اذان دینے کے فضائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

اذان دینے کے فضائل

عن معاوية رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله يقول: المؤذنون أطول الناس أعناقا يوم القيامة .
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” اذان دینے والے قیامت کے دن دیگر تمام لوگوں سے لمبی گردن والے ہوں گے۔“
صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب فضل الأذان، رقم: 387.
عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبى صعصعة أن أبا سعيد الخدري رضى الله عنه قال له: إني أراك تحب الغنم والبادية ، فإذا كنت فى غنمك أو باديتك فأذنت للصلاة فارفع صوتك بالنداء ، فإنه لا يسمع مدى صوت المؤذن جن ولا إنس ولا شيء إلا شهد له يوم القيامة قال أبو سعيد: سمعته من رسول الله ﷺ
سیدنا عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابی صعصعہ روایت کرتے ہیں کہ ان سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور جنگل کو پسند کرتے ہو، پس جب تم اپنی بکریوں یا جنگل میں ہو اور نماز کے لیے اذان کہو تو اذان میں اپنی آواز کو اونچا کیا کرو، اس لیے کہ مؤذن کی آواز کو آخری حصہ تک جو جن، انسان اور کوئی اور چیز سنتی ہے تو قیامت والے دن وہ اس کے لیے گواہی دے گی۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الاذان، باب رفع الصوت بالندأ، رقم: 609 .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله وملائكته يصلون على الصف المقدم ، والمؤذن يغفر له بمد صوته ، ويصدقه من سمعه من رطب ويابس، وله مثل أجر من صلى معه .
یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اور مؤذن کی بلند آواز کی وجہ سے اس کی مغفرت کی جائے گی ۔ اور خشکی و تری میں جس نے اس کی آواز سنی ، وہ اس کی تصدیق کرے گا اور اس کے لیے ثواب ہے مانند ثواب اسی شخص کے جس نے (اذان سن کر) نماز پڑھی ۔“
سنن نسائی ، کتاب الاذان ، باب رفع الصوت بالاذان ، رقم : 646 ۔ امام منذری نے اسے ”جید“ کہا ہے۔