امانت داری کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

امانت داری کی فضیلت

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ. ‏ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ . وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ‎.وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ ‎.‏ وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ. إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ . فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ ‎. وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ ‎.‏ وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ.﴾
”یقیناً ان ایمان داروں نے نجات حاصل کر لی، جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔ جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ اور جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں، اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں بجز اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے یقیناً یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں۔ اس کے سوا جو اور راہیں ڈھونڈیں وہی حد سے تجاوز کر جانے والے ہیں۔ جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اور جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔“
(23-المؤمنون:1 تا 9)
”امانتوں سے مراد ہر وہ امانت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا معاشرہ کی طرف سے یا کسی فرد کی طرف سے کسی شخص کے سپرد کی گئی ہو۔ خواہ یہ امانت منصب سے تعلق رکھتی ہو یا اقوال سے یا اموال سے۔ ان سب کی پوری پوری نگہداشت ضروری ہے۔ یہی صورت مال، عہد اور معاہدات کی ہے۔ خواہ کوئی عہد اللہ تعالیٰ سے کیا گیا ہو اور اللہ نے اپنے بندوں سے لیا ہو۔ خواہ یہ آپس کا قول و قرار ہو اور خواہ یہ معاہدہ بیع، یا نکاح کے متعلق ہو۔ ان کو وفا کرنا ضروری ہے۔“ (تیسیر القرآن : 189/3، 190)
معلوم یہ ہوا کہ امانت کی پاسداری کرنے والا فلاح پانے والے لوگوں میں سے ہے۔
عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من فارق الروح الجسد، وهو بريء من ثلاث، دخل الجنة: من الكبر والغلول والدين .
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو روح جسم سے جدا ہوئی اور وہ تین چیزوں یعنی تکبر، خیانت اور قرض سے بری تھی تو وہ جنت میں داخل ہو گی۔“
سنن ابن ماجه، کتاب الصدقات، باب التشديد في الدين، رقم : 2412 ـ مسند احمد: 5/ 276 ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 2784.
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنت میں لے جانے والے اعمال میں سے یہ بھی ہے کہ بندہ خائن نہ ہو، جب خائن نہیں ہوگا تو لامحالہ امانت دار ہوگا۔ اور یہی مطلوب ہے۔ مزید برآں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اضمنوا لي ستا من أنفسكم أضمن لكم الجنة: اصدقوا إذا حدثتم، وأوفوا إذا وعدتم، وأدوا الأمانة إذا اؤتمنتم، واحفظوا فروجكم، وغضوا أبصاركم، وكفوا أيديكم .
”تم اپنے بارے میں چھ چیزوں کی ضمانت دے دو، میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ ➊ جب بات کرو تو سچی کرو۔ ➋ وعدہ کرو تو اسے پورا کرو۔ ➌ تمہارے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو اس کا پاس کرو۔ ➍ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔ ➎ نگاہیں نیچی رکھو۔ ➏ اور اپنے ہاتھوں کو روک لو (یعنی لوگوں کو ایذا نہ پہنچاؤ)۔“
سلسلة الاحاديث الصحيحه، رقم: 1470.