تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ لٰكِنَّ الْبِرَّمَنْ اٰمَنَ:} اس میں { ”مَنْ“ } سے پہلے { ”بِرُّ“ } محذوف ہے، یعنی اصل نیکی اس شخص کی نیکی ہے۔
➌ یہ آیت نیکی کی تمام اقسام پر مشتمل ہے اور اس میں تمام بنیادی عقائد، اعمال اور اخلاق آ گئے ہیں۔ امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اس آیت کو [کِتَابُ الْاِیْمَانِ] کے تحت [بَابُ اُمُوْرِ الْإِیْمَانِ] (قبل ح: ۹)“ میں ذکر فرمایا ہے کہ ایمان صرف عقائد کا نام نہیں، بلکہ اعمال بھی ایمان کا جز ہیں۔
➍ پہلے مال کی محبت کے باوجود اسے ذوی القربیٰ اور دوسرے مستحقین کو دینے کا ذکر فرمایا، بعد میں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا ذکر فرمایا۔ اس سے معلوم ہو اکہ مسلمان کے مال میں صرف زکوٰۃ ہی واجب نہیں کہ زکوٰۃ دینے کے بعد سارا سال بندہ فارغ ہو گیا، بلکہ ضرورت کے وقت مستحقین پر مال خرچ کرنا بھی واجب ہے، مثلاً ماں باپ اور دوسرے ضرورت مند رشتہ داروں کا نفقہ، مہمان پر خرچ، ضرورت مند ہمسائے، مجاہدین اور آیت میں مذکور دوسرے حضرات پر خرچ کرنا۔ ان کا ذکر زکوٰۃ سے پہلے اس لیے کیا کہ عام طور پر اس سے غفلت برتی جاتی ہے۔
➎ یتیم وہ ہے جس کا والد فوت ہو جائے اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [لاَ یُتْمَ بَعْدَ احْتِلاَمٍ] [أبوداوٗد، الوصایا، باب ما جاء متی ینقطع الیتم: ۲۸۷۳، عن علی رضی اللہ عنہ] ”بلوغت کے بعد یتیمی نہیں۔“ باقی مستحقین کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۶۰)۔
➏ {وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ…:} یہ اور اس سے پہلے مذکور نیکی کرنے والوں سے متعلق سب صیغے ترکیب کی رو سے مرفوع ہیں، جب کہ {” الصّٰبِرِيْنَ “} کی حالت نصبی ہے، اس کی حکمت مفسرین نے یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ مدح اور اختصاص کی بنا پر منصوب ہے، یعنی یہ { ”اَمْدَحُ“ } یا { ”اَخُصُّ“ } کا مفعول ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور خصوصاً جو تنگی میں۔“ {”الْبَاْسَآءِ“} سے مراد فقر، بھوک، تنگ دستی، { ”الضَّرَّآءِ“ } سے مراد تکلیف، خصوصاً بیماری اور { ”اَلْبَأْسِ“ } سے مراد جنگ ہے۔ ان تینوں حالتوں میں صبر نہایت مشکل ہوتا ہے، اس لیے ان کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ صلح حدیبیہ کے دوران ابو جندل پا بہ زنجیر قریش مکہ کی قید سے فرار ہو کر مسلمانوں کے پاس پہنچ گئے ابو جندل نے اپنے زخم دکھلا دکھلا کر اور اپنا دکھڑا سنا کر التجا کی کہ اب اسے کافروں کے حوالہ نہ کیا جائے۔ اس وقت تمام مسلمانوں کے جذبات یہ تھے کہ خواہ کچھ بھی ہو ابو جندل کو اب کافروں کے حوالہ نہ کیا جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض ایفائے عہد کی خاطر ابو جندل کو کافروں کے سفیر سہیل بن عمرو (جو ابو جندل کا باپ تھا) کے حوالہ کیا۔ ابو جندل کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کوئی اور راہ نکال دے گا۔ [بخاري، كتاب الشروط، باب الشروط فى الجهاد و المصالحه مع اهل الحرب]
3۔ عمرہ قضاء کے دوران قریش مکہ نے یہ گوارا نہ کیا کہ مسلمان ان کی آنکھوں کے سامنے آزادی سے عمرہ کے مناسک ادا کریں۔ چنانچہ تین دن کے لیے شہر کو خالی کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے اگر کوئی دنیا دار جرنیل ہوتا تو بڑی آسانی سے مکہ پر قبضہ کر سکتا تھا۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ خیال تک نہ آیا کہ اس سنہری موقع سے یہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عہد کو پورا کیا اور تین دن کے بعد مکہ سے واپسی کا سفر اختیار کر لیا۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں نے جس طرح اس قسم کے عہد کو نبھایا وہ واقعات بھی بہت ہیں اور کتب تاریخ و سیر کی آج بھی زینت بنے ہوئے ہیں۔
[221 الف] «عليٰ حبه» میں «ه» کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہو تو اس کا وہی مفہوم ہے جو ترجمہ سے واضح ہے اور اس ضمیر کا مرجع مال قرار دیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ وہ لوگ اگر مال کی محبت کے باوجود اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ کسی پسندیدہ چیز کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، یا اپنی احتیاج کو روک کر خرچ کرنا، یا قحط اور گرانی کے ایام میں خرچ کرنا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ اس کا محرک قوی جذبہ ہو اور یہ جذبہ اللہ کی محبت اور اس کی فرمانبرداری کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا بالفعل «عليٰ حبه» میں بیک وقت دونوں مفہوم شامل ہو جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مال میں زکوٰۃ کے سوا کچھ اور بھی اللہ تعالیٰ کا حق ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائی، اس حدیث کا ایک راوی ابوحمزہ میمون اعور ضعیف ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {ليس البر أن تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب}؛ أي: ليس هذا هو البر المقصود من العباد فيكون كثرة البحث فيه والجدال من العناء الذي ليس تحته إلا الشقاق والخلاف، وهذا نظير قوله - صلى الله عليه وسلم -: «ليس الشديد بالصرعة إنما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب» ، ونحو ذلك، {ولكن البر من آمن بالله}؛ أي: بأنه إله واحد موصوف بكل صفة كمال منزَّه عن كلِّ نقص {واليوم الآخر}؛ وهو كل ما أخبر الله به في كتابه أو أخبر به الرسول مما يكون بعد الموت {والملائكة}؛ الذين وصفهم الله لنا في كتابه ووصفهم رسوله - صلى الله عليه وسلم -، {والكتاب}؛ أي: جنس الكتب التي أنزلها الله على رسله وأعظمها القرآن فيؤمن بما تضمنه من الأخبار والأحكام. {والنبيين}؛ عموماً، خصوصاً خاتمهم وأفضلهم محمد - صلى الله عليه وسلم - {وآتى المال}؛ وهو كل ما يتمول الإنسان من مال قليلاً كان أو كثيراً أي أعطى المال {على حبه}؛ أي: حب المال بين به أن المال محبوب للنفوس فلا يكاد يخرجه العبد، فمن أخرجه مع حبه له تقرباً إلى الله تعالى كان هذا برهاناً لإيمانه، ومن إيتاء المال على حبه أن يتصدق وهو صحيح شحيح يأمل الغنى ويخشى الفقر، وكذلك إذا كانت الصدقة عن قلة كان أفضل لأنه في هذه الحال يحب إمساكه لما يتوهمه من العُدْم والفقر، وكذلك إخراج النفيس من المال وما يحبه من ماله كما قال تعالى: {لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون}؛ فكل هؤلاء ممن آتى المال على حبه.
ثم ذكر المنفق عليه وهم أولى الناس ببرِّك وإحسانك من الأقارب؛ الذين تتوجع لمصابهم وتفرح بسرورهم الذين يتناصرون ويتعاقلون، فمن أحسن البر وأوفقه تعاهد الأقارب بالإحسان المالي والقولي على حسب قربهم وحاجتهم، ومن {اليتامى}؛ الذين لا كاسب لهم وليس لهم قوة يستغنون بها، وهذا من رحمته تعالى بالعباد الدالة على أنه تعالى أرحم بهم من الوالد بولده، فالله قد أوصى العباد وفرض عليهم في أموالهم الإحسان إلى من فقد آباؤهم ليصيروا كمن لم يفقد والديه، ولأن الجزاء من جنس العمل فمن رحم يتيمَ غيره رُحِم يتيمه.
{والمساكين}؛ وهم الذين أسكنتهم الحاجة وأذلهم الفقر فلهم حق على الأغنياء بما يدفع مسكنتهم أو يخففها بما يقدرون عليه وبما يتيسر. {وابن السبيل}؛ وهو الغريب المنقطع به في غير بلده. فحث الله عباده على إعطائه من المال ما يعينه على سفره لكونه مظنة الحاجة وكثرة المصارف، فعلى من أنعم الله عليه بوطنه وراحته وخوَّله من نعمته أن يرحم أخاه الغريب الذي بهذه الصفة على حسب استطاعته ولو بتزويده أو إعطائه آلة لسفره أو دفع ما ينوبه من المظالم وغيرها. {والسائلين}؛ أي: الذين تعرض لهم حاجة من الحوائج توجب السؤال، كمن ابتلي بأرش جناية أو ضريبة عليه من ولاة الأمور أو يسأل الناس لتعمير المصالح العامة كالمساجد والمدارس والقناطر ونحو ذلك فهذا له الحق وإن كان غنياً. {وفي الرقاب}؛ فيدخل فيه العتق والإعانة عليه وبذل مال للمكاتَب ليوفي سيده وفداء الأسراء عند الكفار أو عند الظلمة.
{وأقام الصلاة وآتى الزكاة}؛ قد تقدم مراراً أن الله تعالى يقرن بين الصلاة والزكاة لكونهما أفضل العبادات، وأكمل القربات عبادات قلبية وبدنية ومالية، وبهما يوزن الإيمان ويعرف ما مع صاحبه من الإيقان، {والموفون بعهدهم إذا عاهدوا}؛ والعهد هو الالتزام بإلزام الله أو إلزام العبد لنفسه فدخل في ذلك حقوق الله كلها، لكون الله ألزم بها عباده والتزموها، ودخلوا تحت عهدتها ووجب عليهم أداؤها، وحقوق العباد التي أوجبها الله عليهم والحقوق التي التزمها العبد كالأيمان والنذور ونحو ذلك.
{والصابرين في البأساء}؛ أي: الفقر لأن الفقير يحتاج إلى الصبر من وجوه كثيرة لكونه يحصل له من الآلام القلبية والبدنية المستمرة ما لا يحصل لغيره، فإن تنعم الأغنياء بما لا يقدر عليه تألم وإن جاع أو جاعت عياله تألم، وإن أكل طعاماً غير موافق لهواه تألم، وإن عري أو كاد تألم، وإن نظر إلى ما بين يديه وما يتوهمه من المستقبل الذي يستعد له تألم، وإن أصابه البرد الذي لا يقدر على دفعه تألم، فكل هذه ونحوها مصائب يؤمر بالصبر عليها والاحتساب ورجاء الثواب من الله عليها {والضراء}؛ أي: المرض على اختلاف أنواعه من حمى وقروح ورياح ووجع عضو حتى الضرس والإصبع ونحو ذلك فإنه يحتاج إلى الصبر على ذلك، لأن النفس تضعف والبدنَ يألم وذلك في غاية المشقة على النفوس، خصوصاً مع تطاول ذلك، فإنه يؤمر بالصبر احتساباً لثواب الله تعالى {وحين البأس}؛ أي: وقت القتال للأعداء المأمور بقتالهم، لأن الجلاد يشق غاية المشقة على النفس ويجزع الإنسان من القتل أو الجراح أو الأسر، فاحتيج إلى الصبر في ذلك احتساباً ورجاء لثواب الله تعالى الذي منه النصر والمعونة التي وعدها الصابرين.
{أولئك}؛ أي: المتصفون بما ذكر من العقائد الحسنة والأعمال التي هي آثار الإيمان وبرهانه ونوره والأخلاق التي هي جمال الإنسان وحقيقة الإنسانية فأولئك {الذين صدقوا}؛ في إيمانهم لأن أعمالهم صدقت إيمانهم {وأولئك هم المتقون}؛ لأنهم تركوا المحظور وفعلوا المأمور، لأن هذه الأمور مشتملة على كل خصال الخير تضمناً ولزوماً لأن الوفاء بالعهد يدخل فيه الدين كله، ولأن العبادات المنصوص عليها في هذه الآية أكبر العبادات، ومن قام بها كان بما سواها أقوم، فهؤلاء [هم] الأبرار الصادقون المتقون.
وقد علم ما رتب الله على هذه الأمور الثلاثة من الثواب الدنيوي والأخروي مما لا يمكن تفصيله في مثل هذا الموضع.