خاص پوشیدہ عمل تو ہے نہیں چنانچہ میں ان سے رخصت ہو کر چلا تھوڑی ہی دور نکلا تھا جو انہوں نے مجھے آواز دی اور فرمایا: ہاں میرا ایک عمل سنتے جاؤ وہ یہ کہ میرے دل میں کبھی کسی مسلمان سے دھوکہ بازی، حسد اور بغض کا ارادہ بھی نہیں ہوا، میں کبھی کسی مسلمان کا بدخواہ نہیں بنا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بس اب معلوم ہو گیا اسی عمل نے آپ کو اس درجہ تک پہنچایا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو ہر ایک کے بس کی نہیں امام نسائی بھی اپنی کتاب «عمل الیوم واللیله» میں اس حدیث کو لائے ہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:166/3:صحیح]
غرض یہ ہے کہ ان انصار میں یہ وصف تھا کہ مہاجرین کو اگر کوئی مال وغیرہ دیا جائے اور انہیں نہ ملے تو یہ برا نہیں مانتے تھے، بنو نضیر کے مال جب مہاجرین ہی میں تقسیم ہوئے تو کسی انصاری نے اس میں کلام کیا جس پر آیت «مَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ» ۱؎ [59-الحشر:7] اتری۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے مہاجر بھائی مال و اولاد چھوڑ کر تمہاری طرف آتے ہیں“، انصار نے کہا: پھر اے اللہ کے رسول! ہمارا مال ان میں اور ہم میں برابر بانٹ دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے بھی زیادہ ایثار کر سکتے ہو؟“ انہوں نے کہا جو آپ کا ارشاد ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر کھیت اور باغات کا کام نہیں جانتے تم خود اپنے مال کو قبضہ میں رکھو، خود کام کرو، خود باغات میں محنت کرو اور پیداوار میں انہیں شریک کر دو۔ انصار نے اسے بھی بہ کشادہ پیشانی منظور کر لیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33874:مرسل]
ایک صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { جس کے پاس کمی اور قلت ہو خود کو ضرورت ہو اور پھر بھی صدقہ کرے اس کا صدقہ افضل اور بہتر ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1677،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ درجہ ان لوگوں کے درجہ سے بھی بڑھا ہوا ہے جن کا ذکر اور جگہ ہے کہ مال کی چاہت کے باوجود اسے راہ اللہ خرچ کرتے ہیں لیکن یہ لوگ تو خود اپنی حاجت ہوتے ہوئے صرف کرتے ہیں، محبت ہوتی ہے اور حاجت نہیں ہوتی، اس وقت کا خرچ اس درجہ کو نہیں پہنچ سکتا کہ خود کو ضرورت ہو اور پھر بھی راہ اللہ دے دینا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا صدقہ اسی قسم سے ہے کہ { آپ نے اپنا کل مال لا کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈھیر لگا دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا بھی ”ابوبکر! کچھ باقی بھی رکھ آئے ہو؟“ جواب دیا، اللہ اور اس کے رسول کو باقی رکھ آیا ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1678،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اسی طرح وہ واقعہ ہے جو جنگ یرموک میں عکرمہ رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کو پیش آیا تھا کہ میدان جہاد میں زخم خوردہ پڑے ہوئے ہیں ریت اور مٹی زخموں میں بھر رہی ہے کہ کراہ رہے ہیں، تڑپ رہے ہیں، سخت تیز دھوپ پڑ رہی ہے، پیاس کے مارے حلق چیخ رہا ہے، اتنے میں ایک مسلمان کندھے پر مشک لٹکائے آ جاتا ہے اور ان مجروح مجاہدین کے سامنے پیش کرتا ہے۔ لیکن ایک کہتا ہے اس دوسرے کو پلاؤ، دوسرا کہتا ہے اس تیسرے کو پہلے پلاؤ وہ ابھی تیسرے تک پہنچا بھی نہیں کہ ایک شہید ہو جاتا ہے، دوسرے کو دیکھتا ہے کہ وہ بھی پیاسا ہی چل بسا، تیسرے کے پاس آتا ہے لیکن دیکھتا ہے کہ وہ بھی سوکھے ہونٹوں ہی اللہ سے جا ملا۔ اللہ تعالیٰ ان بزرگوں سے خوش ہو اور انہیں بھی اپنی ذات سے خوش رکھے۔ [مستدرک حاکم:232/3:ضعیف]
اور سند سے یہ بھی مروی ہے کہ فحش سے بچو، اللہ تعالیٰ فحش باتوں اور بے حیائی کے کاموں کو ناپسند فرماتا ہے۔ حرص اور بخیلی کی مذمت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ { اسی کے باعث اگلوں نے ظلم کئے فسق و فجور کئے اور قطع رحمی کی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1698،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد وغیرہ میں ہے { اللہ کی راہ کا غبار اور جہنم کا دھواں کسی بندے کے پیٹ میں جمع ہو ہی نہیں سکتا اسی طرح بخیلی اور ایمان بھی کسی بندہ کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ } ۱؎ [سنن نسائی:0000،قال الشيخ الألباني:صحیح] یعنی راہ اللہ کی گرد جس پر پڑی وہ جہنم سے آزاد ہو گیا اور جس کے دل میں بخیلی نے گھر کر لیا اس کے دل میں ایمان کی رہنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر ایک شخص نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن میں تو ہلاک ہو گیا آپ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ کہا: قرآن میں تو ہے جو اپنے نفس کی بخیلی سے بچا دیا گیا اس نے فلاح پا لی اور میں تو مال کو بڑا روکنے والا ہوں، خرچ کرتے ہوئے دل رکتا ہے، آپ نے فرمایا اس کنجوسی کا ذکر اس آیت میں نہیں، یہاں مراد بخیلی سے یہ ہے کہ تو اپنے کسی مسلمان بھائی کا مال ظلم سے کھا جائے، ہاں بخیلی بہ معنی کنجوسی بھی ہے بہت بری چیز ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:29/28:]
ابولہیاج اسدی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک صاحب صرف یہی دعا پڑھ رہے ہیں «اللَّهُمَّ قِنِي شُحّ نَفْسِي» الٰہی مجھے میرے نفس کی حرص و آڑ سے بچا لے۔ آخر مجھ سے نہ رہا گیا میں نے کہا آپ صرف یہی دعا کیوں مانگ رہے ہیں؟ اس نے کہا جب اس سے بچاؤ ہو گیا تو پھر نہ تو زنا کاری ہو سکے گی، نہ چوری اور نہ کوئی برا کام، اب جو میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:41/12:]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر تعالى الحكمة والسبب الموجب لجعله تعالى أموال الفيء لمن قدَّرها له، وأنَّهم حقيقون بالإعانة، مستحقُّون لأن تُجعل لهم، وأنهم ما بين مهاجرين؛ قد هجروا المحبوبات والمألوفات من الديار والأوطان والأحباب والخلان والأموال رغبةً في الله ونصرةً لدين الله ومحبةً لرسول الله؛ فهؤلاء هم الصادقون؛ الذين عملوا بمقتضى إيمانهم، وصدَّقوا إيمانَهم بأعمالهم الصالحة والعبادات الشاقَّة؛ بخلاف مَنِ ادَّعى الإيمان وهو لم يصدِّقْه بالجهاد والهجرة وغيرهما من العبادات، وبين أنصار، وهم الأوس والخزرج، الذين آمنوا بالله ورسوله طوعاً ومحبةً واختياراً، وآووا رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، ومنعوه من الأحمر والأسود، وتبوَّءوا دار الهجرة والإيمان، حتى صارت موئلاً ومرجعاً يرجع إليه المؤمنون، ويلجأ إليه المهاجرون، ويسكن بحماه المسلمون؛ إذ كانت البلدانُ كلُّها بلدانَ حربٍ وشركٍ وشرٍّ، فلم يزل أنصارُ الدين يأوون إلى الأنصار، حتى انتشر الإسلام وقوي وجعل يزداد - شيئاً فشيئاً، [وينمو قليلاً قليلاً] حتى فتحوا القلوبَ بالعلم والإيمان والقرآن، والبلدانَ بالسيف والسنان، الذين من جُملة أوصافهم الجميلة أنهم {يحبُّون مَن هاجَر إليهم}، وهذا لمحبَّتهم لله ورسوله، أحبُّوا أحبابه، وأحبُّوا من نصر دينه. {ولا يجِدونَ في صدورهم حاجةً مما أوتوا}؛ أي: لا يحسُدون المهاجرين على ما آتاهم الله من فضلهِ وخصَّهم به من الفضائل والمناقب الذين هم أهلها.
وهذا يدلُّ على سلامة صدورهم وانتفاء الغلِّ والحقد والحسد عنها، ويدلُّ ذلك على أنَّ المهاجرين أفضل من الأنصار؛ لأنَّ الله قدَّمهم بالذِّكر، وأخبر أنَّ الأنصارَ لا يجدون في صدورهم حاجةً مما أوتوا، فدلَّ على أنَّ الله تعالى آتاهم ما لم يؤتِ الأنصارَ ولا غيرهم، ولأنَّهم جمعوا بين النصرة والهجرة، وقوله: {ويؤثِرونَ على أنفسِهِم ولو كان بهم خَصاصةٌ}؛ أي: ومن أوصاف الأنصار التي فاقوا بها غيرهم وتميَّزوا بها عمَّن سواهم الإيثار، وهو أكمل أنواع الجود، وهو الإيثار بمحابِّ النفس من الأموال وغيرها، وبذلها للغيرِ، مع الحاجة إليها، بل مع الضَّرورة والخَصاصة، وهذا لا يكون إلا من خُلُقٍ زكيٍّ ومحبَّة لله تعالى مقدَّمة على [محبة] شهوات النفس ولذَّاتها. ومن ذلك قصَّة الأنصاريِّ الذي نزلت الآية بسببه حين آثر ضيفَه بطعامه وطعام أهله وأولادِهِ وباتوا جياعاً.
والإيثار عكس الأثَرَةِ؛ فالإيثارُ محمودٌ، والأثَرَةُ مذمومةٌ؛ لأنَّها من خصال البخل والشحِّ، ومن رُزِق الإيثار؛ فقد وُقِيَ شُحَّ نفسِه، {ومَن يوقَ شُحَّ نفسهِ فأولئك همُ المفلحونَ}: ووقايةُ شحِّ النفس يشمل وقايتها الشحَّ في جميع ما أمر به؛ فإنَّه إذا وُقِيَ العبدُ شحَّ نفسه؛ سمحت نفسه بأوامر الله ورسوله، ففعلها طائعاً منقاداً منشرحاً بها صدرُه، وسمحت نفسه بترك ما نهى اللهُ عنه، وإنْ كان محبوباً للنفس؛ تدعو إليه وتطلَّع إليه، وسمحتْ نفسه ببذل الأموال في سبيل الله وابتغاءِ مرضاتِه، وبذلك يحصُلُ الفلاح والفوزُ؛ بخلاف مَنْ لم يوقَ شحَّ نفسه، بل ابْتُلِيَ بالشُّحِّ بالخير الذي هو أصل الشرِّ ومادته.