دو قسم کے شہیدوں کے جنت میں جانے سے اللہ تعالیٰ کو ہنسی آتی ہے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يضحك الله إلى رجلين يقتل أحدهما الآخر كلاهما يدخل الجنة فقالوا كيف يا رسول الله قال يقاتل هذا فى سبيل الله فيستشهد ثم يتوب الله على القاتل فيسلم فيقاتل فى سبيل الله عز وجل فيستشهد.
”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کو دو آدمیوں سے ہنسی آتی ہے، ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے لیکن دونوں ہی جنت میں داخل ہوتے ہیں۔ “ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! یہ کیسے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (ایک) اللہ کی راہ میں لڑتا ہے وہ شہید ہو گیا، پھر اللہ تعالیٰ قاتل کو توبہ کی توفیق عطا فرماتا ہے وہ مسلمان ہو جاتا ہے، پھر وہ اللہ کی راہ میں قتال کرتا ہے وہ بھی شہید ہو جاتا ہے۔ “
(صحیح بخاری و مسلم) (رواہ مسلم، کتاب الإمارة، باب بیان الرجلین یقتل أحدہما الآخر یدخلان الجنة، واللفظ لہ، الرقم: 1890، والبخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب الکافر یقتل المسلم، الرقم: 2826)

تشریح

قاعدہ اور ضابطہ تو یہ ہے کہ قاتل و مقتول ایک ساتھ جنت یا جہنم میں جمع نہیں ہوں گے، اگر مقتول اور شہید (جو اللہ کی راہ میں شہید ہوا) جنتی ہے تو یقیناً اس کا قاتل جہنم میں جائے گا لیکن اللہ پاک خود اپنی قدرت کے عجائبات ملاحظہ فرماتا ہے تو اسے ہنسی آ جاتی ہے (جو اللہ کی ذات کے لائق و مناسب ہے) کہ ایک شخص نے کافروں کی طرف سے لڑتے ہوئے ایک مسلمان مجاہد کو شہید کر دیا، پھر اللہ کی قدرت کہ اس کو بھی اسلام کی دولت نصیب ہوئی اس کے بعد یہ بھی مسلمانوں کی طرف سے اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے شہید ہو جاتا ہے، اس طرح قاتل و مقتول دونوں جنت میں داخل ہو گئے۔ اور یہی اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے۔