رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کا ثواب
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ﴾
”آپ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کیا خرچ کریں، آپ کہہ دیجئے کہ جو مال بھی تم چاہو خرچ کرو والدین کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، یتیموں کے لیے مسکینوں کے لیے، اور مسافروں کے لیے، اور تم جو کارِ خیر بھی کرو گے، اللہ تعالیٰ کو اس کا پورا علم ہوتا ہے۔“
(2-البقرة:215)
﴿فَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾
”پس اے میرے نبی! آپ رشتہ دار کو اس کا حق دیجیے، اور مسکین کو، اور مسافر کو یہ ان کے لیے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی چاہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔“
(30-الروم:38)
لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وہ اپنے مال حلال میں سے اللہ کی راہ میں کیا خرچ کریں تو اللہ تعالیٰ نے ان کا جواب دیا، اور ان کی راہنمائی فرمائی کہ وہ کوئی بھی مالِ حلال اللہ کی راہ میں خرچ کر سکتے ہیں، چنانچہ انھیں تعلیم دی کہ انسان کی نیکی اور حسن سلوک کے سب سے زیادہ حقدار اس کے والدین ہیں۔ ان پر خرچ کرنا اور ان کے ساتھ حسن سلوک سب سے بڑی نیکی ہے، اور ان کے ضرورت مند ہونے کے باوجود ان پر خرچ نہ کرنا، ان کی سب سے بڑی نافرمانی ہے۔“ (تیسیر الرحمن: 117/1)
﴿وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ﴾
”اور اللہ نے جن رشتوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے وہ اسے جوڑتے ہیں، اور وہ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور حساب کی سختی کا کھٹکا رکھتے ہیں۔“
(13-الرعد:21)
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اور اس سے پہلے اور بعد والی آیات میں مومن بندوں کی صفات بیان فرمائی ہیں۔ جن میں سے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی و حسن سلوک سے پیش آنے والے بندے بھی ہیں۔ اور ان کے لیے انعامات و اکرامات کی فہرست کچھ اس انداز سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے:
﴿أُولَٰئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ .جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَن صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ. سَلَامٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ .﴾
”انہی لوگوں کے لیے آخرت کا گھر ہے، یعنی ہمیشہ رہنے کی جنتیں ہیں، جن میں وہ داخل ہو جائیں گے، اور ان کے آباء و اجداد، اور ان کی بیویوں، اور ان کی اولاد میں سے جو لوگ نیک ہوں گے، اور فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے، اور کہیں گے کہ آپ حضرات پر آپ کے صبر کی بدولت اللہ کی سلامتی ہے پس آخرت کا وہ گھر کیا ہی اچھا گھر ہے۔“
(13-الرعد:22 تا 24)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله خلق الخلق، حتى إذا فرغ منهم قامت الرحم، فقالت: هذا مقام العائذ من القطيعة، قال: نعم أما ترضين أن أصل من وصلك، وأقطع من قطعك؟ قالت: بلى، قال: فذاك لك . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اقرؤوا إن شئتم: ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ. أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُمْ. ﴾ (47-محمد:22، 23)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا، جب وہ ان کی پیدائش سے فارغ ہوا تو رحم (رشتہ) نے کھڑے ہو کر کہا: یہ اس شخص کا مقام ہے جو قطع رحمی سے تجھ سے پناہ مانگے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ہاں، کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ میں اس سے (تعلق) جوڑوں جو تجھ سے جوڑے، اور اس سے قطع (تعلق) کر لوں جو تجھے قطع کرے (توڑے)؟“ رشتے (رحم) نے کہا: کیوں نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، پس یہ تیرے لیے ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو (قرآنی آیت) پڑھ لو۔ ”یقیناً قریب ہے کہ جب تم کو اقتدار ملے تو تم زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رحموں رشتوں کو کاٹو، یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرمائی اور انہیں بہرا اور اندھا کر دیا۔“
صحیح بخاری، کتاب الادب ، باب من وصل وصله الله ، رقم: 5987 ـ صحیح مسلم، کتاب البر والصلة، باب صلة الرحم و تحريم قطيعتها ، رقم: 2554 .
فائدہ عظیمہ:
غور فرمائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قطع رحمی کی مذمت بیان کرتے ہوئے تائید کے طور پر اللہ تعالیٰ کے قرآن کی تلاوت کی ترغیب دے رہے ہیں۔
لہذا معلوم ہوا کہ آپ قرآن مجید کے شارح اور مفسر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین قرآن مجید کی تفسیر و توضیح ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی وحی ہیں۔ آپ کی احادیث کو رد کرنا قرآن مجید کو رد کرنا ہے جیسا کہ بعض لوگ حدیث کے انکار کے بڑے زبردست فتنے میں مبتلا ہیں۔ درحقیقت وہ قرآن کی تردید کرتے ہیں، العیاذ باللہ!
عن أبى هريرة، أن رجلا قال: يا رسول الله! إن لي قرابة، أصلهم ويقطعوني، وأحسن إليهم ويسيئون إلي، وأحلم عنهم ويجهلون علي، فقال: لئن كنت كما قلت: فكأنما تسفهم المل، ولا يزال معك من الله ظهير عليهم ما دمت على ذلك .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ رشتہ دار ہیں، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں، وہ مجھ سے قطع تعلق کرتے ہیں، میں ان سے اچھا سلوک کرتا ہوں، وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں۔ میں ان سے تحمل اور بردباری سے پیش آتا ہوں، وہ میرے ساتھ نادانی سے پیش آتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تو ایسا ہی ہے جیسا کہ تو نے کہا ہے، تو گویا ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہا ہے، اور ان کے مقابلے میں تیرے ساتھ ہمیشہ اللہ کی طرف سے ایک مددگار رہے گا جب تک تیرا رویہ یہی رہے گا۔“
صحیح مسلم، كتاب البر والصلة، باب صلة الرحم، رقم: 2558 .
سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
”اے لوگو! سلام کو پھیلاؤ، اور لوگوں کو کھانا کھلاؤ، رشتہ داریوں سے تعلق قائم رکھو اور جب لوگ سورہے ہوں تو تم نماز ادا کرو۔ (نتیجتاً) تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔“
سنن الترمذي، صفة القيامة، رقم: 2485۔ سنن ابن ماجه، كتاب الأطعمة: 3251۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے ایسا عمل بتلائیے جو مجھے جنت میں داخل کرے، اور جہنم سے دور کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
تعبد الله ولا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتصل الرحم
”تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور صلہ رحمی کرو۔“
صحيح بخاري، كتاب الزكاة، باب وجوب الزكاة، رقم: 1396۔ صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان الإيمان الذي يدخل به الجنة، رقم: 13۔
عن عياض بن حمار رضي الله عنه قال: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أهل الجنة ثلاثة: ذو سلطان مقسط متصدق موفق، ورجل رحيم رقيق القلب لكل ذي قربى ومسلم، وعفيف متعفف ذو عيال
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ”تین قسم کے لوگ جنتی ہیں۔ ایک: وہ حکمران جو انصاف کرنے والا، صدقہ کرنے والا اور اعمالِ خیر کی توفیق سے بہرہ ور ہو۔ دوسرا: وہ آدمی جو ہر مسلمان اور رشتے دار کے لیے مہربان اور نرم دل ہو۔ تیسرا: مانگنے سے گریزاں وہ شخص، جو عیال دار ہونے کے باوجود سوال سے بچنے والا ہو۔“
صحیح مسلم، كتاب الجنة، باب الصفات التي يعرف بها في الدنيا أهل الجنة وأهل النار، رقم: 2865۔
عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: تفتح أبواب الجنة يوم الاثنين، ويوم الخميس، فيغفر لكل عبد لا يشرك بالله شيئا، إلا رجل كانت بينه وبين أخيه شحناء، فيقال: أنظروا هذين حتى يصطلحا، أنظروا هذين حتى يصطلحا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پیر اور جمعرات کے روز جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ پھر ہر اس بندے کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، سوائے اس آدمی کے جس کی اپنے (کسی مسلمان) بھائی کے ساتھ دشمنی ہو۔ پھر کہا جاتا ہے: ان دونوں کو مہلت دے دو، حتیٰ کہ یہ صلح کریں۔ ان دونوں کو مہلت دے دو، حتیٰ کہ یہ صلح کرلیں۔
صحیح مسلم، کتاب البر، باب النهي عن الشحناء، رقم: 2565۔
معلوم یہ ہوا کہ جن کے آپس میں تعلقات درست ہوں، اور بھائی چارہ قائم ہو تو انہیں مغفرت کا حصول ہوتا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہا، یا رسول اللہ!
إني أصبت ذنبا عظيما فهل لي من توبة؟ قال: هل لك من أم؟ قال: لا. قال: هل لك من خالة؟ قال: نعم. قال: فبرها
”مجھ سے ایک بڑا گناہ ہو گیا ہے کیا اس کی معافی کی کوئی صورت ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ماں زندہ ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تیری خالہ زندہ ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے نیکی کا برتاؤ کر۔“
سنن ترمذى، كتاب البر والصلة، باب ما جاء في بر الخالة، رقم: 1904۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من أحب أن يبسط له فى رزقه وينسأ له فى أثره فليصل رحمه
”جو شخص یہ چاہے کہ اس کا رزق فراخ ہو جائے، اور اس کی عمر میں برکت ڈال دی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔“
صحيح البخاري، البيوع، باب من أحب البسط في الرزق، رقم: 2067۔ صحيح مسلم، کتاب البر والصلة، باب صلة الرحم، رقم: 2557۔