ترجمہ و تفسیر — سورۃ محمد (47) — آیت 23

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّہُمۡ وَ اَعۡمٰۤی اَبۡصَارَہُمۡ ﴿۲۳﴾
یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی۔ پس انھیں بہرا کر دیا اور ان کی آنکھیں اندھی کر دیں۔ En
یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا اور (ان کی) آنکھوں کو اندھا کردیا ہے
En
یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 23){ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ …:} یعنی یہ لوگ جو قریب تھے کہ حکومت میں آ جائیں تو اندھے بہرے ہو کر ظلم و فساد پھیلائیں اور قطع رحمی کرنے لگیں، یا قریب تھے کہ اطاعت اور جہاد سے منہ موڑیں تو زمین میں فساد پھیلائیں اور رشتہ داریوں کو بری طرح قطع کر دیں، اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی اور انھیں ایسا بہرا، اندھا اور سنگ دل بنا دیا کہ وہ جہاد کی برکات سمجھ ہی نہ سکے کہ اس کی بدولت مسلمانوں کی پریشانیاں اور مصیبتیں ختم ہوتی ہیں، انھیں عزت اور سربلندی ملتی ہے، فتنہ و فساد اور شرک و کفر ختم ہوتا ہے اور زمین امن کا گہوارہ بن جاتی ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ» ‏‏‏‏ [المنافقون: ۳] یہ اس لیے کہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، سو وہ نہیں سمجھتے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

23۔ 1 یعنی ایسے لوگوں کے کانوں کو اللہ نے (حق کے سننے سے) بہرہ اور آنکھوں کو (حق کے دیکھنے سے) اندھا کردیا ہے۔ یہ نتیجہ ہے انکے مذکورہ اعمال کا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی، انہیں بہرا کر دیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا [27] کر دیا۔
[27] جہاد کی برکات :۔
یعنی انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ جہاد بھی ان کے لیے سراسر خیر و برکت ہے۔ جب تک جہاد نہ کیا جائے گا۔ کبھی کفر اسلام کو جینے اور پھلنے پھولنے نہیں دے گا بلکہ اس کی تو یہ کوشش ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینک دیا جائے۔ جہاد سے ہی مسلمانوں کی پریشانیوں اور مصائب کا دور ختم ہو گا۔ فتنہ و فساد کا قلع قمع ہو گا۔ اللہ کا دین سربلند ہو گا۔ توحید پھیلے گی، شرک کا خاتمہ ہو گا اور یہ ملک امن و چین کا گہوارہ بن جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ جنھوں نے زمین میں فساد پھیلایا اور قطع رحمی کی ﴿ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے قریب ہو گئے۔ ﴿ فَاَصَمَّهُمْ وَاَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ ایسی بات سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں جو انھیں فائدہ دے۔ پس ان کے کان ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں مگر وہ ان آنکھوں سے عبرتوں اور آیات کو دیکھتے ہیں نہ دلائل و براہین کی طرف التفات کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولئك الذين}: أفسدوا في الأرض، وقطَّعوا أرحامهم. {لَعَنَهم الله}: بأن أبعدهم عن رحمته وقربوا من سخط الله {فأصمَّهم وأعمى أبصارَهم}؛ أي: جعلهم لا يسمعون ما ينفَعُهم ولا يبصِرونه؛ فلهم آذانٌ ولكن لا تسمعُ سماع إذعانٍ وقَبولٍ، وإنَّما تسمع سماعاً تقومُ بها حجةُ الله عليها، ولهم أعينٌ ولكن لا يبصِرون بها العبرَ والآيات، ولا يلتفتونَ بها إلى البراهين والبيِّنات.