زبان کی حفاظت کرنے کا ثواب
عن أبى موسى رضى الله عنه قال: قلت: يا رسول الله! أى المسلمين أفضل؟ قال: من سلم المسلمون من لسانه ويده .
”سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! کون سا مسلمان افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔“
صحیح بخاری، کتاب الإيمان، باب أي الإسلام أفضل؟ رقم: 11۔ صحیح مسلم، باب بيان تفاضل الإسلام، رقم: 42۔
عن سهل بن سعد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم : من يضمن لي ما بين لحييه وما بين رجليه أضمن له الجنة .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مجھے دو جبڑوں کے درمیان چیز (زبان) کی اور دو ٹانگوں کے درمیان چیز (شرمگاہ) کی حفاظت کی ضمانت دے دے، تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“
صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب حفظ اللسان، رقم: 6474۔
سیدنا ابو شریح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ:
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر، فليقل خيرا، أو ليصمت
”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ یا تو بھلائی کی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الرقاق، رقم: 6476۔ صحیح مسلم، کتاب اللقطة، باب الضيافة ونحوه، رقم: 48۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إن العبد ليتكلم بالكلمة من رضوان الله لا يلقي لها بالا يرفع الله بها درجات، وإن العبد ليتكلم بالكلمة من سخط الله لا يلقي لها بالا يهوي بها فى جهنم .
”ایک آدمی انجام سے بے پرواہ ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضامندی والا کلمہ کہہ دیتا ہے اور اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے درجات کو بلند فرما دیتا ہے۔ اسی طرح انجام سے بے پرواہ ہو کر ایک آدمی اللہ کی ناراضگی والا کوئی لفظ کہہ دیتا ہے اور اس ایک لفظ کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب حفظ اللسان، رقم: 6478۔
امام یونس بن عبید اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جب بندے کی دو چیزیں درست ہو جائیں تو باقی سب خود بخود درست ہو جاتا ہے۔ ایک اس کی نماز، اور دوسری اس کی زبان۔“
سير أعلام النبلاء: 6/ 293۔
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یقیناً مؤمن کم گو اور کثیر العمل ہوتا ہے، جبکہ منافق کثیر الکلام قليل العمل ہوتا ہے۔“
سير أعلام النبلاء: 7/ 125۔