تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ خرچ کرنے کی جگہوں میں سے سب سے پہلے والدین کا ذکر کیا، تاکہ ان کے جنم دینے اور پرورش کرنے کا کچھ حق ادا ہو جائے، پھر زیادہ قرابت والے، تاکہ قرابت اور رشتہ داری کا حق ادا ہو، پھر یتامیٰ، کیونکہ وہ مہربان باپ کے سائے سے محروم ہو چکے ہیں، پھر مساکین، ان کے فقر و احتیاج کی وجہ سے، پھر مسافر، کیونکہ وہ اپنے شہر سے دور ہونے کی وجہ سے ایک طرح سے محتاج ہیں۔ رازی نے فرمایا، خرچ کرنے کی جگہوں میں یہ ترتیب ہی صحیح ترتیب ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے بعد خلاصہ بیان فرمایا کہ تم خیر میں سے جو عمل بھی کرو گے تو بے شک اللہ تعالیٰ اسے خوب جاننے والا ہے۔ اس میں وہ کام اور وہ جگہیں بھی آ گئیں جن کا یہاں ذکر نہیں ہوا، مثلاً سائلین اور غارمین وغیرہ، بشرطیکہ وہ کام اور وہ جگہیں خیر ہوں، کیونکہ غلط جگہ خرچ کرنا فعل خیر نہیں۔ میمون بن مہران اس آیت کو پڑھ کر کہنے لگے کہ یہ ہیں مسلمان کے خرچ کرنے کی جگہیں، ان میں طبلہ، سارنگی، لکڑی کی تصویروں اور گھر کی آرائش کا ذکر نہیں ہے۔ (ابن کثیر)
➌ اس آیت میں زکوٰۃ کے علاوہ خرچ کا ذکر ہے جو نفل ہو یا بعض اوقات فرض، کیونکہ ماں باپ کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۶۰)۔
➍ ایک روایت میں یہ سوال کرنے والا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا ہے، مگر وہ روایت موضوع ہے، اس میں کلبی اور ابو صالح متہم بالکذب ہیں۔ (الاستیعاب فی بیان الاسباب)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: يسألونك عن النفقة وهذا يعم السؤال عن المنفَق والمنفَق عليه، فأجابهم عنها فقال: {قل ما أنفقتم من خير}؛ أي: مال قليل أو كثير فأولى الناس به وأحقهم بالتقديم أعظمهم حقًّا عليك، وهم الوالدان الواجب برهما والمحرم عقوقهما، ومن أعظم برهما، النفقة عليهما، ومن أعظم العقوق ترك الإنفاق عليهما، ولهذا كانت النفقة عليهما واجبة على الولد الموسر، ومن بعد الوالدين الأقربون على اختلاف طبقاتهم، الأقرب، فالأقرب، على حسب القرب والحاجة، فالإنفاق عليهم صدقة وصلة {واليتامى}؛ وهم الصغار الذين لا كاسب لهم فهم في مظنة الحاجة، لعدم قيامهم بمصالح أنفسهم وفقد الكاسب، فوصى الله بهم العباد رحمة منه بهم ولطفاً {والمساكين}؛ وهم أهل الحاجات وأرباب الضرورات الذين أسكنتهم الحاجة، فينفَق عليهم لدفع حاجاتهم وإغنائهم {وابن السبيل}؛ أي: الغريب المنقطع به في غير بلده، فيعان على سفره بالنفقة التي توصله إلى مقصده.
ولما خصص الله تعالى هؤلاء الأصناف لشدة الحاجة، عمم تعالى فقال: {وما تفعلوا من خير}؛ من صدقة على هؤلاء وغيرهم بل ومن جميع أنواع الطاعات والقربات لأنها تدخل في اسم الخير {فإن الله به عليم}؛ فيجازيكم عليه، ويحفظه لكم كلٌّ على حسب نيته وإخلاصه، وكثرة نفقته وقلتها، وشدة الحاجة إليها، وعظم وقعها ونفعها.