ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرعد (13) — آیت 22

وَ الَّذِیۡنَ صَبَرُوا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ رَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً وَّ یَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿ۙ۲۲﴾
اور وہ جنھوں نے اپنے رب کا چہرہ طلب کرنے کے لیے صبر کیا اور نماز قائم کی اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کیا اور برائی کو نیکی کے ساتھ ہٹاتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے اس گھر کا اچھا انجام ہے۔ En
اور جو پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے (مصائب پر) صبر کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں اور نیکی سے برائی دور کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لیے عاقبت کا گھر ہے
En
اور وه اپنے رب کی رضا مندی کی طلب کے لئے صبر کرتے ہیں، اور نمازوں کو برابر قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اسے چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں اور برائی کو بھی بھلائی سے ٹالتے ہیں، ان ہی کے لئے عاقبت کا گھر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت22) ➊ {وَ الَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ:} یعنی ہر اس مقام پر جہاں صبر قابل تعریف ہے وہ محض اللہ کے چہرے کی خاطر صبر کرتے ہیں، تاکہ وہ راضی ہو جائے۔ نہ ریا (دکھاوے) کے لیے، نہ سُمعہ (شہرت) کے لیے کہ لوگ کہیں واہ کیا صابر شخص ہے۔ صبر کا معنی روکنا، باندھنا ہے۔ اپنے آپ کو اللہ کے احکام کی پابندی پر قائم رکھنا{ صَبْرٌ عَلَي الطَّاعَةِ} ہے، اس کی نافرمانی سے رکنا { صَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِيَةِ } ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی مصیبت، مثلاً بیماری، فاقہ، خوف یا اموات وغیرہ پر اپنے آپ کو جزع فزع سے روکنا اور اسے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی تقدیر سمجھ کر کسی شکوہ و شکایت کے بغیر برداشت کرنا {صَبْرٌ عَلَي الْمُصِيْبَةِ} ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کی یہ تمام صورتیں { اُولُوا الْاَلْبَابِ } کی صفت ہیں۔
➋ {وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ:} اس کی تفسیر کے لیے سورۂ بقرہ کی آیت (۳) ملاحظہ فرمائیں۔
➌ { وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً:} فرض زکوٰۃ علانیہ دینا افضل ہے، تاکہ کفر کی تہمت سے بچے، نفل صدقہ دوسروں کو ترغیب دلانے کے لیے علانیہ ہو اور ریا سے پاک ہو تو بہت ہی اچھا ہے، مگر علانیہ صدقے میں ریا کا امکان ہے، اس لیے پوشیدہ صدقے کا جواب ہی نہیں ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۷۱) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا سایہ پانے والوں میں سے ایک وہ بھی ہے جو دائیں ہاتھ سے صدقہ کرے تو بائیں کو خبر بھی نہ ہو۔ [بخاري، الأذان، باب من جلس فی المسجد…: ۶۶۰]
➍ {وَ يَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ: دَرَءَ يَدْرَءُ دَرْءً } (ف) ہٹانا، دفع کرنا، دور کرنا، یعنی { اُولُوا الْاَلْبَابِ } کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ برائی کو نیکی کے ساتھ ہٹاتے ہیں، یعنی برائی کا جواب بھلائی سے دیتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّيِّئَةُاِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ (34) وَ مَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَ مَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ [حٰمٓ السجدۃ: ۳۴، ۳۵] اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) سے ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہو گا جیسے وہ دلی دوست ہے۔ اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کریں اور یہ نہیں دی جاتی مگر اسی کو جو بہت بڑے نصیب والا ہے۔ یہ طریقہ ذاتی عداوتوں اور زیادتیوں کے جواب کا ہے کہ زیادتی کے جواب میں صبر کرے اور معاف کر دے۔ رہا اللہ کے دین پر زیادتی اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں سرکشی اور عناد کا جواب بہترین طریقے سے دینا تو اس کی صورت دوسری ہے۔ وہاں برائی کو نیکی کے ساتھ ہٹانے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی کافر یا اللہ کا باغی دین پر زیادتی کر رہا ہو تو آپ اسے برداشت کریں اور صبر کریں، بلکہ اس برائی کو بہترین طریقے سے ہٹانا نہ اسے آزاد چھوڑنا ہے نہ معاف کرنا، بلکہ یہاں اسے ہٹانے کا بہترین طریقہ وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا اور اس کا حکم دیا کہ جو شخص تم میں سے کوئی منکر (برائی) دیکھے اسے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کام کی قوت نہیں تو زبان سے روکے اور اگر اتنی بھی قوت نہیں تو (کم از کم) اسے دل میں برا سمجھے۔ [مسلم، الإیمان، باب بیان کون النہی …: ۴۹] یہاں سب سے اچھا طریقہ ({بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ}) جہاد فی سبیل اللہ ہے اور اس کا نتیجہ بھی یہی ہے کہ یک لخت ہی جانی دشمن دلی دوست بن جاتے ہیں۔ دیکھیے ثمامہ بن اثال، ہندہ، عکرمہ بن ابی جہل، خالد بن ولید رضی اللہ عنھم اور عرب کے وہ سردار جو کسی صورت ایمان قبول کرنے والے نظر نہ آتے تھے، جہاد کی نیکی کی برکت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار دوست بن گئے۔ برائی کو نیکی کے ساتھ ہٹاتے ہیں کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ نیک عمل کرکے برے عمل کو مٹا دیتے ہیں، جیسے فرمایا: «{ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ [ھود: ۱۱۴] بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ اور ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَأَتْبِعْهَا حَسَنَةً تَمْحُهَا] [أحمد: 169/5، ح: ۲۱۵۴۳، صحیح] جب تم کوئی برائی کرو تو اس کے بعد کوئی نیکی کرو، وہ اسے مٹا دے گی۔ اور فرمایا: [وَ إِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَاعْمَلْ بِجَنْبِهَا حَسَنَةً السِّرُّ بِالسِّرِّ وَالْعَلاَنِيَةُ بِالْعَلاَنِيَةِ] [سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 462/3، ح: ۱۴۷۵] جب تم کوئی برائی کرو تو اس کے ساتھ ہی نیکی کر لو، وہ اسے مٹا دے گی، پوشیدہ برائی کو پوشیدہ نیکی کے ساتھ اور علانیہ برائی کو علانیہ نیکی کے ساتھ مٹاؤ۔
➎ { اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ: عُقْبَى عَاقِبَةٌ } کی طرح مصدر ہے، وہ چیز جو کسی چیز کے پیچھے آئے، عام طور پر یہ لفظ اچھے انجام کے معنی میں آتا ہے۔{ الدَّارِ } میں الف لام عہد کا ہے، یہ گھر یعنی دنیا، یعنی ان صفات والوں کے لیے دنیا کے گھر کے بعد کا انجام بہت اچھا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

22۔ 1 اللہ کی نافرمانی اور گناہوں سے بچتے ہیں۔ یہ صبر کی ایک قسم ہے۔ تکلیفوں اور آزمائشوں پر صبر کرتے ہیں، یہ دوسری قسم ہے۔ اہل دانش دونوں قسم کا صبر کرتے ہیں۔ 22۔ 2 ان کی حدود و مواقیت، خشوع و خضوع اور اعتدال ارکان کے ساتھ۔ نہ کہ اپنے من مانے طریقے سے۔ 22۔ 3 یعنی جہاں جہاں اور جب بھی، خرچ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے، اپنوں اور بیگانوں میں اور خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔ 22۔ 4 یعنی ان کے ساتھ کوئی برائی سے پیش آتا ہے تو وہ اس کا جواب اچھائی سے دیتے ہیں، یا عفو و درگزر اور صبر جمیل سے کام لیتے ہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' (اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ) 41۔ حم السجدۃ:34۔ برائی کا جواب ایسے طریقے سے دو جو اچھا ہو (اگر تم ایسا کرو گے) تو وہ شخص جو تمہارا دشمن ہے، ایسا ہوجائے گا گویا وہ تمہارا گہرا دوست ہے '۔ 22۔ 5 یعنی جو اعلٰی اخلاق کے حامل اور مزکورہ خوبیوں سے متصف ہوں گے، ان کے لئے عاقبت کا گھر ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ اور جنہوں نے اپنے پروردگار کی رضا کے لئے صبر کیا [30] نماز قائم کی اور اللہ نے جو کچھ انھیں دے رکھا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ [31] خرچ کیا اور برائی کا بھلائی [32] سے جواب دیا یہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت کا گھر ہے
[30] یعنی راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات کو ثابت قدمی کے ساتھ برداشت کیا اور اللہ تعالیٰ کے احکام و حدود میں اللہ کی رضا کی خاطر اپنے نفس کی خواہشات پر کنٹرول کیا۔ اس لحاظ سے ایک مومن کی ساری زندگی ہی در اصل صبر کی زندگی ہوتی ہے۔
[31] یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے خواہ وہ امیر ہو یا غریب ہو۔ خوشحال ہو یا تنگ دست ہو۔ ہر ایک کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے۔ قرآن کی بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ پوشیدہ طور پر صدقہ کرنا علانیہ صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ غالباً اسی لیے پہلے پوشیدہ صدقہ کا ذکر کیا گیا۔ پھر صدقہ کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک فرضی یعنی زکوٰۃ دوسرے نفلی۔ علماء کہتے ہیں کہ فرضی صدقہ علانیہ کرنا بہتر ہے۔ تاکہ دوسروں کو بھی رغبت پیدا ہو اور نفلی صدقات پوشیدہ طور پر کرنے چاہئیں پھر رزق سے مراد صرف مال و دولت ہی نہیں اللہ کی ہر نعمت رزق ہے جو انسان کی جسمانی یا روحانی تربیت میں کارآمد ہو۔ اس لحاظ سے علم دین، پاکیزہ فنون اور صحت وغیرہ سب رزق میں شامل ہیں اور اللہ کی راہ میں ان میں سے بھی خرچ کرنا ضروری ہے یہ مضمون بہت طویل ہے اور قرآن میں جا بجا مذکور ہے۔ اس لیے یہاں اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
[32] ﴿يَدْرَءُوْنَ کا لغوی معنی دور ہٹانا اور پرے کرنا ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جب ان سے کوئی برا کام ہو جاتا ہے تو بعد میں اچھے کام کر کے تلافی مافات کر دیتے ہیں۔ کیونکہ نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب ان سے کوئی برائی کرے تو اس کا جواب برائی سے نہیں بلکہ بھلائی سے دیتے ہیں اور عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں اور اس بارے میں بھی بہت سی احادیث وارد ہیں۔ مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بھلائی کا بدلہ بھلائی سے دے بلکہ وہ ہے کہ اگر دوسرا اسے برے سلوک سے قطع کرنے کی کوشش کرے تو وہ اچھا سلوک کر کے اسے جوڑے رکھنے کی کوشش کرے۔ [بخاري، كتاب الادب، باب ليس الواصل بالمكافئي]
اور یہ بات صرف رشتہ داروں سے مختص نہیں بلکہ ہر شخص کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنا چاہیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالَّذِیْنَ صَبَرُوا اور جو صبر کرتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو مامورات کی تعمیل اور منہیات سے بچنے اور ان سے دور رہنے اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پرعدم ناراضی کے ساتھ صبر کرتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ صبر ﴿ ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ صرف اپنے رب کی رضا کی خاطر ہو کسی فاسد اغراض و مقاصد کے لیے نہ ہو۔ یہی وہ صبر ہے جو فائدہ مند ہے جو بندے کو اپنے رب کی رضا کی طلب اور اس کے قرب کی امید کا پابند اور اس کے ثواب سے بہرہ ور کرتا ہے اور یہی وہ صبر ہے جو اہل ایمان کی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔ وہ صبر جو بہت سے لوگوں میں مشترک ہوتا ہے اس کی غایت و انتہا استقلال اور فخر ہے یہ صبر نیک اور بد، مومن اور کافر، ہر قسم کے لوگوں سے صادر ہو سکتا ہے صبر کی یہ قسم درحقیقت ممدوح نہیں ہے۔ ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ اور نماز قائم کرتے ہیں۔ یعنی وہ نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط اور ظاہری و باطنی تکمیل کے ساتھ قائم کرتے ہیں، ﴿ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِیَةً اور جو ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں اس میں تمام نفقات واجبہ، مثلاً: زکٰوۃ اور کفارہ اور نفقات مستحبہ داخل ہیں۔ یہ کھلے چھپے ان تمام مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں ضرورت تقاضا کرتی ہے۔
﴿ وَّیَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّؔیِّئَةَ اور وہ برائی کے مقابلے میں بھلائی کرتے ہیں یعنی جو کوئی قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے، وہ اس کے ساتھ برے طریقے سے پیش نہیں آتے بلکہ اس کے برعکس حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔ پس جو کوئی انھیں محروم کرتا ہے یہ اسے عطا کرتے ہیں، جو کوئی ان پر ظلم کرتا ہے یہ اسے معاف کر دیتے ہیں، جو کوئی ان سے قطع تعلق کرتا ہے یہ اس سے جڑتے ہیں اور جو کوئی ان سے برا سلوک کرتا ہے یہ اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں …جب برا سلوک کرنے والوں کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی یہ کیفیت ہے تو اس شخص کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی کیا کیفیت ہو گی جس نے ان کے ساتھ کبھی برا سلوک نہیں کیا۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ یہی یعنی وہ لوگ جو ان صفات جلیلہ اور مناقب جمیلہ کے حامل ہیں ﴿ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ انھی کے لیے آخرت کا گھر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين صبروا}: على المأمورات بالامتثال، وعن المنهيَّات بالانكفاف عنها والبعد منها، وعلى أقدار الله المؤلمة بعدم تسخُّطها، ولكن بشرط أن يكون ذلك الصبر {ابتغاءَ وجهِ ربِّهم}: لا لغير ذلك من المقاصد والأغراض الفاسدة؛ فإنَّ هذا الصبر النافع، الذي يَحْبِسُ به العبد نفسه طلباً لمرضاة ربِّه ورجاءً للقرب منه والحظوة بثوابه، وهو الصبر الذي من خصائص أهل الإيمان، وأما الصبر المشترك الذي غايتُهُ التجلُّد ومنتهاه الفخر؛ فهذا يصدُرُ من البَرِّ والفاجر والمؤمن والكافر؛ فليس هو الممدوح على الحقيقة. {وأقاموا الصَّلاة}: بأركانها وشروطها ومكمِّلاتها ظاهراً وباطناً. {وأنفقوا مما رزقْناهم سرًّا وعلانية}: دخل في ذلك النفقات الواجبة كالزكوات والكفارات والنفقات المستحبَّة، وأنهم ينفقون حيث دعت الحاجةُ إلى النفقة سرًّا وعلانيةً. {ويدرؤونَ بالحسنةِ السيئةَ}؛ أي: مَن أساء إليهم بقول أو فعل؛ لم يقابلوه بفعله، بل قابلوه بالإحسان إليه، فيعطون من حَرَمَهم، ويعفون عمَّن ظَلَمهم، ويصِلون من قَطَعهم، ويحسِنون إلى مَن أساء إليهم، وإذا كانوا يقابلون المسيء بالإحسان؛ فما ظنُّك بغير المسيء. {أولئك}: الذين وُصِفَتْ صفاتهم الجليلة ومناقبهم الجميلة؛ {لهم عُقبى الدار}.