سب سے زیادہ رسول اللہ سے محبت ایمان کے لیے شرط
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ اطاعت حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی ہی اطاعت ہے اور ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنی جانوں، اپنے آباء واجداد، اپنی اولاد اور اپنے اہل و عیال اور مال و متاع سے زیادہ رسول اللہ سے محبت رکھیں، جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
والذي نفسي بيده لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين
”مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے ہاں اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“
(صحیح بخاری، کتاب الإیمان: باب حب الرسول من الإیمان، حدیث: 14، 15 صحیح مسلم، کتاب الإیمان: باب وجوب محبة الرسول، حدیث: 44)
آپ جان سے زیادہ عزیز نہیں تو کچھ بھی نہیں، صحیح بخاری میں عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ تھے اور آپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے جا رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ بولے: یا رسول اللہ! آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا:
لا والذي نفسي بيده حتى أكون أحب إليك من نفسك
”اللہ کی قسم! ہرگز نہیں، یہاں تک کہ میں تیری اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔“
فقال له عمر فإنه الآن والله لأنت أحب إلى من نفسي
عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کی قسم! اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔
فقال النبى صلى الله عليه وسلم الآن يا عمر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! اب ٹھیک۔“
(صحیح بخاری، کتاب الأیمان والنذور: باب کیف كانت یمین النبي، حدیث: 6632)
قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ ﴿٢٤﴾
”اے نبی! کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، (یہ سب) تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں، تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے۔ اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔“
(9-التوبة:24)
نیز فرمایا:
النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ
”بلاشبہ نبی تو اہل ایمان کے لیے ان کی اپنی ذات پر مقدم ہے۔“
(33-الأحزاب:6)
صحیحین میں مروی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:
أنا أولى بكل مؤمن من نفسه
”میں ہر مومن کو اس کی جان سے بھی زیادہ عزیز ہوں۔“
(صحیح بخاری، کتاب الفرائض: باب قول النبي من ترك مالا فلاهله، حدیث: 6731 صحیح مسلم، کتاب الفرائض: باب من ترك مالا فلورثته، حدیث: 1619 سنن ابی داؤد، کتاب الفرائض: باب في ميراث ذوي الأرحام، حدیث: 2900، واللفظ له)
پس رسول اللہ کی اتباع کے بغیر نہ عذاب الہی سے نجات مل سکتی ہے اور نہ ہی اللہ کی رحمت تک رسائی ممکن ہے، جبکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں، ان سے محبت رکھیں، ان سے دوستی قائم کریں، ان کی اتباع کو اپنا نصب العین قرار دیں۔ یہی وہ گوہر نایاب ہے جو دنیا و آخرت میں عذاب الہی سے نجات کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سے دنیا و آخرت کی خیر اور بھلائی مل سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے تمام انعامات میں سب سے بڑا انعام ایمان ہے اور یہ رسول اللہ کی اطاعت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے اپنے نفوس و اموال سے کہیں زیادہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناصح ہیں۔ رب کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی وجہ سے انسانوں کو ظلمات سے نکال کر ہدایت کی طرف لاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا راستہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر مل جانا ممکن ہی نہیں۔