بدعت عقائد اور اعمال دونوں میں ہوتی ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب آمد مصطفےٰﷺ سے ماخوذ ہے۔

اعمال اور بدعت حسنہ

بدعت کا دائرہ کار کیا ہے، یہ اسلام کے ہر قسم کے معاملات میں درانہ گھس جاتی ہے یا صرف عقائد میں؟ یہ ایک نئی بحث ہے، جس کا وجود سلف میں نہیں ملتا، ان کے نزدیک بدعت ایک مطلق چیز ہے، وہ اعمال میں بھی ہو سکتی ہے، عقائد میں بھی، لیکن ہمارے اس دور میں یہ بحث شروع ہو چکی ہے، مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب حدیث کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
من أحدث فى أمرنا هذا ما ليس منه، فهو رد .
”جو شخص ہمارے اس دین میں وہ عقیدے ایجاد کرے جو کہ دین کے خلاف ہوں، وہ مردود ہے۔ ہم نے امر کے معنی عقیدے اس لیے کیے کہ دین عقائد ہی کا نام ہے، اعمال فروع ہیں۔“
جاء الحق : 204-205
حدیث کے معنی میں عقیدے کی قید درست نہیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بدعت کو گمراہی قرار دیا ہے، خواہ وہ عقیدے میں جاری کی گئی ہو یا اعمال میں۔
کیوں کہ مفتی صاحب ہی نے ایک جگہ لکھا ہے :
بدعت کے شرعی معنی ہیں وہ اعتقاد یا وہ اعمال جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ حیات ظاہری میں نہ ہوں، بعد میں ایجاد ہوئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بدعت شرعی دو طرح کی ہوئی بدعت اعتقادی اور بدعت عملی۔
جاء الحق ص : 204
اب ان کی یہ منطق اگر مان لیں کہ عقائد میں بدعات حرام ہیں، جبکہ اعمال میں جائز، تو پھر عقائد میں بدعت حسنہ کا کیا حکم ہوگا؟ اگر کوئی شخص کسی عقیدے کو اچھا سمجھتے ہوئے اسلامی عقائد میں یہ کہہ کر داخل کر دے کہ یہ بدعت حسنہ ہے، تو اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟
نیز اگر کوئی اعمال میں ایسی بدعت نکالے، جو ان کی طبع نازک پر گراں گزرے، جیسا کہ عیدین اور نماز جنازہ کی اذان وغیرہ، تو اسے بدعت حسنہ کہا جائے گا؟ یاد رکھئے کہ اعمال کو دین وایمان میں داخل نہ سمجھنا اور انہیں محض فروع قرار دینا بذات خود ایک بدعت ہے، ایک ادنی مسلمان بھی یہ سمجھتا ہے کہ اعمال دین میں داخل ہیں، یہ صحیح العقیدہ مسلمانوں کا اتفاقی واجماعی مسئلہ ہے۔
◈ حافظ بغوی رحمہ اللہ (م : 516ھ) لکھتے ہیں :
اتفقت الصحابة والتابعون، فمن بعدهم من علماء السنة على أن الأعمال من الإيمان ….. وقالوا : إن الإيمان قول، وعمل، وعقيدة .
”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین عظام رحمہ اللہ اور ان کے بعد والے علمائے اہل سنت اس بات پر متفق ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایمان قول عمل اور عقیدے کا نام ہے۔“
شرح السنة : 388
◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م : 728ھ) فرماتے ہیں :
لكن أعظم المهم فى هذا الباب وغيره تمييز السنة من البدعة إذ السنة ما أمر به الشارع والبدعة ما لم يشرعه من الدين فإن هذا الباب كثر فيه اضطراب الناس فى الأصول والفروع حيث يزعم كل فريق أن طريقه هو السنة وطريق مخالفه هو البدعة، ثم إنه يحكم على مخالفه بحكم المبتدع فيقوم من ذلك من الشر ما لا يحصيه إلا الله .
”ان مسائل میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ سنت اور بدعت کی تمیز کی جائے، کیوں کہ سنت شارع کے حکم کا نام ہے اور بدعت ایسے دینی عمل کو کہتے ہیں، جسے شارع نے مشروع نہ کیا ہو۔ لوگ اس حوالے سے بہت مضطرب ہیں، ان کے عقائد و اعمال مختلف ہیں اور ہر فریق دوسرے کو بدعتی قرار دیتا ہے۔ ان چیزوں نے شر کو اتنا پھیلایا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی شمار ہی نہیں کرسکتا۔“
الاستقامة : 13/1

عقائد و ایمان میں بدعات

مذکورہ بالا وضاحت کے برخلاف نعیمی صاحب کا کہنا ہے کہ مذموم بدعت عقائد ہی میں ہوتی ہے، ان کی عبارت ملاحظہ فرمائیں :
شریعت وطریقت دونوں کے چار چار سلسلے یعنی حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، اسی طرح قادری چشتی، نقشبندی، سہروردی، یہ سب سلسلے بالکل بدعت ہیں، ان میں سے بعض کے تو نام تک بھی عربی نہیں، جیسے چشتی یا نقشبندی، کوئی صحابی، تابعی، حنفی، قادری نہ ہوئے۔ اب دیوبندی بتائیں کہ بدعت سے بچ کر وہ اپنی حیثیت سے زندہ بھی رہ سکتے ہیں؟ جب ایمان اور کلمہ میں بدعات داخل ہیں، تو بدعت سے چھٹکارا کیسا؟
جاء الحق : 1/ 222
اس کا جواب تو وہی دیں گے، جن سے سوال ہے، حیرانی مگر یہ ہے کہ عقائد کی جس بدعت کو مذموم قرار دیا جا رہا ہے، اس کا دفاع کیوں؟ کیا ایمان اور کلمہ میں بھی بدعات داخل ہیں؟

بدعت قرآن و حدیث اور اجماع کے مخالف ہوتی ہے

بعض کہتے ہیں کہ بدعت وہ نیا کام ہے، جو دین کے خلاف ہو، ان کی یہ بات درست نہیں، کیونکہ بدعت بے اصل ہوتی ہے، شریعت نے بدعت سے منع کیا ہے، اور خوب سمجھ لیجئے کہ بدعت میں ملوث ہو جانا ہی قرآن، حدیث اور اجماع کی مخالفت ہے۔