بیوہ اور مسکین کی خبر گیری کرنے کا ثواب قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

بیوہ اور مسکین کی خبر گیری کرنے کا ثواب

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ﴾ ‎
”آپ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں آپ کہہ دیجیے: جو مال تم خرچ کرو وہ ماں باپ کے لیے، اور رشتہ داروں، اور یتیموں، اور مسکینوں، اور مسافروں کے لیے ہے، اور تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ کو اس کا علم ہے۔“
(2-البقرة:215)
دوسرے مقام پر فرمایا:
﴿وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ﴾
”بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ آدمی ایمان لائے اللہ پر، یومِ آخرت پر، فرشتوں پر، قرآنِ کریم پر، اور تمام انبیاء پر، اور اپنا محبوب مال خرچ کرے، رشتہ داروں پر، یتیموں پر، مسکینوں پر۔“
(2-البقرة:177)
عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم: الساعي على الأرملة والمسكين، كالمجاهد فى سبيل الله – وأحسبه قال: وكالقائم لا يفتر، وكالصائم لا يفطر
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیواؤں اور مسکین کی خبر گیری کرنے والا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ (راوی حدیث کہتے ہیں کہ) میرے خیال میں آپ نے یہ بھی فرمایا: ”وہ اس عبادت کرنے والے کی طرح ہے جو سست نہیں ہوتا، اور اس روزے دار کی طرح ہے جو ناغہ نہیں کرتا۔“
صحيح بخاري، أوائل كتاب النفقات، رقم: 5353۔ وكتاب الأدب، باب الساعي علي الأرملة، رقم: 6006۔ صحيح مسلم، کتاب الزهد، باب فضل الإحسان إلى الأرملة والمسكين، رقم: 2982۔
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم
”تم معاشرے کے کمزور لوگوں کی وجہ سے ہی مدد کیے اور رزق دیے جاتے ہو۔“
صحیح بخاری، کتاب الجهاد، باب من استعان بالضعفاء والصالحين في الحرب، رقم: 2896 .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ایک آدمی سے دریافت فرمائے گا: ”اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا؟“ آدمی عرض کرے گا: یا اللہ! تو تو سب لوگوں کو پالنے والا ہے میں تجھے کیسے کھلاتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا، اگر اسے کھانا کھلاتا تو اس کا ثواب میرے ہاں پاتا۔“ اسی طرح دوسرے آدمی سے دریافت فرمائے گا: ”میں نے تجھ سے پانی مانگا تو نے مجھے پانی نہیں پلایا؟“ انسان عرض کرے گا: یا اللہ! تو خود رب العالمین ہے! میں تجھے پانی کیسے پلاتا؟“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا، لیکن تو نے اسے پانی نہیں پلایا، اگر اسے پانی پلاتا تو اس کا اجر و ثواب میرے ہاں پاتا۔“
صحيح مسلم، کتاب البر والصلة، باب فضل عيادة المريض، رقم: 2569 .