اللہ کی حمد اور اس کا شکر ادا کرنے کا ثواب قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکر ادا کرنے کا ثواب

بنی نوع انسان پر اللہ عظیم و برتر کے بے پایاں احسانات ہیں۔ ان کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ، منعم حقیقی کا شکر ادا کیا جائے۔ سلف کا کہنا ہے کہ:
شكر المنعم واجب
منعم حقیقی کا شکر ادا کرنا واجب ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بندوں کو شکر ادا کرنے کا حکم بایں الفاظ دیا:
﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ﴾
پس تم لوگ مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔ اور میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو۔
(2-البقرة:152)
ذیل کی آیت کریمہ میں سیدنا سلیمان علیہ السلام کے ایک سفر کا ذکر ہے، جب وہ جنوں، انسانوں اور چڑیوں پر مشتمل اپنی ایک منظم و مرتب فوج کے ساتھ روانہ ہوئے۔ راستہ میں ان کا گزر ایک ایسی وادی پر سے ہوا، جس میں چیونٹیاں پائی جاتی تھیں۔ ایک چیونٹی نے اس لشکر جرار کو دیکھ کر دیگر چیونٹیوں سے کہا کہ تم سب جلد از جلد اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، کہیں تمہیں سلیمان اور اس کے لشکر کے افراد غیر شعوری طور پر کچل نہ دیں۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام اس کی یہ بات سن کر مسکرانے لگے اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے دعا کرنے لگے:
﴿رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ﴾
”میرے رب! مجھے توفیق دے کہ تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے ماں باپ کو دی ہیں، اور ایسا نیک کام کروں جسے تو پسند کرتا ہے، اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل کر دے۔“
(27-النمل:19)
علامہ شوکانی رحمہ اللہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ”باپ ماں پر احسان گویا آدمی پر احسان ہوتا ہے، اس لیے اس پر بھی اللہ کا شکر ادا کرنے کی توفیق مانگی، اور چاہا کہ دنیاوی نعمتوں کے ساتھ اللہ انہیں دینی نعمت سے نوازے، اس لیے عمل صالح کی توفیق مانگی۔ اور مرد مؤمن کا انتہائے مقصود آخرت کی کامیابی ہے، اس لیے آخر میں دعا کی کہ اللہ انہیں قیامت کے دن اپنے نیک بندوں میں شامل کر دے۔
یہاں علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے اپنے لیے دعا کی ہے کہ اے میرے اللہ ! میں بھی تجھ سے وہی مانگتا ہوں جو تیرے نبی کریم سلیمان علیہ السلام نے تجھ سے مانگا تھا، تو میری دعا قبول کر لے اور مجھ پر فضل فرما، اگر چہ میں عمل میں کوتاہ ہوں، لیکن جنت کے حصول کا سبب محض تیر افضل وکرم ہے۔
فتح القدير : 295/2.
ہم عاجز و خطاوار بندے بھی اپنے ہاتھوں کو اللہ ارحم الراحمین، رؤف اور رحیم کے حضور پھیلا کر دعا کرتے ہیں کہ ہمارے پروردگار! ہم بھی تجھ سے تیری رضا اور عمل صالح کی توفیق مانگتے ہیں، اور مولائے کریم ! بڑی عاجزی و انکساری کے ساتھ تیرے سامنے سر بسجود ہو کر دعا کرتے ہیں کہ روز قیامت ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے اپنے صالحین میں شامل کر دینا، اور ہمارے والدین، ہمارے بھائی بہن، ہماری بیویوں اور ہماری اولاد اور دوستوں کو بھی اپنے لطف وکرم کے سائے میں جگہ عطا فرما دینا ۔ آمین !
جو شخص اللہ کا شکر ادا کرتا ہے ، اور دل سے ایمان لے آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کا بہترین اجر عطا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿مَّا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا﴾ ‎
اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے کر کیا کرے گا، اگر تم شکر گزاری کرتے رہو اور با ایمان رہو اور اللہ بہت قدر کرنے والا اور بڑا علم والا ہے۔
(4-النساء:147)
اگر کوئی اللہ تعالیٰ، منعم حقیقی کی عطا کردہ نعمتوں کا ایمان خالص اور عمل صالح کے ذریعے شکر ادا کرتا ہے، تو وہ اسے زیادہ روزی دیتا ہے اور دنیا میں معزز و مکرم بنا دیتا ہے، قرآن مجید میں ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ بھی کہا کہ:
﴿وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ﴾
”اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بے شک میں تمہیں زیادہ دوں گا، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔“
(14-إبراهيم:7)
اللہ تعالیٰ نے سید ولد آدم، سرکار دو عالم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم فرمایا کہ وہ اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے کہیں کہ وہی ذات واحد ہر حمد و ثناء کی مستحق ہے، نہ ہی دو جہان کی بادشاہت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ ہی اس میں عاجزی اور کمزوری پائے جانے کی وجہ سے اس ذات واحد کا کوئی ولی اور دوست ہے:
﴿وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا ﴾‎
اور آپ کہہ دیجیے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے، نہ اپنی بادشاہت میں کسی کو شریک و ساجھی رکھتا ہے، نہ وہ ایسا عاجز ہے کہ اس کا کوئی حمایتی ہو، اور آپ اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتے رہیے۔
(17-الإسراء:111)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إذا مات ولد العبد ، قال الله لملائكته : قبضتم ولد عبدي! فيقولون: نعم فيقول: قبضتم ثمرة فواده! فيقولون: نعم فيقول : فماذا قال عبدي؟ فيقولون: حمدك واسترجع . فيقول الله : ابنوا لعبدي بيتا فى الجنة ، وسموه بيت الحمد
”جب کسی بندے کی اولاد فوت ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے، تم نے میرے بندے کی اولاد (کی روح) کو قبض کیا ہے! تو وہ کہتے ہیں: ہاں۔ پس اللہ فرماتا ہے، تم نے اس کے دل کا پھل قبض کیا ہے! وہ کہتے ہیں: ہاں۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پس میرے بندے نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں، اس نے تیری حمد بیان کی اور إنا لله وإنا إليه راجعون پڑھا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، تم میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام ”بيت الحمد “ رکھو۔“
سنن ترمذي، أبواب الجنائز، باب فضل المصيبة إذا احتسب، رقم: 1021 – سلسلة الصحيحة، رقم: 1408.
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کھانا کھائے اور پھر یہ کلمات کہے: الحمد لله الذى أطعمني هذا ورزقني من غير حول مني ولا قوة
” تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے مجھے کھانا دیا اور مجھے بغیر میری طاقت وقوت کے رزق دیا“
تو اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
صحیح سنن ترمذى ، كتاب الدعوات، باب ما يقول اذا فرغ من الطعام ، رقم : 3458۔ سنن ابن ماجة، رقم: 3285.
”الحمد لله“ کہنا، اللہ کی حمد بیان کرنا افضل ترین دعا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:
أفضل الدعاء الحمد لله
”سب سے افضل دعا کلمہ «الحمد لله» ہے۔“
سنن ترمذی، کتاب الدعوات، رقم: 3383۔ سنن ابن ماجه رقم: 3800۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”حسن“ قرار دیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہمارے لیے اسوہ اور بہترین نمونہ ہیں، چنانچہ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آقائے نامدار، ختم الرسل، امام الانبیاء، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا:
إذا جاءه أمر سرور أو يسر به خر ساجدا ، شاكر الله تعالى
”جب آپ کے پاس کوئی خوش کر دینے والا معاملہ آتا تو آپ اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ ریز ہو جایا کرتے تھے۔“
سنن ابوداؤد، باب في سجود الشكر ، رقم: 2774 – علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح “ کہا ہے ۔
پھر نماز میں اتنے لمبے لمبے قیام، رکوع اور سجود کرتے کہ پاؤں مبارک پر ورم آ جایا کرتا تھا۔ لہذا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھتیں کہ اے اللہ کے محبوب رسول! آپ کی تو اللہ تعالیٰ نے اگلی پچھلی لغزشیں معاف فرما دی ہیں، پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: ”کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“
صحیح بخاری، کتاب التفسير ، رقم: 4837 – صحیح مسلم، كتاب التوبه، رقم: 7126.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ طرز در حقیقت ان آیات کی تفسیر تھا کہ جن میں اللہ رب العزت نے آپ سے فرمایا کہ آپ صرف اللہ کی عبادت کیجئے، اور توحید و نبوت اور دعوت ورسالت جیسی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتے رہیے:
﴿بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ﴾
بلکہ آپ اللہ کی بندگی کرتے رہیے اور اس کے شکر گزار بندوں میں شامل رہیے ۔
(39-الزمر:66)