تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین: دلائل اور مناظرے کی حقیقت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری کی کتاب مسئلہ رفع الیدین سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین

تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔

① سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

[كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة رفع يديه، حتىٰ إذا كانتا حذو منكبيه كبر، ثم إذا أراد أن يركع رفعهما، حتىٰ يكونا حذو منكبيه، كبر وهما كذٰلك، فركع، ثم إذا أراد أن يرفع صلبه رفعهما، حتىٰ يكونا حذو منكبيه، ثم قال: سمع الله لمن حمده، ثم يسجد، فلا يرفع يديه في السجود، ورفعهما في كل ركعة وتكبيرة كبرها قبل الركوع، حتىٰ تنقضي صلاته]
رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے، تو دونوں ہاتھوں کو بلند فرماتے، حتیٰ کہ جب وہ کندھوں کے برابر ہو جاتے، تو آپ ﷺ اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب رکوع کا ارادہ فرماتے، تو دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے، حتیٰ کہ وہ کندھوں کے برابر ہو جاتے، اسی حالت میں آپ اللہ اکبر کہتے۔ پھر رکوع فرماتے۔ جب آپ رکوع سے اپنی کمر اٹھانے کا ارادہ فرماتے، تو دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے۔ پھر سجدہ کرتے، لیکن سجدے میں رفع الیدین نہیں فرماتے تھے، البتہ ہر رکوع اور رکوع سے پہلے ہر تکبیر پر رفع الیدین فرماتے تھے، حتیٰ کہ اسی طرح آپ کی نماز مکمل ہو جاتی۔
[سنن أبي داؤد: 722، المنتقّٰى لابن الجارود: 178، والسياق له، وسنده حسن]
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رکوع سے پہلے کہی جانے والی ہر تکبیر پر رسولِ اکرم ﷺ رفع الیدین فرماتے تھے۔ تکبیراتِ عیدین بھی چونکہ رکوع سے پہلے ہوتی ہیں، لہٰذا ان میں رفع الیدین کرنا سنتِ نبوی سے ثابت ہے۔

ائمہ دین کا مذہب:

ائمہ دین بھی تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کے قائل تھے۔

امام اوزاعی رحمہ اللہ:

امام عبدالرحمن بن عمرو، اوزاعی رحمہ اللہ (157ھ) سے تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا:
[نعم، ارفع يديك مع كلهن]
ہاں، تمام تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین کیجیے۔
[أحكام العيدين للفريابي: 136، وسنده صحيح]

امام مالک رحمہ اللہ:

امام مالک بن انس رحمہ اللہ (179ھ) سے پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا:
[نعم، ارفع يديك مع كل تكبيرة، ولم أسمع فيه شيئا]
ہاں، ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کیجیے، میں نے اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں سنا۔
[أحكام العيدين للفريابي: 137، وسنده صحيح]

امام شافعی رحمہ اللہ:

امام، ابو عبداللہ، محمد بن ادریس، شافعی رحمہ اللہ (204ھ) فرماتے ہیں:
[يرفع يديه في كل تكبيرة على جنازة خبرا، وقياسا على أنه تكبير وهو قائم، وفي كل تكبير العيدين]
نمازِ جنازہ اور عیدین کی ہر تکبیر پر رفع الیدین کیا جائے گا، حدیثِ نبوی کی بنا پر بھی اور یہ قیاس کرتے ہوئے بھی کہ قیام کی تکبیر پر رفع الیدین کیا جاتا ہے۔
[کتاب الأم: 127/1]

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ:

امامِ اہل سنت، احمد بن حنبل رحمہ اللہ (241ھ) فرماتے ہیں:
[يرفع يديه في كل تكبيرة]
ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرے گا۔
[مسائل الإمام أحمد برواية أبي داؤد: 87]

امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ:

امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ (238ھ) کا بھی یہی مذہب ہے۔
[مسائل الإمام أحمد وإسحاق: 4054/8، م: 2890]

امام ابن منذر رحمہ اللہ:

امام، ابوبکر، محمد بن ابراہیم، ابن منذر، نیشاپوری رحمہ اللہ (319ھ) فرماتے ہیں:
[لأن النبي صلى الله عليه وسلم لما بين رفع اليدين في كل تكبيرة يكبرها المرء وهو قائم، وكانت تكبيرات العيدين والجنائز في موضع القيام، ثبت رفع اليدين فيها]
اس لیے بھی کہ نبی اکرم ﷺ نے قیام میں ہر تکبیر پر رفع الیدین بیان فرمایا ہے اور عیدین و جنازہ کی تکبیرات بھی قیام ہی میں ہیں، لہٰذا ان تکبیرات میں رفع الیدین ثابت ہو گیا۔
[الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف: 426/5]

نیز فرماتے ہیں:

[سن رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يرفع المصلي يديه إذا افتتح الصلاة، وإذا ركع، وإذا رفع رأسه من الركوع، وكل ذٰلك تكبير في حال القيام، فكل من كبر في حال القيام رفع يديه استدلالا بالسنة]
رسول اللہ ﷺ نے نماز شروع کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرنے کو سنت بنایا ہے۔ یہ ساری صورتیں قیام کی حالت میں تکبیر کی ہیں۔ لہٰذا جو بھی شخص قیام کی حالت میں تکبیر کہے گا، وہ اسی سنت سے استدلال کرتے ہوئے رفع الیدین کرے گا۔
[الأوسط: 282/4]

امام بیہقی رحمہ اللہ:

امام بیہقی رحمہ اللہ (458ھ) نے مذکورہ بالا حدیث پر یوں باب قائم فرمایا ہے:
[باب رفع اليدين في تكبير العيد]
عید کی تکبیرات میں رفع الیدین کا بیان۔
[السنن الكبرى: 411/3]

احناف کا موقف:

احناف بھی عیدین کی زائد تکبیروں میں رفع الیدین کے قائل ہیں، لیکن ان کی دلیل امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ایک قول ہے، جو کہ ان سے ثابت نہیں۔
وہ قول یوں ہے:
[ترفع الأيدي في سبع مواطن؛ في افتتاح الصلاة، وفي التكبيرات للقنوت في الوتر، وفي العيدين]
سات مواقع پر رفع الیدین کیا جائے گا؛ نماز کے شروع میں، وتروں میں قنوت کی تکبیرات میں، عیدین میں۔
[شرح معاني الآثار للطحاوي: 178/2]
یہ قول سخت ترین ’’ضعیف‘‘ ہے، کیونکہ:
① شعیب بن سلیمان بن سلیم کیسانی کی توثیق نہیں مل سکی۔
② قاضی ابو یوسف جمہور محدثین کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہے۔
❀ اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[تركوه]
محدثین کرام نے اسے ترک کر دیا تھا۔
[التاريخ الكبير: 397/8، ت: 3463]
③ امام ابو حنیفہ، نعمان بن ثابت رحمہ اللہ بھی بالاتفاقِ محدثین حدیث میں ضعیف ہیں۔
معلوم ہوا کہ احناف بھائیوں کے پاس تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کے ثبوت پر کوئی دلیل نہیں۔ اگر وہ حدیث پر عمل کرتے ہیں، تو انہیں رکوع جاتے اور سر اٹھاتے وقت کا رفع الیدین بھی کرنا چاہیے، کیونکہ حدیث میں تو قاعدہ و کلیہ بیان ہوا ہے کہ رکوع سے پہلے کہی گئی ہر تکبیر پر رفع الیدین کرنا سنتِ نبوی ہے۔
ہمارے بھائی ایک طرف تو رکوع جاتے اور سر اٹھاتے وقت کے رفع الیدین کے تارک ہیں، تو دوسری طرف عیدین کی زائد تکبیرات میں رفع الیدین کے قائل ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ نمازِ جنازہ کی تکبیرات میں رفع الیدین کے قائل نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں تمام عبادات میں سنتِ رسول کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

ایک مناظرہ کی روئیداد

بعض کتب میں امام اوزاعی (157ھ) اور امام ابو حنیفہ (150ھ) کے مابین مسئلہ رفع الیدین پر ایک مناظرہ بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن جب اس مناظرے کی استنادی حیثیت کی طرف دیکھا جائے تو اس کا ثبوت بہم نہیں پہنچتا، بلکہ محدثین کے اصولوں کے مطابق اس کی سند میں دو وضاع و کذاب راوی موجود ہیں۔ وضاع اس کو کہتے ہیں جو خود اپنی طرف سے حدیث گھڑ کر نبی ﷺ کی طرف منسوب کر دے۔ اسی طرح اس مناظرے کی سند میں ایک مجہول راوی بھی پایا گیا ہے۔
یہ مناظرہ ابو محمد عبداللہ بن محمد بن یعقوب الحارثی نے اپنی کتاب مسند الإمام أبي حنيفة میں ذکر کیا ہے۔ اس قصے کی سند کا حال ملاحظہ فرمائیں:
اس جھوٹی سند کا مؤلف ابو محمد عبداللہ بن محمد بن یعقوب حارثی ہے، جو عبداللہ استاذ کے نام سے مشہور تھا۔ اس کے متعلق محدثین کرام کی شہادتیں ملاحظہ ہوں:
① امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ (347ھ) فرماتے ہیں:
[ضعيف]
یہ ضعیف ہے۔
[سؤالات السهمي للدارقطني، ص 228، ت: 318، تاريخ بغداد للخطيب: 127/10]
② علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
[قال أبو سعيد الرواس: يتهم بوضع الحديث]
ابو سعید رواس کا کہنا ہے کہ یہ متہم بالکذب راوی تھا۔
[ميزان الاعتدال للذهبي: 496/4]
③ احمد سلیمانی کہتے ہیں:
[كان يضع هٰذا الإسناد علىٰ هٰذا المتن، وهٰذا المتن علىٰ هٰذا الإسناد]
یہ ایک سند کو دوسرے متن سے اور ایک متن کو دوسری سند سے جوڑ دیتا تھا۔
[ميزان الاعتدال للذهبي: 496/4]
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هٰذا ضرب من الوضع]
ایسا کرنا حدیث گھڑنے کی ایک قسم ہے۔
④ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هو صاحب عجائب وأفراد عن الثقات]
یہ ثقہ راویوں سے عجیب و غریب روایات بیان کرنے والا شخص ہے۔
[ميزان الاعتدال: 496/4]
⑤ خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[صاحب عجائب ومناكير وغرائب]
یہ شخص عجیب و غریب اور منکر روایات بیان کرنے والا تھا۔
[تاريخ بغداد: 127/10]

نیز فرماتے ہیں:

[ليس بموضع الحجة]
یہ حجت پکڑنے کے قابل نہیں۔
[تاريخ بغداد: 127/10]
⑥ حافظ خلیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یہ راوی ’’استاذ‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ یہ علمِ حدیث کی معرفت رکھتا تھا، لیکن ضعیف تھا، محدثین کرام نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ یہ ایسی احادیث بیان کرتا ہے، جن میں ثقہ راوی اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہمیں اس سے ملاحمی اور احمد بن محمد بن حسین بصیر نے منکر روایات بیان کی ہیں۔
[الإرشاد في معرفة علماء الحديث: 185/3]
یہ تو استاذ حارثی کا حال ہے جس کے بارے میں ادنیٰ کلمہ توثیق بھی ثابت نہیں۔
(ب) محمد بن ابراہیم بن زہاد رازی کی توثیق نہیں مل سکی، لہٰذا مجہول ہے۔
(ج) سلیمان بن داؤد شاذکونی منقری ’’کذاب‘‘ اور ’’وضاع‘‘ تھا۔
❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[إنه يكذب]
یہ جھوٹ بولتا ہے۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 115/4، وسنده صحيح]
❀ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[كذاب، عدو الله، كان يضع الحديث]
یہ شخص جھوٹا، اللہ کا دشمن اور حدیثیں گھڑنے والا تھا۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 115/4، وسنده صحيح]
❀ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[ليس بشيء، متروك الحديث، وترك حديثه، ولم يحدث عنه]
یہ فنِ حدیث میں کسی کام کا نہ تھا، متروک الحدیث تھا، اس کی حدیث کو ترک کر دیا گیا تھا، اس سے حدیث بیان ہی نہیں کی جاتی۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 115/4]
❀ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[عندي ممن يسرق الحديث]
میرے نزدیک یہ حدیث کے چوروں میں سے ہے۔
[الكامل في ضعفاء الرجال: 295/3]
❀ عبدان اہوازی بیان کرتے ہیں:
[إنه ذهبت كتبه، فكان يحدث حفظا، فيغلط]
اس کی کتابیں ضائع ہو گئیں، تو حافظہ سے بیان کرنے لگا اور غلطیاں کرتا تھا۔
[الكامل لابن عدي: 298/3، وفي نسخة: 1145/3]
❀ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[فيه نظر]
یہ منکر الحدیث ہے۔
[التاريخ الصغير: 364/2]
اس کے بارے میں ائمہ جرح وتعدیل کی کئی جروحات ثابت ہیں۔
❀ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[الأكثرون علىٰ تضعيفه]
جمهور محدثینِ کرام اسے ضعیف ہی قرار دیتے ہیں۔
[مجمع الزوائد: 245/1]
اس تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مناظرہ کبھی ہوا ہی نہیں، بلکہ جھوٹے و کذاب لوگوں نے اپنی جانب سے گھڑ کر امام صاحب رحمہ اللہ کی طرف منسوخ کر دیا ہے۔ اللہ کریم ہم کو سچ کا ساتھی بنائے۔