سر مونڈنے، بال سنوارنے، مہندی لگانے اور کالے خضاب کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

کتاب اللباس

سرمونڈنے کے متعلق احکامات

① سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ کو ان کی شہادت کی خبر موصول ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آلِ جعفر کو تین روز تک سوگ منانے کی مہلت دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو فرمایا:
لا تبكوا على أخي بعد اليوم ثم قال: ادعوا الی بنی اخی
”آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا۔“ پھر فرمایا: میرے بھتیجوں کو میرے پاس لاؤ۔
انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو وہ ایسے نرم و نازک تھے جیسے چوزے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أدعوا إلى الحلاق، فامره فحلق روسنا
”حجام کو میرے پاس لاؤ۔“ آپ نے اسے حکم فرمایا تو اس نے ہمارے سر مونڈ دیے۔
ابوداؤد، کتاب الزينة، باب في الحلق الراش 4192، النسائي، كتاب الزينة 8/ 182، مسند احمد 1 / 204، روایت صحیح ہے۔
② سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے بال لمبے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
ذباب ، ذباب
”نحوست، نحوست۔“
(اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی نہیں تھا۔ میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا میرے لیے تھا؟ پس میں باہر آیا اور بال کاٹ دیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إني لم أعنك ، وهذا أحسن
”میں نے آپ سے کوئی برا قصد نہیں کیا تھا، البتہ یہ حالت زیادہ بہتر ہے۔“
ابوداؤد، كتاب الترجل 4190، النسائى، كتاب الزينة 135.131/8.

بالوں کو سنوار کر رکھنا

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان له شعر فليكرمه
”جس شخص کے بال ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ اس کی تکریم کرے۔“
ابو داؤد، کتاب الترجل، باب في اصلاح الشعر 4163۔
② سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میری زلفیں مونڈھوں تک لٹکی ہوئی ہیں، کیا میں ان میں کنگھی کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نعم وأكرمها
”ہاں! ان کی تکریم کرو۔“
راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان
نعم وأكرمها
ہاں! ان کی تکریم کرو کی وجہ سے بعض اوقات انہیں دن میں دو مرتبہ تیل لگاتے تھے۔
الموطا، كتاب الجامع، باب في اصلاح الشعر 2/ 949، یہ روایت ضعیف ہے، اس میں یحیی بن سعید اور ابوقتادہ کے درمیان انقطاع ہے۔

بالوں کو مہندی لگانے کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أحسن ما غير به الشيب الحناء والكتم
”سفید بالوں کو مہندی اور کتم ایک پودا جس کے بیج سے بالوں کو خضاب کیا جاتا تھا سے رنگنا سب سے اچھا ہے۔“
أبوداؤد، كتاب الترجل 4205، ترمذی، کتاب العباس 1753۔
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص گزرا جس نے مہندی سے بال رنگے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما أحسن هذا
”یہ کس قدر اچھا ہے!“
پھر ایک اور شخص گزرا جس نے مہندی اور کتم سے خضاب کیا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
هذا أحسن من هذا
”یہ اس سے بہتر ہے۔“
پھر ایک اور شخص گزرا جس نے زرد رنگ سے خضاب کیا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
هذا أحسن من هذا كله
”یہ ان سب سے بہتر ہے۔“
ابوداؤد، کتاب الترجل 4211۔

داڑھی پر کالا خضاب لگانے کی ممانعت

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قوم يخضبون بالسواد فى آخر الزمان كحواصل الحمام لا يريحون رائحة الجنة
”آخری دور میں لوگ کبوتر کے پوٹے معدے کی طرح کالا رنگ کریں گے، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے۔“
ابوداؤد، کتاب الترجل 4212، نسائی، کتاب الزينه 119/8۔ مسند احمد و من مسند بنی هاشم 357/1۔
② سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، فتح مکہ کے دن سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابو قحافہ کو لایا گیا تو ان کا سر اور داڑھی ثغامہ ایک درخت جو پہاڑ کی چوٹی پر اگتا ہے اور اس کا پھل اور پھول سفید ہوتے ہیں اور جب وہ خشک ہو جاتا ہے تو اس کی سفیدی اور بڑھ جاتی ہے کی طرح سفید تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
غيروا هذا واجتنبوا السواد
”اسے تبدیل کرو، البتہ کالے سے اجتناب کرنا۔“
مسلم، كتاب اللباس والرينة 2102/78، ابوداؤد، كتاب الترجل 4204، ابن ماجه، کتاب اللباس 3624۔