اولاد کی پرورش کرنے کے فضائل
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ﴾
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے، اس پر ایسے فرشتے متعین ہیں جو سخت دل اور بے رحم ہیں، اللہ انہیں جو حکم دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے، اور انہیں جو حکم دیا جاتا ہے وہی کرتے ہیں۔“
(66-التحريم:6)
﴿فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُم مِّن دُونِهِ ۗ قُلْ إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ﴾
”پس تم لوگ اس کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو، آپ کہہ دیجئے کہ بلاشبہ گھاٹا پانے والے تو وہ ہیں جو قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالیں گے، آگاہ رہیے کہ وہی نقصان و خسرانِ مبین ہوگا۔“
(39-الزمر:15)
عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت: جاءتني مسكينة تحمل ابنتين لها، فأطعمتها ثلاث تمرات، فأعطت كل واحدة منهما تمرة، ورفعت إلى فيها تمرة لتأكلها، فاستطعمتها ابنتاها، فشقت التمرة التى كانت تريد أن تأكلها، بينهما، فأعجبني شأنها، فذكرت الذى صنعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن الله قد أوجب لها بها الجنة، أو أعتقها بها من النار
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: میرے پاس ایک مسکین اور غریب عورت اپنی دو بیٹیاں اٹھائے ہوئے آئی، میں نے اسے کھانے کے لیے تین کھجوریں دیں، پس اس نے دو کھجوریں تو اپنی دو بیٹیوں کو دے دیں، اور ایک کھجور اس نے کھانے کے لیے اپنے منہ کی طرف بڑھائی، کہ وہ بھی اس سے اس کی بیٹیوں نے کھانے کے لیے مانگ لی، چنانچہ اس نے وہ کھجور بھی، جسے وہ خود کھانا چاہتی تھی، اس کے دو حصے کر کے اپنی دونوں بیٹیوں میں تقسیم کر دی، مجھے اس کی یہ بات بڑی اچھی لگی، میں نے اس واقعے کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کے لیے جنت واجب فرمادی ہے (یا فرمایا) کہ اس کی وجہ سے اسے جہنم کی آگ سے آزاد کر دیا ہے۔“
صحيح مسلم، کتاب البر والصلة ، باب فضل الاحسان الى البنات ، رقم: 2630 .
عن أنس رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من عال جاريتين حتى تبلغا، جاء يوم القيامة أنا وهو وضم أصابعه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دو بچیوں کی پرورش و تربیت کی حتیٰ کہ وہ بالغ ہو گئیں، قیامت والے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ میں اور وہ ان دو انگلیوں کی طرح (قریب قریب) ہوں گے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیاں ملائیں۔
مسلم، كتاب البر والصلة والآداب، باب فضل الإحسان إلى البنات، رقم: 2631 .
اولاد کی اچھی تربیت کرنے سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد اپنے والدین کے لیے دعائیں کرتی ہے، تو اللہ تعالیٰ والدین کے درجات بلند فرماتا ہے۔ اور اگر اولاد کی اچھی تربیت نہ کی ہو تو یہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں بلند فرماتا ہے تو وہ استفسار کرتا ہے کہ ”اے میرے رب! یہ کیسے؟“ تو اللہ ارشاد فرماتا ہے: ”تیری اولاد کے تیرے لیے استغفار کی وجہ سے۔“
مسند احمد : 2/ 509 – سنن ابن ماجة، رقم : 3660 ـ سلسلة الصحيحة، رقم : 4076
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من كان له ثلاث بنات فصبر عليهن وأطعمهن وسقاهن، وكساهن من جدته، كن له حجابا من النار يوم القيامة
”جس کی تین لڑکیاں ہوں، اور وہ ان پر صبر کرے، اور انہیں اچھا کھلائے، پلائے اور پہنائے، وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے پردہ (رکاوٹ) ہوں گی۔“
مسند احمد: 154/4 ـ سنن ابن ماجة، كتاب الادب، باب بر الوالدين والاحسان الى البنات ، رقم: 3669 ـ سلسلة الصحيحة، رقم : 294 .
ایک دوسری روایت میں ہے، جب آپ نے تین لڑکیوں کے بارے میں جنت کی بشارت دی تو آپ سے پوچھا گیا: اگر دو لڑکیاں ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں وہ بھی دخولِ جنت کا سبب بن جائیں گی۔“
صحیح مسند احمد: 3/ 303.
اندازہ فرمائیں! نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک بچہ لایا گیا۔ آپ نے اس کا بوسہ لیا اور فرمایا: ”خبردار! بلاشبہ بچے بخل اور بزدلی کا باعث ہوتے ہیں۔ بلاشبہ بچے عطیہ خداوندی ہیں۔“
مشكوة، كتاب الآداب، رقم: 4691 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
ایک روایت میں ہے۔ سیدنا یعلی العامری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حسن و حسین رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب دوڑتے ہوئے گئے۔ آپ نے ان دونوں کو اپنے ساتھ چمٹا لیا، اور فرمایا: ”بلاشبہ بچے بخل اور بزدلی کا باعث ہوتے ہیں۔“
سنن ابن ماجه، کتاب الآدب ، باب برالوالدين والاحسان البنات، رقم: 3666 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔