تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ذٰلِكَ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ:} عام طور پر اس کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں۔ اگرچہ {” وَجْهٌ“} کا مطلب رضا ہو سکتا ہے، مگر {” وَجْهٌ“} کا اصل معنی توچہرہ ہے۔ دوسرا معنی اس وقت کیا جاتا ہے جب حقیقی معنی مراد نہ لیا جا سکتا ہو، جب کہ یہاں حقیقی معنی مراد لینے میں کوئی مشکل نہیں، بلکہ جو لطف حقیقی معنی مراد لینے میں ہے وہ مجازی معنی مراد لینے میں نہیں، یعنی یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے چہرے کے دیدار کے طلب گار ہیں، کیونکہ اللہ کے دیدار سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ اس آیت سے خرچ کرتے وقت نیت اللہ کے لیے خالص ہونے کی اہمیت ظاہر ہو رہی ہے۔
➌ { وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ:} معلوم ہوا جو لوگ قرابت داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا نہیں کرتے وہ کامل فلاح پانے والے نہیں ہو سکتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[43] مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مذکورہ حقوق ادا نہیں کرتے وہ فلاح نہیں پا سکتے۔ فلاح صرف وہ پا سکتے ہیں جو مذکورہ حقداروں کو ان کے حقوق ادا کریں۔ اور اللہ کی رضا مندی کے لئے ادا کریں۔ ان پر احسان رکھ کر نہ کریں، نہ ہی ان سے کسی قسم کے شکریہ یا بدلہ کے طلبگار ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسافر جس کا خرچ کم پڑ گیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لیے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔
اس دوسری آیت کی تفسیر تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مجاہد، ضحاک، قتادۃ، عکرمہ، محمد بن کعب اور شعبی رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ اسے اس سے زیادہ دیں۔ تو گو اس ارادے سے ہدیہ دینا ہے تو مباح لیکن ثواب سے خالی ہے۔ اللہ کے ہاں اس کا بدلہ کچھ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی روک دیا اس معنی میں یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہوگا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سود یعنی نفع کی دوصورتیں ہیں ایک تو بیوپار تجارت میں سود یہ تو حرام محض ہے۔ دوسرا سود یعنی زیادتی جس میں کوئی حرج نہیں وہ کسی کو اس ارادہ سے ہدیہ تحفہ دینا ہے کہ یہ مجھے اس سے زیادہ دے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اللہ کے پاس ثواب تو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کو بہت برکتیں ہوتی ہیں۔“
صحیح حدیث میں ہے کہ { جو شخص ایک کھجور بھی صدقے میں دے لیکن حلال طور سے حاصل کی ہوئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسطرح پالتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ایک کھجور احد پہاڑ سے بھی بڑی ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1410]
اللہ ہی خالق ورازق ہے۔ انسان اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا، بےعلم، بے کان، بےآنکھ، بےطاقت نکلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے سب چیزیں عطا فرماتا ہے۔ مال، ملکیت، کمائی، تجارت غرض بےشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے۔
اس حیات کے بعد تمہیں مار ڈالے گا پھر قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کر رہے ہو ان میں سے ایک بھی ان باتوں میں سے کسی ایک پر قابو نہیں رکھتا۔ ان کاموں میں سے ایک بھی کوئی نہیں کر سکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی تنہا خالق رازق اور موت زندگی کا مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جلا دے گا۔ اس کی مقدس، منزہ، معظم اور عزت وجلال والی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو یا اس جیسا ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کی اولاد ہو یا ماں باپ ہوں وہ «احد» ہے، «صمد» ہے، فرد ہے، ماں باپ اولاد سے پاک ہے اس کا کفو کوئی نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: فأعطِ القريب منك ـ على حسب قربِهِ وحاجتِهِ ـ حقَّه الذي أوجبه الشارع أو حضَّ عليه من النفقةِ الواجبة والصدقةِ والهديَّة والبرِّ والسلام والإكرام والعفوِ عن زلَّته والمسامحة عن هفوتِهِ، وكذلك آتِ المسكين الذي أسْكَنَهُ الفقرُ والحاجةُ ما تُزيل به حاجَتَه وتدفعُ به ضرورتَه من إطعامه وسقيه وكسوتِهِ. {وابنَ السبيل}: الغريب المنقطع به في غير بلدِهِ، الذي في مظنَّة شدَّة الحاجة، وأنَّه لا مال معه ولا كسب قد دَبّر نفسَه به في سفره؛ بخلاف الذي في بلده؛ فإنَّه وإن لم يكن له مالٌ، لكن لا بدَّ في الغالب أن يكونَ في حرفةٍ أو صناعةٍ ونحوها تسدُّ حاجته، ولهذا جعل الله في الزَّكاة حصةً للمسكين وابن السبيل.
{ذلك}؛ أي: إيتاء ذي القربى والمسكين وابن السبيل: {خيرٌ للذين يريدون}: بذلك العمل {وَجْهَ الله}؛ أي: خير غزيرٌ وثوابٌ كثيرٌ؛ لأنَّه من أفضل الأعمال الصالحة، والنفعُ المتعدِّي الذي وافق محلَّه المَقْرونُ به الإخلاص؛ فإن لم يُرَدْ به وجهُ الله؛ لم يكن خيراً للمعطي، وإن كان خيراً ونفعاً للمعطى؛ كما قال تعالى: {لا خيرَ في كثير مِن نَجْواهم إلاَّ مَنْ أمر بصدقةٍ أو معروفٍ أو إصلاح بينَ الناس}: مفهومُها أنَّ هذه المستثنيات خيرٌ؛ لنفعها المتعدِّي، ولكن مَنْ يفعلُ ذلك ابتغاء مرضاة الله؛ فسوف نؤتيه أجراً عظيماً، وقوله: {وأولئك}: الذين عملوا هذه الأعمالَ وغيرَها لوجه الله، {هم المفلحون}: الفائزونَ بثواب الله الناجون من عقابه.