اہلِ کتاب کا ذبیحہ :
اہل کتاب اصلا توحید کے قائل ہیں، لیکن چونکہ ان کے اندر شرک داخل ہو گیا تھا اس لیے مسلمان یہ گمان کر سکتے تھے کہ ان کے ساتھ بھی بت پرستوں ہی کی طرح کا معاملہ کیا جاسکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کھانے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ فرمایا :
ٱلْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُ ۖ وَطَعَامُ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ
آج تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں۔ اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے۔
(المائدة : 5)
مختصراً اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آج کے دن تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں، لہذا نہ کوئی بحیرہ ہے نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام۔ اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ کا کھانا تمہارے لیے اصلا حلال ہے۔ اس کو ہر گز حرام نہیں کیا گیا۔ اسی طرح تمہارا کھانا بھی ان کے لیے حلال ہے لہذا تم ان کے ذبیحہ یا شکار کا گوشت کھا سکتے ہو اور اپنے ذبیحہ اور شکار کا گوشت ان کو کھلا سکتے ہوں۔
اسلام نے کھانے کے معاملہ میں مشرکین عرب کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا، لیکن اہل کتاب کے ساتھ نرمی برتنے کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب وحی نبوت اور فی الجملہ اصول دین کو مانتے ہیں۔ اس بنا پر وہ اہل ایمان سے قریب تر ہیں۔ ان کے کھانے میں شرکت ان کی عورتوں سے نکاح اور ان کے ساتھ حسن معاشرت کو مشروع قرار دے کر ان کو یہ موقع فراہم کر دیا گیا ہے کہ وہ اسلام کو اس کے گھر میں علم و عمل اور اخلاق و معاملات میں اپنی اصل شکل میں دیکھ لیں تاکہ ان کو معلوم ہو جائے کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو اعلیٰ حقائق کامل ترین صورت اور پاکیزہ صحیفوں پر مشتمل ہے اور شرک و بدعت اور غلو پر مبنی باتوں سے بالکل پاک ہے۔ آیت کے الفاظ طَعَامُ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتب (اہل کتاب کا کھانا) عام ہیں جو اُن کے تمام کھانوں کو شامل ہیں۔ ان کا ذبیحہ اناج وغیرہ سب چیزیں ہمارے لیے حلال ہیں جب تک کہ کوئی چیز فی نفسہ حرام نہ ہو۔ مثلاً مردار بہایا ہوا خون اور سور کا گوشت۔ ان چیزوں کا کھانا بالاجماع جائز نہیں ہے، خواہ وہ اہل کتاب کا کھانا ہو یا کسی مسلمان کا۔
جو کینساؤں اور تہواروں کے لیے ذبح کیا جائے:
کسی کتابی شخص کے بارے میں یہ بات سننے میں نہ آئی ہو کہ اُس نے ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام مثلاً مسیح یا عزیر کا نام لیا تھا، تو اس کا ذبیحہ کھانا حلال ہے۔ البتہ جب سننے (یا دیکھنے) میں آیا ہو کہ اُس نے غیر اللہ کا نام لیا تھا تو بعض فقہاء اس ذبیحہ کو حرام کہتے ہیں، کیونکہ یہ مَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِهِکے حکم میں شامل ہے۔ اور بعض فقہاء کہتے ہیں کہ اللہ نے ان کا کھانا ہمارے لیے مباح ٹهرایا ہے اور اسے معلوم ہے کہ یہ لوگ ذبح کرتے وقت کیا کہتے ہیں۔
المغني ميں هے كه اگر كوئي كتابي الله كا نام لينا دانسته طور پر ترك كر دے يا غير الله كا نام لے تو اس كا ذبيحه حلال نهيں هوگا. سيدنا على رضى الله عنه سے يهي منقول هے. اور امام شافعي رحمه الله، اسحاق رحمه الله، حماد بن ابي سليمان اور اصحاب الرائے كا بهي يهي قول هے. اهل كتاب كا كهانا حلال هونے سے متعلق آيت كا مطلب يه هے كه ان كا وه ذبيحه حلال هے جس ميں مقرره شرائط كي تكميل كي گئي هو جس طرح كه مسلمان كو كرنا پڑتي هے. هاں اگر يه معلوم نه هو كه ذبح كرنے والے نے الله كا نام ليا تها يا نهيں، يا غير الله كا نام ليا تها يا نهيں تو اس كا ذبيحه كهانا جائز هے كيونكه الله نے همارے ليے مسلمان اور كتابي كا ذبيحه جائز كر ديا هے آنحاليكه اسے معلوم هے كه هم هر ذبح كرنے والے كے حال سے واقف نهيں هو سكتے. المغني لابن قدامه، ج 9 ص : 571، مترجم
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بھی ان سے کنیسہ کے لیے ذبح کیے ہوئے مینڈھے کے بارے میں جسے ”جرجس“ کہا جاتا تھا، پوچھا گیا کہ کیا کنیسہ کے اس نذرانہ سے ہم کھا سکتے ہیں؟ آپ نے سائل کو جواب دیا : یہ اہل کتاب ہیں، ان کا کھانا ہمارے لیے حلال ہے اور ہمارا کھانا ان کے لیے حلال ہے۔ پھر اس سے کہا ”کھا سکتے ہو۔“
تفسیر طبری 580/9
اسی طرح امام مالک رحمہ اللہ سے اہل کتاب کے اس ذبیحہ کے بارے میں پوچھا گیا جس کا نذرانہ وہ اپنے تہوار کے موقع پر اور کینساؤں کے لیے پیش کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : میں اسے مکروہ خیال کرتا ہوں، حرام نہیں سمجھتا۔ آپ ہمیشہ کا مکروہ خیال کرنا تو رع سے ہے اور حرام نہ سمجھنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک مَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِه کا مفہوم اہل کتاب کی نسبت سے یہ ہے کہ جسے انہوں نے اپنے معبودوں کے تقرب کے لیے ذبح کیا ہو اور اسے وہ خود کھاتے نہ ہوں (بلکہ اس کا نذرانہ پیش کرتے ہوں) لیکن جسے ذبح کر کے خود کھاتے ہوں تو اس کا شمار اُن کے کھانے میں ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ : وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ حِلٌّ لَكُمْ ”اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے۔“
سورۃ المائدہ : 5
الیکٹرک شاک کا ذبیحہ اور بند ڈبوں کے گوشت کا حکم :
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ اہل کتاب کے ذبح کرنے کا طریقہ ہمارے طریقے کے مطابق ہو یعنی حلق کو کسی تیز آلہ سے کاٹ دیا جائے؟ اکثر علماء اسے ضروری سمجھتے ہیں، لیکن مالکیہ کے ایک گروہ کا فتوی ہے کہ یہ ضروری نہیں۔ قاضی ابن العربی سورۃ مائدہ کی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ اہل کتاب کا شکار اور کھانا ان پاک چیزوں میں سے ہے جن کو اللہ نے جائز ٹھہرایا ہے۔ یہ مطلقاً حلال ہے اور اس کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے تاکہ شکوک و شبہات رفع ہوں اور غلط خیالات کا ازالہ ہو جائے۔ میرے سامنے یہ سوال پیش کیا گیا کہ نصرانی مرغی کی گردن مروڑ دیتے ہیں اور پھر اسے پکا لیتے ہیں۔ ایسی صورت میں کیا ہم ان کے ساتھ کھا سکتے ہیں یا ان کا کھانا کھایا جاسکتا ہے؟ میں نے کہا : ”کھایا جاسکتا ہے کیونکہ یہ نصاری اور ان کے احبار و رہبان کا کھانا ہے۔ اگر چہ ہمارے نزدیک ذبح کرنے کا یہ طریقہ درست نہیں ہے لیکن اللہ نے ان کا کھانا ہمارے لیے مطلقا جائز کر دیا ہے۔ اور ہر وہ کھانا جس کو وہ اپنے دین میں جائز سمجھتے ہوں وہ ہمارے لیے حلال ہے ماسوائے ان کھانوں کے جن کے بارے میں اللہ نے انہیں جھوٹا قرار دیا ہے۔ ہمارے علماء کا کہنا ہے کہ یہ اہل کتاب اپنی عورتیں ہماری زوجیت میں دے دیتے ہیں، جن کے ساتھ مباشرت جائز ہے پھر ہم ان کا ذبیحہ کیوں نہ کھائیں ؟ حلت و حُرمت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو کھانا مباشرت سے کم درجہ کی چیز ہے۔“
يه بات كه اهل كتاب كا ذبيحه همارے ليے مطلقاً جائز هے ايك شاذ قول هے جو محتاجِ دليل هے. قرآن كريم نے ان كے جس ذبيحه كو جائز قرار ديا هے وه مشروع ذبيحه هے نه كه غير مشروع. جس سياق ميں اهل كتاب كے ذبيحه كو جائز قرار ديا گيا هے اس سے يه بات اچهي طرح واضح هے كه جس جانور كو شرعي طريقه پر ذبح كيا گيا هو اس كا كهانا جائز هے البته ذبح كرنے والا اهل كتاب ميں سے هو تو كوئي حرج نهيں. مشروع طريقه پر ذبح كرنے كي شرط معهود هے اس ليے اس كو نظر انداز كر كے اهل كتاب كے هر ذبيحه كو جائز سمجهنا صحيح نهيں هے. اس بنا پر اُن كي گردن مروڑي هوئي مرغي همارے ليے حلال نهيں هے. (مترجم)
موصوف دوسری جگہ فرماتے ہیں :
یہ لوگ ذبح نہیں کرتے بلکہ گلا گھونٹ کر یا سر کچل کر ہلاک کر دیتے ہیں اور پھر اسے کھاتے ہیں، اس لیے یہ حرام مردار ہے لیکن (یہ عدم جواز کی صورت اور اوپر جواز کی جو صورت مذکور ہوئی ان) دو باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ اہل کتاب جس کے بارے میں یہ سمجھتے ہوں کہ یہ درست ذبیحہ ہے اس کا کھانا ہمارے لیے حلال ہے اگرچہ ہمارے نزدیک ان کے ذبح کرنے کا طریقہ درست نہ ہو لیکن جس کے بارے میں وہ خود بھی یہ مجھتے ہوں کہ یہ ذبیحہ درست نہیں ہے وہ ہمارے لیے بھی حلال نہیں ہے۔ ذبح کا مشترک مفہوم یہ ہے کہ جانور کی جان نکالنے کا قصد وارادہ ، اس کا کھانا حلال کرنے کی نیت سے کیا گیا ہو۔“ یہ مسلک مالکیہ کے ایک گروہ کا ہے۔ ان باتوں کی روشنی میں ہم محفوظ کیسے ہوئے (بند ڈبوں کے) گوشت کا حکم سمجھ سکتے ہیں، جسے اہل کتاب کے یہاں سے درآمد کیا جاتا ہے۔ مثلاً : مرغی کا محفوظ کیا ہوا گوشت جو بعض اوقات الیکٹرک شاک کے ذبیحہ کا ہوتا ہے لیکن جب تک وہ اسے حلال ذبیحہ سمجھتے ہیں (درج بالا آیت کے عموم کے مطابق) ہمارے لیے حلال ہے۔
جب يه معلوم هے كه عام طور سے بند ڈبه كا گوشت غير شرعي طريق پر ذبح كيے هوئے جانور كا هوتا هے، مثلاً : جهٹكا كيا هوا يا جس كو ذبح كرتے وقت دانسته الله كا نام نهيں ليا گيا، تو ايسا گوشت محض اهل كتاب كي طرف منسوب هو جانے سے همارے ليے كس طرح جائز هوگا ؟ كسي چيز كا حكم عام طريقه كو ديكه كر هي لگايا جاتا هے اور جو جانور غير مشروع طريقه پر ذبح كيا گيا هو اس كا كهانا جائز نهيں، خواه ذبح كرنے والا مسلمان هو يا عيسائي. (مترجم)
رہا وہ گوشت جو کمیونسٹ ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے تو ان کا کھانا ہمارے لیے کسی طرح جائز نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ تمام ادیان نیز اللہ اور رسالت سب کے منکر ہیں، اس لیے ان کا شمار اہل کتاب میں سے ہرگز نہیں ہے۔
مجوسیوں وغیرہ کا ذبیحہ :
مجوسیوں کے ذبیحہ کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ اکثر علماء کھانے سے منع کرتے ہیں کیونکہ وہ مشرک ہیں۔ دیگر اہل علم کہتے ہیں کہ حلال ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
سنوا بهم سنة أهل الكتاب
”ان کے ساتھ اہل کتاب کا سا طریقہ اختیار کرو۔“
موطا امام مالک 287/1 کتاب الزکاۃ: باب جزیۃ اہل الکتاب والمجوس، ح 42 کتاب الام للامام الشافعی 240,174/4
اور یہ واقعہ ہے کہ ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا گیا تھا۔
بخاری، کتاب الجزیہ : باب الجزیہ والموادعہ مع اہل الحرب ، ح 3156، 3157
”جمهور علماء كے نزديك مجوس كا ذبيحه جائز نهيں هے. مثلاً : سيدنا ابن مسعود رضي الله عنه، سيدنا ابن عباس رضي الله عنه، سيدنا على رضي الله عنه، سيدنا جابر رضي الله عنه، امام مالك رحمه الله، امام زهري رحمه الله، امام ثوري رحمه الله، امام شافعي رحمه الله، اصحاب الرائے اور امام احمد رحمه الله وغيره. ابن قدامه كے نزديك سنوا بهم سنة أهل الكتاب (ان كے ساته اهل كتاب كا سا معامله كرو) كا تعلق جزيه سے هے. ذبيحه اور ان كي عورتوں كے ساته نكاح كرنے سے نهيں هے. (ملاحظه هو : المغني ج 570,48)
علامه جصاص حنفي رحمه الله فرماتے هيں : مجوس كے بارے ميں اختلاف هے. اكثر فقهاء كهتے هيں كه وه اهل كتاب نهيں هيں. اور جو اُن كے اهل كتاب هونے كے قائل هيں وه شاذ هيں. ان كے اهل كتاب نه هونے كي دليل يه هے كه دو گروهوں كو اهل كتاب قرار ديا هے. قرآن ميں هے : أَنْ تَقُولُوا إِنَّمَا أُنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا اگر مجوس اهل كتاب سے هوتے تو ذكر تين گروه كا هوتا. اسي طرح نبي صلى الله عليه وسلم نے يه نهيں فرمايا كه مجوس اهل كتاب ميں سے هيں بلكه يه فرمايا كه ”اُن كے ساته اهل كتاب كا سا معامله كرو.“ آپ صلى الله عليه وسلم نے يه بات خاص طور پر جزيه كے بارے ميں فرمائي. (ملاحظه هو أحكام القرآن للجصاص ج 2 ص : 400) (مترجم)
ابن حزم رحمہ اللہ اپنی کتاب “المحلی“ میں ذبیح کے باب میں فرماتے ہیں : وہ بھی کتاب رکھتے ہیں اس لیے ان تمام باتوں میں وہ اہل کتاب کے حکم میں
ہیں۔“
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک صابی بھی اہل کتاب سے ہیں۔
قاعدہ : جو چیز نظروں سے غائب ہے اس کی تفتیش میں نہیں پڑنا چاہیے :
ایک مسلمان کے لیے ضروری نہیں کہ جو چیز اس کی نظروں سے غائب ہو اس کے بارے میں تفتیش کرے کہ اس کو کس طرح ذبح کیا گیا تھا؟ ذبح کی شرائط پوری کی گئی تھیں یا نہیں؟ اس پر اللہ کا نام لیا گیا تھا یا نہیں؟ بلکہ جو ہماری نظروں سے غائب ہو اور ذبح کرنے والا مسلمان ہو، خواہ وہ جاہل ہو یا فاسق یا وہ اہل کتاب میں سے ہو تو اس کا کھانا حلال ہے۔ اس سے پہلے ہم بخاری کی یہ حدیث بیان کر چکے ہیں :
إن قوما سألوا النبى صلى الله عليه وسلم فقالوا إن قوما يأتوننا باللحم لانذرى أذكروا اسم الله عليه أم لا؟ فقال : سموا الله عليه أنتم وكلوا
کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بعض لوگ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے اُس پر اللہ کا نام لیا تھا یا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ کا نام لو اور کھاؤ“
بخارى كتاب التوحيد باب ان لله مائة اسم الا واحدة ح 2057 , 7398
علماء کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ افعال و تصرفات کو صحت و سلامت پر محمول کیا جائے گا، الا یہ کہ فساد و بطلان پر کوئی دلیل قائم ہو۔