قناعت، دانائی، نفس کا محاسبہ اور غربت و ناداری کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

قناعت کے متعلق احکامات

① سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قد أفلح من أسلم ورزق كفافا وقنعه الله بما آتاه
”جس شخص نے اسلام قبول کر لیا، اسے گزارہ کے مطابق برابر برابر روزی دے دی گئی اور اللہ نے جو اسے دے رکھا ہے اس پر اسے دولتِ قناعت سے نواز دیا تو وہ کامیاب ہو گیا۔“
مسلم، کتاب الزکاة 1054، ترمذی، کتاب الزہد 2348، ابن ماجہ، کتاب الزہد 4138۔
② سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
طوبى لمن هدي إلى الإسلام وكان عيشه كفافا وقنع
”اس شخص کے لیے بشارت ہے جسے ہدایتِ اسلام سے نواز دیا گیا اور اس کی گزران برابر برابری ہے اور وہ قناعت کرنے والا ہے۔“
ترمذی، کتاب الزہد 2349، مسند احمد، باقی مسند الانصار 6 / 19۔ روایت صحیح ہے۔

دانائی کے متعلق احکامات

① سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے مابین فیصلہ کیا۔ جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا جب وہ پلٹا تو اس نے کہا: ”میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله يلوم على العجز ، ولكن عليك بالكيس فإذا غلبك أمر فقل: حسبي الله ونعم الوكيل
”اللہ بے بسی و لاچارگی پر ملامت کرتا ہے۔ لیکن تم پر دانائی اختیار کرنا لازم ہے۔ جب کوئی معاملہ تم پر غالب آ جائے تو کہا کرو: میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔“
ابو داؤد، کتاب الاقضیة 3627، مسند احمد، باقی مسند الانصار 24/6۔
② سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الكيس من دان نفسه وعمل لما بعد الموت ، والعاجز من أتبع نفسه هواها وتمنى على الله
”دانا وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو پہچانے اور موت کے بعد والی زندگی کے لیے عمل کرے۔ اور وہ شخص بے بس ہے جو اپنے آپ کو اپنی خواہشات کے پیچھے لگا لے، اور اللہ سے آرزو قائم کر لے۔“
ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق 2461، ابن ماجہ، کتاب الزہد 4260۔ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں ابو بکر بن ابی مریم ضعیف الحدیث ہے۔

نفس کا محاسبہ کرنے کے احکامات

① سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الكيس من دان نفسه وعمل لما بعد الموت ، والعاجز من أتبع نفسه هواها وتمنى على الله
”دانا وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو پہچانے اور موت کے بعد والی زندگی کے لیے عمل کرے اور وہ شخص عاجز ہے جو اپنے آپ کو خواہشاتِ نفس کے پیچھے لگا دے اور اللہ سے آرزوئیں کرے۔“
ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 2459۔ ابن ماجہ، کتاب الزہد 4260۔

غربت و ناداری کے احکامات

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا واحشرني فى زمرة المساكين يوم القيامة
”اے اللہ! مجھے مسکین زندہ رکھنا، مسکینی کی حالت میں موت دینا اور قیامت کے دن مساکین کے زمرے میں اکٹھا کرنا۔“
راوی بیان کرتے ہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنهم يدخلون الجنة قبل الأغنياء بأربعين خريفا ، يا عائشة لا تردي المسكين ولو بشق تمرة ، يا عائشة أحبي المساكين وقربيهم يقربك الله يوم القيامة
”اس لیے کہ وہ مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا! مساکین سے محبت کرنا اور انہیں قریب رکھنا، اللہ قیامت کے دن تمہیں قریب کرے گا۔“
ترمذی، کتاب الزہد 2352، بیہقی فی الکبریٰ 18/7۔
② سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قمت على باب الجنة فإذا عامة من دخلها المساكين ، وأصحاب الجد محبوسون ، غير أن أصحاب النار قد أمر بهم إلى النار ، وقمت على باب النار فإذا عامة من دخلها النساء
”میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والے زیادہ تر مساکین تھے جبکہ مال دار لوگوں کو روک دیا گیا تھا۔ لیکن یہ جہنمی مال دار نہیں ہوں گے کیونکہ انہیں تو پہلے ہی جہنم رسید کر دیا گیا تھا۔ پھر میں جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والی زیادہ تر عورتیں تھیں۔“
بخاری، کتاب الرقاق 6547، مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة الخ 2096/4 ح 273/93۔