رفع الیدین میں ہاتھ اٹھانے کی مسنون حد اور کانوں کو چھونے کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری کی کتاب مسئلہ رفع الیدین سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

ہاتھ کہاں تک اٹھائیں؟

نماز میں ہاتھ کہاں تک اٹھائے جائیں، اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات ملاحظہ ہوں:

① عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا:

[إذا قام في الصلاة رفع يديه حتىٰ تكونا حذو منكبيه]
آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے، تو دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے۔
[صحيح البخاري: 736، صحيح مسلم: 390]

② سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

[إن رسول الله صلى الله عليه وسلم، كان إذا كبر رفع يديه حتىٰ يحاذي بهما أذنيه]
رسول اللہ ﷺ جب ”اللہ اکبر“ کہتے، تو رفع الیدین کرتے، یہاں تک کہ آپ کے ہاتھ کانوں کے برابر ہو جاتے۔
[صحيح مسلم: 391]
❀ صحیح مسلم کی اسی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں:
[حتىٰ يحاذي بهما فروع أذنيه]
یہاں تک کہ آپ اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو تک اٹھاتے۔
[صحيح مسلم: 391]
نماز کے شروع میں رفع الیدین کرتے وقت انگوٹھے کے ساتھ کانوں کی لو کو مس کرنا (چھونا) بدعت ہے، نبی کریم ﷺ، کسی صحابی، تابعی، تبع تابعی یا ثقہ امام سے ثابت نہیں، بلکہ بہت بعد کی ایجاد ہے۔

احناف کی معتبر کتب میں مندرج ہے:

[يرفع يديه حذاء أذنيه ويمس طرف إبهاميه شحمة أذنيه وأصابعه فوق أذنيه]
ہاتھ کانوں تک اٹھائے گا، انگوٹھے کانوں کی لو کو چھوئیں گے اور انگلیاں کانوں کے اوپر تک جائیں گی۔
[فتاویٰ قاضی خان: 41/1]
❀ دوسری کتاب میں ہے:
[ماسا بإبهاميه شحمة أذنيه]
انگوٹھے کانوں کی لو کو چھوئیں گے۔
[الدر المختار: 74/1]

عید کی تکبیروں کے بارے میں ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں:

[يرفع يديه ماسا بإبهاميه شحمة أذنيه]
ہاتھ اس طور اٹھائے گا کہ انگوٹھے کانوں کی لو کو چھو رہے ہوں گے۔
[فتاویٰ شامی: 617/1]

فقہ حنفی میں ہے:

[ماسا بإبهاميه شحمة أذنيه]
انگوٹھوں سے کانوں کی لو چھوئے گا۔
[شرح الوقایة: 143/1]

مزید ملاحظہ فرمائیں:

[ذكر صاحب هداية أيضا في مختارات النوازل المس، وقال القهستاني في جامع الرموز: ذكر في النظم أن محاذاة الإبهام الشحمة مسنونة، وفي ظاهر الأصول محاذاة إليه الأذن ويكره التجاوز عنها والمس لم يذكر في المتداولات إلا في فتاوى قاضي خان والظهيرية والقول بأنه لتحقيق المحاذاة ليس بشيء]
صاحبِ ہدایہ نے بھی ’’مختارات النوازل‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ انگوٹھے کانوں کی لو کو چھوئیں، کوہستانی نے ’’جامع الرموز‘‘ میں ’’نظم‘‘ کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ انگوٹھوں کو کانوں کی لو کے برابر کرنا مسنون ہے، ’’ظاہر الاصول‘‘ میں لکھا ہے کہ کانوں کے برابر ہونے چاہیے، کانوں کی لو سے تجاوز کرنا مکروہ ہے، سوائے فتاویٰ قاضی خان اور ظہیریہ کے کسی متداول کتاب میں کانوں کی لو کو چھونے کا ذکر نہیں ہے اور یہ کہنا کہ کانوں کی لو کو چھونے سے انگوٹھوں کا کانوں سے برابر ہونا ثابت ہو جاتا ہے، فضول بات ہے۔
[السعاية في كشف ما في شرح الوقاية لعبد الحي اللكنوي الحنفي: 152/2]

اس کے رد میں علامہ عبدالحی حنفی لکھنوی (1304ھ) یوں بیان کرتے ہیں:

[هو ليس بسنة مستقلة فإنه لا دليل عليه في رواية]
یہ مستقل سنت نہیں ہے، کیونکہ حدیث میں اس پر دلیل نہیں ہے۔
[عمدة الرعاية: 143/1]

مولانا عبدالشکور لکھنوی لکھتے ہیں:

ہمارے فقہاء نے جو لکھا کہ انگوٹھے کو کانوں سے مل جانا چاہیے، چنانچہ ہم بھی اوپر لکھ چکے ہیں، وہ صرف اس خیال سے لکھا ہے کہ جس میں ہاتھوں کا کانوں کے برابر اٹھنا یقین ہو جائے، سنت سمجھ کر نہیں لکھا ہے، نہ اس کو سنت سمجھنا چاہیے، اس لیے کسی حدیث سے یہ مضمون ثابت نہیں ہوتا، واللہ اعلم!
[علم الفقه، حصہ دوم، ص 214، 215]
❀ ہمارا منصفانہ سوال ہے کہ سنت کی موجودگی میں رفع الیدین کے لیے نیا انداز کیوں؟

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

[رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع إبهاميه في الصلاة إلىٰ شحمة أذنيه]
میں نے رسول اللہ ﷺ کو انگوٹھے کانوں کی لو تک اٹھاتے دیکھا۔
[سنن أبي داؤد: 724، 737، سنن النسائي: 883]

تبصرہ:

اس حدیث کی سند ”ضعیف“ ہے، عبدالجبار بن وائل کا اپنے والد وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے سماع ولقا نہیں، حافظ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[لم يدركه باتفاقهم]
محدثین کا اتفاق ہے کہ عبدالجبار کا اپنے باپ سے سماع نہیں۔
[خلاصة الأحكام: 422/1]
ثابت ہوا کہ رفع الیدین میں ہاتھوں کو کانوں کی لو سے مس کرنا ثابت نہیں۔

علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

[من تبين له من العلم ما كان خافیا عليه فاتبعه فقد أصاب واهتدىٰ، زاده الله هدى]
جس پر علم کا کوئی مخفی گوشہ ظاہر ہوا اور اس نے اسے اپنا لیا، وہ راہِ ہدایت پہ ہے، اللہ اسے مزید ہدایت عطا کرے۔
[التنبيه على مشكلات الهداية: 543/2]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

[رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم كبر فحاذىٰ بإبهاميه أذنيه]
میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے انگوٹھے کانوں تک اٹھائے۔
[سنن الدارقطني: 345/1، المستدرك للحاكم: 266/1، السنن الكبرى للبيهقي: 99/2]
سند ’’ضعیف‘‘ ہے۔
علاء بن اسماعیل عطار ’’مجہول‘‘ ہے، اسے حافظ ابن حجر (التلخیص: 271/1) نے ’’مجہول‘‘ کہا ہے، امام حاکم کا اس کی سند کو ’’صحیح‘‘ کہنا درست نہیں۔
اس میں حفص بن غیاث کی تدلیس ہے۔
امام ابو حاتم نے اسے ’’منکر‘‘ کہا ہے (العلل: 188/1)
حدیث براء بن عازب بھی ’’ضعیف‘‘ ہے، اس میں یزید بن ابی زیاد جمہور محدثین کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ اور ’’مدلس‘‘ ہے۔

فائدہ نمبر①

سنن ابی داؤد (728) میں سینے تک ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے۔ یہ روایت قاضی شریک کی ’’تدلیس‘‘ کی وجہ سے ضعیف ہے۔

فائدہ نمبر②

کئی احادیث میں ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے تھے، جیسا کہ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ وغیرہ بیان کرتے ہیں۔
صاحبِ ہدایہ لکھتے ہیں:
[ما رواه يحمل علىٰ حالة العذر]
کندھوں کے برابر جتنی روایات ہیں، سب حالتِ عذر پر محمول ہیں۔
[الهداية: 99/1]

اس تاویل کے رد و تعاقب میں علامہ عینی حنفی (855ھ) لکھتے ہیں:

[لا حاجة إلىٰ هٰذه التكلفات]
ان احادیث کے جواب میں ایسے تکلفات کی کوئی ضرورت نہیں۔
[البناية شرح الهداية: 172/2]

شارحِ ہدایہ، ابنِ ہمام حنفی (861ھ) لکھتے ہیں:

[لكن الحق أن لا معارضة كما أسمعتك فلا حاجة إلىٰ هٰذا الحمل ليدفع التعارض]
حق یہ ہے کہ ان احادیث سے معارضہ نہیں کرنا چاہیے، جیسا کہ میں نے بیان کر دیا ہے، لہٰذا تعارض دور کرنے کے لیے ایسی تاویلیں کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔

(فتح القدیر: 282/1)