تکبیرِ تحریمہ اور رفع الیدین کی مختلف مسنون صورتیں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری کی کتاب مسئلہ رفع الیدین سے ماخوذ ہے۔

تکبیرِ تحریمہ اور رفع الیدین

① سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

[كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام للصلاة رفع يديه حتىٰ تكونا حذو منكبيه، ثم كبر]
رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے، تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے، پھر اللہ اکبر کہتے۔
[صحيح البخاري: 736، صحيح مسلم: 390، وَاللَّفْظُ لَهُ]
ثابت ہوا کہ کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھا کر پھر تکبیر کہنا جائز ہے۔

② ابو قلابہ تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

[إنه رأىٰ مالك بن الحويرث إذا صلىٰ كبر ورفع يديه، وإذا أراد أن يركع رفع يديه، وإذا رفع رأسه من الركوع رفع يديه، وحدث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صنع هٰكذا]
انہوں نے سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا، آپ نماز پڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور رفع الیدین کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے، تو رفع الیدین کرتے اور بیان کرتے کہ رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
[صحيح البخاري: 737، صحيح مسلم: 391]
❀ صحیح مسلم میں «كبر ثم رفع يديه» ”اللہ اکبر“ کہا اور پھر رفع الیدین کیا، کے الفاظ ہیں۔
ثابت ہوا کہ رفع الیدین تکبیرِ تحریمہ کے بعد بھی جائز ہے۔ نیز ثابت ہوا کہ شروع والا رفع الیدین نماز میں داخل ہے۔

③ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

[إن رسول الله صلى الله عليه وسلم، كان إذا كبر رفع يديه حتىٰ يحاذي بهما أذنيه]
رسول اللہ ﷺ جب ”اللہ اکبر“ کہتے، تو رفع الیدین کرتے، یہاں تک کہ آپ کے ہاتھ کانوں کے برابر ہو جاتے۔
[صحيح مسلم: 391]

الحاصل:

تکبیر سے پہلے رفع الیدین کرنا، تکبیر کے بعد رفع الیدین کرنا اور تکبیر اور رفع الیدین ایک ساتھ کرنا، تینوں طریقے جائز ہیں۔