ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 177

لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾
نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو اور لیکن اصل نیکی اس کی ہے جو اللہ اور یوم آخرت اور فرشتوں اور کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے اور مال دے اس کی محبت کے باوجود قرابت والوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں۔ اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جو اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں جب عہد کریں اور خصوصاً جو تنگی اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ہیں، یہی لوگ ہیں جنھوں نے سچ کہا اور یہی بچنے والے ہیں۔ En
نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کو (قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰة دیں۔ اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں۔ اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں۔ یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں
En
ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے واﻻ ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوٰة کی ادائیگی کرے، جب وعده کرے تب اسے پورا کرے، تنگدستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 177) ➊ مسلمانوں کو جب پہلے بیت المقدس اور پھر کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا تو یہ بعض اہل کتاب اور بعض مسلمانوں پر شاق گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کی حکمت بیان فرمائی کہ اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی اطاعت، اس کے احکام کی فرماں برداری، جدھر وہ کہے ادھر رخ کرنا اور جو حکم وہ دے اس پر عمل کرنا ہے۔ یہ ہے اصل نیکی، تقویٰ اور کامل ایمان۔ رہا مشرق یا مغرب میں سے کسی طرف رخ کرنے کی پابندی، تو اس میں کوئی نیکی نہیں، اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے نہ ہو۔ (ابن کثیر)
➋ {وَ لٰكِنَّ الْبِرَّمَنْ اٰمَنَ:} اس میں { مَنْ } سے پہلے { بِرُّ } محذوف ہے، یعنی اصل نیکی اس شخص کی نیکی ہے۔
➌ یہ آیت نیکی کی تمام اقسام پر مشتمل ہے اور اس میں تمام بنیادی عقائد، اعمال اور اخلاق آ گئے ہیں۔ امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اس آیت کو [کِتَابُ الْاِیْمَانِ] کے تحت [بَابُ اُمُوْرِ الْإِیْمَانِ] (قبل ح: ۹) میں ذکر فرمایا ہے کہ ایمان صرف عقائد کا نام نہیں، بلکہ اعمال بھی ایمان کا جز ہیں۔
➍ پہلے مال کی محبت کے باوجود اسے ذوی القربیٰ اور دوسرے مستحقین کو دینے کا ذکر فرمایا، بعد میں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا ذکر فرمایا۔ اس سے معلوم ہو اکہ مسلمان کے مال میں صرف زکوٰۃ ہی واجب نہیں کہ زکوٰۃ دینے کے بعد سارا سال بندہ فارغ ہو گیا، بلکہ ضرورت کے وقت مستحقین پر مال خرچ کرنا بھی واجب ہے، مثلاً ماں باپ اور دوسرے ضرورت مند رشتہ داروں کا نفقہ، مہمان پر خرچ، ضرورت مند ہمسائے، مجاہدین اور آیت میں مذکور دوسرے حضرات پر خرچ کرنا۔ ان کا ذکر زکوٰۃ سے پہلے اس لیے کیا کہ عام طور پر اس سے غفلت برتی جاتی ہے۔
➎ یتیم وہ ہے جس کا والد فوت ہو جائے اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [لاَ یُتْمَ بَعْدَ احْتِلاَمٍ] [أبوداوٗد، الوصایا، باب ما جاء متی ینقطع الیتم: ۲۸۷۳، عن علی رضی اللہ عنہ] بلوغت کے بعد یتیمی نہیں۔ باقی مستحقین کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۶۰)۔
➏ {وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ…:} یہ اور اس سے پہلے مذکور نیکی کرنے والوں سے متعلق سب صیغے ترکیب کی رو سے مرفوع ہیں، جب کہ { الصّٰبِرِيْنَ } کی حالت نصبی ہے، اس کی حکمت مفسرین نے یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ مدح اور اختصاص کی بنا پر منصوب ہے، یعنی یہ { اَمْدَحُ } یا { اَخُصُّ } کا مفعول ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے اور خصوصاً جو تنگی میں۔ {الْبَاْسَآءِ} سے مراد فقر، بھوک، تنگ دستی، { الضَّرَّآءِ } سے مراد تکلیف، خصوصاً بیماری اور { اَلْبَأْسِ } سے مراد جنگ ہے۔ ان تینوں حالتوں میں صبر نہایت مشکل ہوتا ہے، اس لیے ان کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

177۔ 1 یہ آیت قبلے کے ضمن میں ہی نازل ہوئی۔ ایک تو یہودی اپنے قبلے کو (جو بیت المقدس کا مغربی حصہ ہے) اور نصاری اپنے قبلے کو (جو بیت المقدس کا مشرقی حصہ ہے) بڑی اہمیت دے رہے تھے اور اس پر فخر کر رہے تھے۔ دوسری طرف مسلمان تحویل قبلہ پر چہ مگوئیاں کر رہے تھے جس سے بعض دفعہ رنجیدہ دل ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرلینا بذات خود کوئی نیکی نہیں ہے بلکہ یہ تو صرف مرکزیت اور اجتماعیت کے حصول کا ایک طریقہ ہے، اصل نیکی تو ان عقائد پر ایمان رکھنا ہے جو اللہ نے بیان فرمائے اور ان اعمال و اخلاق کو اپنانا ہے جس کی تاکید اس نے فرمائی ہے۔ پھر آگے ان عقائد و اعمال کا بیان ہے۔ اللہ پر ایمان یہ ہے کہ اسے اپنی ذات وصفات میں یکتا اور تمام عیوب سے پاک قرآن و حدیث میں بیان کردہ تمام صفات باری تعالیٰ کو بغیر کسی تاویل کے تسلیم کیا جائے۔ آخرت کے روز جزا ہونے حشر نشر اور جنت اور دوزخ پر یقین رکھا جائے۔ الباساء سے تنگ دستی اور شدت فقر۔ الضراء سے نقصان یا بیماری اَلْبَاس سے لڑائی اور اس کی شدت مراد ہے۔ ان تینوں حالتوں میں صبر کرنا، یعنی احکامات الٰہی سے انحراف نہ کرنا نہایت کٹھن ہوتا ہے اس لئے ان حالتوں کو خاص طور پر بیان فرمایا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

177۔ نیکی یہی نہیں کہ تم اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف پھیر [221] لو۔ بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر، روز قیامت پر، فرشتوں پر، کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لائے۔ اور اللہ سے محبت [221 الف] کی خاطر اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سوال کرنے والوں کو اور غلامی سے نجات دلانے کے لیے دے۔ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے۔ نیز (نیک لوگ وہ ہیں کہ) جب عہد کریں تو اسے پورا کریں اور بدحالی، مصیبت اور جنگ کے دوران صبر کریں۔ ایسے ہی لوگ راست باز ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں
[221] تحویل قبلہ پر جھگڑا کرنے کے بجائے نیکی کے اصل کام:۔
جب یہود مدینہ نے تحویل قبلہ کے مسئلہ کو مسلمانوں کے ساتھ جھگڑے کا ایک مستقل موضوع بنا لیا تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرمائی کہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرنا کوئی ایسی نیکی نہیں ہے جس پر نجات اخروی کا مدار ہو بلکہ نیکی کے اصل اور بڑے بڑے کام تو اور ہیں اور وہ کام ایسے تھے جن میں سے اکثر کی ادائیگی میں یہود قاصر تھے یا کوتاہی کر جاتے تھے پہلے تو اللہ تعالیٰ نے ایمان بالغیب کی انواع بیان فرمائیں۔ یہود جبریل کو اپنا دشمن سمجھتے تھے۔ حالانکہ اسی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام نازل فرماتا رہا۔ پھر وہ انجیل اور قرآن پر ایمان نہیں رکھتے تھے، بلکہ اپنی کتاب پر بھی ٹھیک طرح سے ایمان نہیں لاتے تھے اور بے شمار غلط عقائد آخرت کے بارے میں اپنے معتقدات میں شامل کر لیے تھے۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے صدقات و خیرات اور اس کے مستحقین کا ذکر فرمایا۔ اس سلسلے میں وہ قاصر یوں تھے کہ وہ سود خور تھے اور سود خور کی فطرت میں بخل اور شقاوت پیدا ہونا لازمی امر ہے۔ پھر اللہ نے وعدہ پورا کرنے کا ذکر فرمایا۔ جبکہ یہود کی تاریخ عہد شکنیوں سے بھری پڑی ہے اور بزدل ایسے کہ ان کا کوئی قبیلہ بھی مسلمانوں کے ساتھ کھلے میدان میں لڑنے کی جرات نہ کر سکا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے راست باز اور متقی لوگوں کی جو جو صفات بیان فرمائی ہیں یہودیوں کی اکثریت ان سے عاری تھی۔ صرف ایفائے عہد اور صبر کا ذکرکیوں ہوا؟ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے سیرت و کردار سے متعلق صرف دو باتوں کا ذکر فرمایا۔ ایک ایفائے عہد کا اور دوسرے صبر کا۔ عہد خواہ ایک شخص کا دوسرے شخص سے ہو یا قوم سے ہو یا ایک قوم کا دوسری قوم سے ہو یا کسی کا اللہ تعالیٰ سے ہو۔ نیز خواہ یہ عبادات سے تعلق رکھتا ہو یا معاملات سے یا مناکحات سے، اس عہد کا پورا کرنا ہر حال میں لازم ہے اور ظاہر ہے کہ یہ عہد در اصل ایفائے حقوق کا عہد ہوتا ہے جو انسان کی ساری زندگی ہی اپنے احاطہ میں لے لیتا ہے، اور ایفائے عہد کے سلسلہ میں کئی قسم کی مشکلات بھی پیش آ سکتی ہیں۔ لہٰذا ساتھ ہی صبر و ثبات کا حکم فرما دیا اور صبر کے تین مواقع کا بالخصوص ذکر فرمایا۔ ایک «باسَاء» جس کے معنی تنگی ترشی اور فقر و فاقہ کا دور ہے۔ دوسرے ضراء جس کے معنی جسمانی تکالیف اور بیماری کا دور ہے اور تیسرے حین الباس یعنی جنگ کے دوران بھی اور اس وقت بھی جب جنگ کے حالات پیدا ہو چکے ہوں اور اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہی وہ مقامات ہیں جہاں بسا اوقات انسان کے پائے ثبات میں لغزش آ جاتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے بالخصوص ان مواقع کا ذکر فرما دیا۔ پھر جو لوگ ایفائے عہد یا بالفاظ دیگر ایفائے حقوق میں پورے اترتے ہیں اور کسی بھی مشکل سے مشکل وقت میں ان کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آتی تو ایسے ہی لوگ در اصل راست باز اور متقی کہلائے جانے کے مستحق ہوتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت نازک حالات میں عہد کو پورا کر کے تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں ثبت کر دی ہیں۔ ہم یہاں یہ تفصیل بیان نہیں کر سکتے صرف چند واقعات کی طرف اشارہ کافی ہو گا۔
دور نبویﷺ میں ایفائے عہد کی مثالیں:۔
1۔ حضرت حذیفہ بن یمان اور ابو حسیلؓ (یہ حضرت یمان کی کنیت ہے) دونوں جنگ بدر میں شمولیت کے لیے جا رہے تھے کہ راستہ میں قریش مکہ کے ہتھے چڑھ گئے اور انہوں نے ان سے عہد لے کر چھوڑا کہ وہ غزوہ بدر میں حصہ نہیں لیں گے۔ چنانچہ یہ دونوں صحابی قریش سے چھٹکارا حاصل کر کے میدان بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور سارا ماجرا بیان کیا۔ اس وقت مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایک آدمی کی شدید ضرورت تھی۔ لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو واپس چلے جانے کا حکم دیا اور فرمایا تم اپنا عہد پورا کرو، اللہ ہماری مدد کرے گا۔ [مسلم، كتاب الجهاد والسير، باب الوفا بالعهد]
2۔ صلح حدیبیہ کے دوران ابو جندل پا بہ زنجیر قریش مکہ کی قید سے فرار ہو کر مسلمانوں کے پاس پہنچ گئے ابو جندل نے اپنے زخم دکھلا دکھلا کر اور اپنا دکھڑا سنا کر التجا کی کہ اب اسے کافروں کے حوالہ نہ کیا جائے۔ اس وقت تمام مسلمانوں کے جذبات یہ تھے کہ خواہ کچھ بھی ہو ابو جندل کو اب کافروں کے حوالہ نہ کیا جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض ایفائے عہد کی خاطر ابو جندل کو کافروں کے سفیر سہیل بن عمرو (جو ابو جندل کا باپ تھا) کے حوالہ کیا۔ ابو جندل کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کوئی اور راہ نکال دے گا۔ [بخاري، كتاب الشروط، باب الشروط فى الجهاد و المصالحه مع اهل الحرب]
3۔ عمرہ قضاء کے دوران قریش مکہ نے یہ گوارا نہ کیا کہ مسلمان ان کی آنکھوں کے سامنے آزادی سے عمرہ کے مناسک ادا کریں۔ چنانچہ تین دن کے لیے شہر کو خالی کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے اگر کوئی دنیا دار جرنیل ہوتا تو بڑی آسانی سے مکہ پر قبضہ کر سکتا تھا۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ خیال تک نہ آیا کہ اس سنہری موقع سے یہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عہد کو پورا کیا اور تین دن کے بعد مکہ سے واپسی کا سفر اختیار کر لیا۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں نے جس طرح اس قسم کے عہد کو نبھایا وہ واقعات بھی بہت ہیں اور کتب تاریخ و سیر کی آج بھی زینت بنے ہوئے ہیں۔
[221 الف] «عليٰ حبه» میں «ه» کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہو تو اس کا وہی مفہوم ہے جو ترجمہ سے واضح ہے اور اس ضمیر کا مرجع مال قرار دیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ وہ لوگ اگر مال کی محبت کے باوجود اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ کسی پسندیدہ چیز کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، یا اپنی احتیاج کو روک کر خرچ کرنا، یا قحط اور گرانی کے ایام میں خرچ کرنا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ اس کا محرک قوی جذبہ ہو اور یہ جذبہ اللہ کی محبت اور اس کی فرمانبرداری کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا بالفعل «عليٰ حبه» میں بیک وقت دونوں مفہوم شامل ہو جاتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ایمان کا ایک پہلو ٭٭
اس پاک آیت میں صحیح عقیدے اور راہ مستقیم کی تعلیم ہو رہی ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ایمان کیا چیز ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی، انہوں نے پھر سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت تلاوت فرمائی پھر یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو نیکی سے محبت اور برائی سے عداوت ایمان ہے [تفسیر ابن ابی حاتم:287/1:ضعیف و منقطع]‏‏‏‏ لیکن اس روایت کی سند منقطع ہے، مجاہد رحمہ اللہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کرتے ہیں حالانکہ ان کی ملاقات ثابت نہیں ہوئی۔ ایک شخص نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ایمان کیا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرما دی اس نے کہا میں آپ رضی اللہ عنہ سے بھلائی کے بارے میں سوال نہیں کرتا میرا سوال ایمان کے بارے میں ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سن ایک شخص نے یہی سوال حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرما دی وہ بھی تمہاری طرح راضی نہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن جب نیک کام کرتا ہے تو اس کا جی خوش ہو جاتا ہے اور اسے ثواب کی امید ہوتی ہے اور جب گناہ کرتا ہے تو اس کا دل غمیگین ہو جاتا ہے اور وہ عذاب سے ڈرنے لگتا ہے۔ [ابن مردویہ]‏‏‏‏
یہ روایت بھی منقطع ہے اب اس آیت کی تفسیر سنیے۔ مومنوں کو پہلے تو حکم ہوا کہ وہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں پھر انہیں کعبہ کی طرف گھما دیا گیا جو اہل کتاب پر اور بعض ایمان والوں پر بھی شاق گزرا پس اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان فرمائی کہ اس کا اصل مقصد اطاعت فرمان اللہ ہے وہ جدھر منہ کرنے کو کہے کر لو، اہل تقویٰ اصل بھلائی اور کامل ایمان یہی ہے کہ مالک کے زیر فرمان رہو، اگر کوئی مشرق کیطرف منہ کرے یا مغرب کی طرف منہ پھیر لے اور اللہ کا حکم نہ ہو تو وہ اس توجہ سے ایماندار نہیں ہو جائے گا بلکہ حقیقت میں باایمان وہ ہے جس میں وہ اوصاف ہوں جو اس آیت میں بیان ہوئے۔
قرآن کریم نے ایک اور جگہ فرمایا ہے آیت «لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰي مِنْكُمْ» [22۔ الحج: 37]‏‏‏‏ یعنی تمہاری قربانیوں کے گوشت اور لہو اللہ کو نہیں پہنچتے بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ تم نمازیں پڑھو اور دوسرے اعمال نہ کرو یہ کوئی بھلائی نہیں۔ یہ حکم اس وقت تھا جب مکہ سے مدینہ کی طرف لوٹے تھے لیکن پھر اس کے بعد اور فرائض اور احکام نازل ہوئے اور ان پر عمل کرنا ضروری قرار دیا گیا، مشرق و مغرب کو اس کے لیے خاص کیا گیا کہ یہود مغرب کی طرف اور نصاریٰ مشرق کی طرف منہ کیا کرتے تھے، پس غرض یہ ہے کہ یہ تو صرف لفظی ایمان ہے ایمان کی حقیقت تو عمل ہے، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھلائی یہ ہے کہ اطاعت کا مادہ دل میں پیدا ہو جائے، فرائض پابندی کے ساتھ ادا ہوں، تمام بھلائیوں کا عامل ہو، حق تو یہ ہے کہ جس نے اس آیت پر عمل کر لیا اس نے کامل اسلام پا لیا اور دل کھول کر بھلائی سمیٹ لی، اس کا ذات باری تعالیٰ پر ایمان ہے یہ وہ جانتا ہے کہ معبود برحق وہی ہے فرشتوں کے وجود کو اور اس بات کو کہ وہ اللہ کا پیغام اللہ کے مخصوص بندوں پر لاتے ہیں یہ مانتا ہے، کل آسمانی کتابوں کو برحق جانتا ہے اور سب سے آخری کتاب قرآن کریم کو جو کہ تمام اگلی کتابوں کو سچا کہنے والی تمام بھلائیوں کی جامع اور دین و دنیا کی سعادت پر مشتمل ہے وہ مانتا ہے، اسی طرح اول سے آخر تک کے تمام انبیاء پر بھی اس کا ایمان ہے، بالخصوص خاتم الانبیاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی۔ مال کو باوجود مال کی محبت کے راہ اللہ میں خرچ کرتا ہے۔
صحیح حدیث شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں افضل صدقہ یہ ہے کہ تو اپنی صحت اور مال کی محبت کی حالت میں اللہ کے نام دے باوجودیکہ مال کی کمی کا اندیشہ ہو اور زیادتی کی رغبت بھی ہو [صحیح بخاری:1419]‏‏‏‏ مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَالسَّاىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا» [2۔ البقرہ: 177]‏‏‏‏ پڑھ کر فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے تم صحت میں اور مال کی چاہت کی حالت میں فقیری سے ڈرتے ہوئے اور امیری کی خواہش رکھتے ہوئے صدقہ کرو، [حاکم:272/2:موقوف]‏‏‏‏ لیکن اس روایت کا موقوف ہونا زیادہ صحیح ہے، اصل میں یہ فرمان سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہے، قرآن کریم میں سورۃ دھر [الانسان]‏‏‏‏ میں فرمایا آیت «وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا» [76۔ الانسان: 8]‏‏‏‏ مسلمان باوجود کھانے کی چاہت کے مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تمہیں اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے اس کا بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ اور جگہ فرمایا آیت «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ» [3۔ آل عمران: 92]‏‏‏‏ جب تک تم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام نہ دو تم حقیقی بھلائی نہیں پاسکتے۔ اور جگہ فرمایا آیت «وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ» [59۔ الحشر: 9]‏‏‏‏ یعنی باوجود اپنی حاجت اور ضرورت کے بھی وہ دوسروں کو اپنے نفس پر مقدم کرتے ہیں پس یہ لوگ بڑے پایہ کے ہیں کیونکہ پہلی قسم کے لوگوں نے تو اپنی پسندیدہ چیز باوجود اس کی محبت کے دوسروں کو دی لیکن ان بزرگوں نے اپنی چاہت کی وہ چیز جس کے وہ خود محتاج تھے دوسروں کو دے دی اور اپنی حاجت مندی کا خیال بھی نہ کیا۔
«ذَوِي الْقُرْبَىٰ» انہیں کہتے ہیں جو رشتہ دار ہوں صدقہ دیتے وقت یہ دوسروں سے زیادہ مقدم ہیں۔ حدیث میں ہے مسکین کو دینا اکہرا ثواب ہے اور قرابت دار مسکین کو دینا دوہرا ثواب ہے، ایک ثواب صدقہ کا دوسرا صلہ رحمی کا۔ تمہاری بخشش اور خیراتوں کے زیادہ مستحق یہ ہیں، قرآن کریم میں ان کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم کئی جگہ ہے۔ [سنن ابوداود:2355، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ یتیم سے مراد وہ چھوٹے بچے ہیں جن کے والد مر گئے ہوں اور ان کا کمانے والا کوئی نہ ہو نہ خود انہیں اپنی روزی حاصل کرنے کی قوت و طاقت ہو، حدیث شریف میں ہے بلوغت کے بعد یتیمی نہیں رہتی۔ [سنن ابوداود:2873، قال الشيخ الألباني:سندہ ضعیف ولہ شواھد]‏‏‏‏
مساکین وہ ہیں جن کے پاس اتنا ہو جو ان کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کا کافی ہو سکے، ان کے ساتھ بھی سلوک کیا جائے جس سے ان کی حاجت پوری ہو اور فقر و فاقہ اور قلت وذلت کی حالت سے بچ سکیں، بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو مانگتے پھرتے ہوں اور ایک ایک دو دو کھجوریں یا ایک ایک دو دو لقمے روٹی کے لے جاتے ہوں بلکہ مسکین وہ بھی ہیں جن کے پاس اتنا نہ ہو کہ ان کے سب کام نکل جائیں نہ وہ اپنی حالت ایسی بنائیں جس سے لوگوں کو علم ہو جائے اور انہیں کوئی کچھ دیدے۔ [صحیح بخاری:1476]‏‏‏‏
ا «ابْنَ السَّبِيلِ» مسافر کو کہتے ہیں، اسی طرح وہ شخص بھی جو اطاعت اللہ میں سفر کر رہا ہو اسے جانے آنے کا خرچ دینا، مہمان بھی اسی حکم میں ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مہمان کو بھی ابن السبیل میں داخل کرتے ہیں اور دوسرے بزرگ سلف بھی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:259/1]‏‏‏‏ سائلین وہ لوگ ہیں جو اپنی حاجت ظاہر کر کے لوگوں سے کچھ مانگیں، انہیں بھی صدقہ زکوٰۃ دینا چاہیئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار آئے [سنن ابوداود:1665، قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏ آیت «وَفِي الرِّقَابِ» [البقرہ: 177]‏‏‏‏ سے مراد غلاموں کو آزادی دلانا ہے خواہ یہ وہ غلام ہوں جنہوں نے اپنے مالکوں کو مقررہ قیمت کی ادائیگی کا لکھ دیا ہو کہ اتنی رقم ہم تمہیں ادا کر دیں گے تو ہم آزاد ہیں لیکن اب ان بیچاروں سے ادا نہیں ہو سکی تو ان کی امداد کر کے انہیں آزاد کرانا، ان تمام قسموں کی اور دوسرے اسی قسم کے لوگوں کی پوری تفسیر سورۃ برات میں آیت «إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ» [9-سورۃ التوبہ: 60]‏‏‏‏ کی تفسیر میں بیان ہو گی ان شاءاللہ تعالیٰ،
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مال میں زکوٰۃ کے سوا کچھ اور بھی اللہ تعالیٰ کا حق ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائی، اس حدیث کا ایک راوی ابوحمزہ میمون اعور ضعیف ہے۔
پھر فرمایا نماز کو وقت پر پورے رکوع سجدے اطمینان اور آرام خشوع اور خضوع کے ساتھ ادا کرے جس طرح ادائیگی کا شریعت کا حکم ہے اور زکوٰۃ کو بھی ادا کرے یا یہ معنی کہ اپنے نفس کو بے معنی باتوں اور رذیل اخلاقوں سے پاک کرے جیسے فرمایا آیت «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا» [91۔ الشمس: 9]‏‏‏‏ یعنی اپنے نفس کو پاک کرنے والا فلاح پا گیا اور اسے گندگی میں لتھیڑنے [لت پت کرنے والا]‏‏‏‏ تباہ ہو گیا موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے ہی فرمایا تھا کہ آیت «فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰ أَن تَزَكَّىٰ وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ» [79-النازعات: 18، 19]‏‏‏‏ اور جگہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت «وَوَيْلٌ لِّـلْمُشْرِكِيْنَ ۝ الَّذِيْنَ لَا يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ» [41۔ فصلت: 7، 6]‏‏‏‏ یعنی ان مشرکوں کو ویل ہے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے یا یہ کہ جو اپنے آپ کو شرک سے پاک نہیں کرتے، پس یہاں مندرجہ بالا آیت زکوٰۃ سے مراد زکوٰۃ نفس یعنی اپنے آپ کو گندگیوں اور شرک و کفر سے پاک کرنا ہے، اور ممکن ہے مال کی زکوٰۃ مراد ہو تو اور احکام نفلی صدقہ سے متعلق سمجھے جائیں گے جیسے اوپر حدیث بیان ہوئی کہ مال میں زکوٰۃ کے سوا اور حق بھی ہیں۔ پھر فرمایا وعدے پورے کرنے والے جیسے اور جگہ ہے آیت «يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ» [13۔ الرعد: 20]‏‏‏‏ یہ لوگ اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور وعدے نہیں توڑتے، [سنن ترمذي:659، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ وعدے توڑنا نفاق کی خصلت ہے، جیسے حدیث میں ہے منافق کی تین نشانیاں ہیں، بات کرتے ہوئے جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، امانت میں خیانت کرنا۔ [صحیح بخاری:33]‏‏‏‏
ایک اور حدیث میں ہے جھگڑے کے وقت گالیاں بکنا۔ [صحیح بخاری:34]‏‏‏‏ پھرفرمایا فقر و فاقہ میں مال کی کمی کے وقت بدن کی بیماری کے وقت لڑائی کے موقعہ پر دشمنان دین کے سامنے میدان جنگ میں جہاد کے وقت صبر و ثابت قدم رہنے والے اور فولادی چٹان کی طرح جم جانے والے۔ صابرین کا نصب بطور مدح کے ہے ان سختیوں اور مصیبتوں کے وقت صبر کی تعلیم اور تلقین ہو رہی ہے، اللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے ہمارا بھروسہ اسی پر ہے۔ پھر فرمایا ان اوصاف والے لوگ ہی سچے ایمان والے ہیں ان کا ظاہر باطن قول فعل یکساں ہے اور متقی بھی یہی لوگ ہیں کیونکہ اطاعت گزار ہیں اور نافرمانیوں سے دور ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَ٘یْسَ الْـبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْ٘مَشْ٘رِقِ وَالْ٘مَغْرِبِ نیکی یہ نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرلو یعنی یہ وہ نیکی نہیں ہے جو بندوں سے مطلوب ہے جس کے بارے میں اس کثرت سے بحث و مباحثہ کی مشقت برداشت کی جائے جس سے سوائے دشمنی اور مخالفت کے کچھ اور جنم نہیں لیتا۔ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی نظیر ہے جس میں آپ نے فرمایا:
لَیْسَ الشَّدِیْدُ بِالصُّرَعَۃِ اِنَّمَا الشَّدِیْدُ الَّذِی یَمْلِکُ نَفْسَہُ عِنْدَالْغَضَبِ‘(صحیح البخاري، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، حديث:6114)
طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں طاقت ور ہے بلکہ حقیقی طاقت ور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھتا ہے۔
﴿ وَلٰكِنَّ الْـبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ لیکن نیکی تو یہ ہے جو ایمان لایا اللہ پر یعنی وہ اس بات پر ایمان لایا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود واحد ہے، وہ صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک اور منزہ ہے۔ ﴿ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ اور آخرت کے دن پر یعنی وہ ان تمام باتوں پر ایمان رکھتا ہے جو انسان کو موت کے بعد پیش آئیں گی جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے۔ ﴿ وَالْمَلٰٓىِٕكَةِ اور فرشتوں پر۔ فرشتے وہ ہستیاں ہیں جن کی بابت اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کیا ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔ ﴿ وَالْكِتٰبِ اور کتاب پر اس سے مراد جنس ہے، یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان لاتا ہے جو اللہ نے اپنے رسولوں پر نازل فرمائی ہیں۔ ان میں سب سے عظیم کتاب قرآن مجید ہے۔ پس وہ ان تمام اخبار و احکام پر ایمان لاتا ہے جن پر یہ کتابیں مشتمل ہیں۔ ﴿ وَالنَّبِیّٖنَ اور پیغمبروں پر یعنی وہ تمام انبیاء علیہم السلام پر عام طور پر اور ان میں سب سے افضل اور خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص طور پر ایمان لاتا ہے۔ ﴿ وَاٰتَى الْمَالَ اور دیتا ہے وہ مال مال کے زمرے میں ہر وہ چیز آتی ہے جو مال کے طور پر انسان اپنے لیے جمع کرتا ہے۔ خواہ یہ کم ہو یا زیادہ۔ ﴿ عَلٰى حُبِّهٖ اس کی محبت کے باوجود (حُبِّهٖ) میں ضمیر کا مرجع مال ہے۔ یعنی وہ مال کی محبت رکھنے کے باوجود مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں یہ بھی واضح فرمایا کہ مال نفوس انسانی کو بہت محبوب ہوتا ہے۔ بندہ اسے مشکل ہی سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے اس لیے جو کوئی اس مال سے محبت کے باوجود اس کو اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر خرچ کرتا ہے تو یہ اس کے ایمان کی بہت بڑی دلیل ہے۔ مال سے محبت کے باوجود اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ بندہ اس حال میں مال خرچ کرے کہ وہ صحت مند ہو، مال کا حریص ہو، فراخی کی امید رکھتا ہو اور محتاجی سے ڈرتا ہو۔ اسی طرح اگر قلیل مال میں سے صدقہ نکالا جائے تو یہ افضل ہے۔ کیونکہ بندے کی یہی وہ حالت ہے جب وہ مال کو اس وہم سے روکے رکھنا پسند کرتا ہے کہ کہیں وہ محتاج نہ ہو جائے۔
اسی طرح جب مال نفیس ہو اور وہ اس مال سے محبت کرتا ہو اور پھر بھی وہ اس مال کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿لَ٘نْ تَنَالُوا الْـبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّؔا تُحِبُّوْنَ (آل عمران: 3؍92) تم اس وقت تک نیکی حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ نہ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو۔ پس یہ سب وہ لوگ ہیں جو مال سے محبت رکھنے کے باوجود اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جن پر مال خرچ کیا جانا چاہیے۔ یہی لوگ تیری نیکی اور تیرے احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ ﴿ ذَوِی الْ٘قُ٘رْبٰى رشتے داروں کو ان قریبی رشتہ داروں پر جن کے مصائب پر تو تکلیف، اور ان کی خوشی پر خوشی محسوس کرے جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور دیت ادا کرنے میں شریک ہوتے ہیں۔ پس بہترین نیکی یہ ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ ان کے قرب اور ان کی حاجت کے مطابق مالی اور قولی احسان سے پیش آیا جائے۔ ﴿ وَالْ٘یَ٘تٰمٰى اور یتیموں کو ان یتیموں پر جن کا کوئی کمانے والا نہ ہو۔ اور نہ خود ان میں اتنی قوت ہو کہ وہ کما کر مستغنی ہو جائیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عظیم رحمت ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحیم ہے جتنا باپ اپنی اولاد پر ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو وصیت کی ہے اور ان پر ان کے اموال میں فرض قرار دیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ احسان اور بھلائی سے پیش آئیں حتی کہ وہ یوں محسوس کریں کہ گویا ان کے والدین فوت ہی نہیں ہوئے۔ کیونکہ عمل کا بدلہ عمل کی جنس ہی سے ہوتا ہے جو کسی دوسرے کے یتیم پر رحم کرتا ہے تو اس کے یتیم کے سر پر بھی دست شفقت رکھا جاتا ہے۔
﴿ وَالْمَسٰكِیْنَ اور مسکینوں کو مساکین وہ لوگ ہیں جن کو حاجت نے بے دست و پا اور فقر نے ذلیل کر دیا ہو۔ پس مال دار لوگوں پر ان کا اتنا حق ہے جس سے ان کی مسکینی دور ہو جائے یا کم از کم اس میں کمی ہو جائے۔ مال دار لوگ اپنی استطاعت کے مطابق اور جو کچھ ان کو میسر ہے اس سے ان کی مدد کریں۔
﴿ وَابْنَ السَّبِیْلِ اور مسافر کو یہ اس اجنبی کو کہا جاتا ہے جو کسی دوسرے شہر میں ہو اور وہ اپنے شہر سے کٹ کر رہ گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اجنبی مسافر کو اتنا مال عطا کریں جو سفر میں اس کا مددگار ہو۔ اس گمان پر کہ وہ حاجت مند ہے اور اس کے سفر کے مصارف بہت زیادہ ہیں۔ پس اس شخص پر، جسے اللہ تعالیٰ نے وطن سے اور اس کی راحت سے نوازا ہے اور اسے نعمتیں عطا کی ہیں، فرض ہے کہ وہ اپنے اس قسم کے غریب الوطن بھائی پر اپنی استطاعت کے مطابق ترس کھائے خواہ اسے زاد راہ عطا کر دے یا سفر کا کوئی آلہ (سواری وغیرہ) دے دے۔ یا اس کو پہنچنے والے مظالم وغیرہ کا ازالہ کر دے۔
﴿ وَالسَّآىِٕلِیْ٘نَ۠ اور مانگنے والوں کو سائلین وہ لوگ ہیں جن پر کوئی ایسی ضرورت آن پڑے جو ان کو سوال کرنے پر مجبور کر دے، مثلاً ایسا شخص جو کسی دیت کی ادائیگی میں مبتلا ہو گیا ہو یا حکومت کی طرف سے اس پر کوئی جرمانہ عائد کر دیا گیا ہو یا وہ مصالح عامہ کے لیے کوئی عمارت، مثلاً مسجد، مدرسہ اور پل وغیرہ تعمیر کروا رہا ہو۔ اس حوالے سے سوال کرنا اس کا حق ہے خواہ وہ مال دار ہی کیوں نہ ہو۔ ﴿ وَفِی الرِّقَابِ اور گردنوں کے آزاد کرنے میں غلاموں کو آزاد کرنا اور آزادی پر اعانت کرنا، مکاتب کو آزادی کے لیے مالی مدد دینا تاکہ وہ اپنے مالک کو ادائیگی کر سکے۔ جنگی قیدی جو کفار یا ظالموں کی قید میں ہوں۔ سب اس مد میں شامل ہیں۔ ﴿ وَاَقَامَ الصَّلٰ٘وةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ اور قائم کرے وہ نماز اور ادا کرے زکاۃ گزشتہ صفحات میں متعدد بار گزر چکا ہے کہ نماز اور زکٰوۃ کے سب سے افضل عبادت ہونے، تقرب الٰہی کا کامل ترین ذریعہ ہونے، اور قلبی، بدنی اور مالی عبادت ہونے کی بنا پر ان دونوں کو ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ نماز اور زکٰوۃ ہی کے ذریعے سے ایمان کا وزن ہوتا ہے اور انھی سے معلوم کیا جاتا ہے کہ صاحب ایمان کتنے یقین کا مالک ہے۔ ﴿ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰؔهَدُوْا اور وہ اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہیں جب وہ عہد کرلیں اللہ تعالیٰ یا خود بندے کی طرف سے لازم کیے ہوئے امر کا التزام کرنا عہد کہلاتا ہے۔ پس تمام حقوق اللہ اس میں داخل ہو جاتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ان کو لازم قرار دیا ہے اور وہ اس التزام کو قبول کر کے اس عہد میں داخل ہو گئے اور ان کا ادا کرنا ان پر فرض قرار پایا۔ نیز اس عہد میں وہ حقوق العباد بھی داخل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب قرار دیا ہے اور اس میں وہ حقوق بھی شامل ہیں جن کو بندے اپنے آپ پر لازم قرار دے لیتے ہیں، مثلاً قسم اور نذر وغیرہ۔
﴿ وَالصّٰؔبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ اور صبر کرنے والے ہیں وہ سختی میں یعنی فقر اور محتاجی میں صبر کرتے ہیں، کیونکہ محتاج شخص بہت سے پہلوؤں سے صبر کا محتاج ہوتا ہے۔ وہ دائمی طور پر ایسی قلبی اور بدنی تکالیف میں مبتلا ہوتا ہے جس میں کوئی اور شخص مبتلا نہیں ہوتا۔ اگر مال دار دنیاوی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہیں تو فقیر آدمی ان نعمتوں سے استفادے پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے رنج و الم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جب وہ اور اس کے اہل و عیال بھوک کا شکار ہوتے ہیں تو اسے دکھ ہوتا ہے جب وہ کوئی ایسا کھانا کھاتا ہے جو اس کی چاہت کے مطابق نہ ہو، تب بھی اسے تکلیف پہنچتی ہے۔ اگر وہ عریاں ہوتا ہے یا عریانی کی حالت کے قریب پہنچ جاتا ہے تو دکھ محسوس کرتا ہے۔ جب وہ اپنے سامنے کی یا مستقبل میں متوقع کسی چیز کو دیکھتا ہے، تو غم زدہ ہو جاتا ہے۔ اگر وہ سردی محسوس کرتا ہے جس سے بچنے پر وہ قادر نہیں ہوتا، تو اسے تکلیف پہنچتی ہے۔ پس یہ تمام چیزیں مصائب کے زمرے میں آتی ہیں جن پر صبر کرنے کا اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
﴿ وَالضَّرَّآءِ اور تکلیف میں یعنی مختلف قسم کے امراض، مثلاً بخار، زخم، ریح کا درد، کسی عضو میں درد کا ہونا حتی کہ دانت اور انگلی کا درد وغیرہ، ان تمام تکالیف میں بندہ صبر کا محتاج ہے، کیونکہ نفس کمزور ہوتا ہے اور بدن درد محسوس کرتا ہے اور یہ مرحلہ نفس انسانی کے لیے نہایت مشقت آزما ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب بیماری طول پکڑ جائے۔ پس اسے حکم ہے کہ وہ صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھے۔ ﴿ وَحِیْنَ الْبَاْسِ اور لڑائی کے وقت یعنی ان دشمنوں سے لڑائی کے وقت جن سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ صبر و استقلال سے جواں مردی کا مظاہرہ نفس انسانی کے لیے نہایت گراں بار ہے اور انسان قتل ہونے، زخمی ہونے یا قید ہونے سے بہت گھبراتا ہے۔ پس وہ اس صورت میں اللہ تعالیٰ پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے صبرکرنے کا سخت محتاج ہے جس کی طرف سے فتح و نصرت ہوتی ہے جس کا وعدہ اس نے صبر کرنے والوں کے ساتھ کر رکھا ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ یہی یعنی جو ان عقائد حسنہ اور اعمال صالحہ سے متصف ہیں جو ایمان کے آثار، اس کی برہان اور اس کا نور ہیں۔ اور ان اخلاق کے مالک ہیں جو انسان کا حسن و جمال اور انسانیت کی حقیقت ہے۔ ﴿الَّذِیْنَ صَدَقُوْا جو سچے ہیں۔ یعنی یہی لوگ اپنے ایمان میں سچے ہیں، کیونکہ ان کے اعمال ان کے ایمان کی تصدیق کرتے ہیں ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْ٘مُتَّقُوْنَ اور یہی لوگ متقی ہیں کیونکہ انھوں نے محظورات کو ترک کر دیا اور مامورات پر عمل کیا، اس لیے کہ یہ امور تمام اچھی خصلتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتے ہیں، چاہے ضمناً یا لزوماً، کیونکہ ایفائے عہد میں پورا دین ہی آجاتا ہے۔ علاوہ ازیں اس آیت میں جن عبادات کی صراحت ہے، وہ سب عبادات سے اہم اور بڑی ہیں۔ اور جو ان عبادات کا التزام کرتا ہے وہ دیگر امور کو زیادہ آسانی سے سرانجام دے سکتا ہے۔ پس یہی لوگ نیک، سچے اور متقی ہیں۔ ان تین امور پر اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی اور اخروی ثواب مرتب کیا ہے وہ سب کو معلوم ہے جس کی تفصیل اس مقام پر ممکن نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {ليس البر أن تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب}؛ أي: ليس هذا هو البر المقصود من العباد فيكون كثرة البحث فيه والجدال من العناء الذي ليس تحته إلا الشقاق والخلاف، وهذا نظير قوله - صلى الله عليه وسلم -: «ليس الشديد بالصرعة إنما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب» ، ونحو ذلك، {ولكن البر من آمن بالله}؛ أي: بأنه إله واحد موصوف بكل صفة كمال منزَّه عن كلِّ نقص {واليوم الآخر}؛ وهو كل ما أخبر الله به في كتابه أو أخبر به الرسول مما يكون بعد الموت {والملائكة}؛ الذين وصفهم الله لنا في كتابه ووصفهم رسوله - صلى الله عليه وسلم -، {والكتاب}؛ أي: جنس الكتب التي أنزلها الله على رسله وأعظمها القرآن فيؤمن بما تضمنه من الأخبار والأحكام. {والنبيين}؛ عموماً، خصوصاً خاتمهم وأفضلهم محمد - صلى الله عليه وسلم - {وآتى المال}؛ وهو كل ما يتمول الإنسان من مال قليلاً كان أو كثيراً أي أعطى المال {على حبه}؛ أي: حب المال بين به أن المال محبوب للنفوس فلا يكاد يخرجه العبد، فمن أخرجه مع حبه له تقرباً إلى الله تعالى كان هذا برهاناً لإيمانه، ومن إيتاء المال على حبه أن يتصدق وهو صحيح شحيح يأمل الغنى ويخشى الفقر، وكذلك إذا كانت الصدقة عن قلة كان أفضل لأنه في هذه الحال يحب إمساكه لما يتوهمه من العُدْم والفقر، وكذلك إخراج النفيس من المال وما يحبه من ماله كما قال تعالى: {لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون}؛ فكل هؤلاء ممن آتى المال على حبه.

ثم ذكر المنفق عليه وهم أولى الناس ببرِّك وإحسانك من الأقارب؛ الذين تتوجع لمصابهم وتفرح بسرورهم الذين يتناصرون ويتعاقلون، فمن أحسن البر وأوفقه تعاهد الأقارب بالإحسان المالي والقولي على حسب قربهم وحاجتهم، ومن {اليتامى}؛ الذين لا كاسب لهم وليس لهم قوة يستغنون بها، وهذا من رحمته تعالى بالعباد الدالة على أنه تعالى أرحم بهم من الوالد بولده، فالله قد أوصى العباد وفرض عليهم في أموالهم الإحسان إلى من فقد آباؤهم ليصيروا كمن لم يفقد والديه، ولأن الجزاء من جنس العمل فمن رحم يتيمَ غيره رُحِم يتيمه.

{والمساكين}؛ وهم الذين أسكنتهم الحاجة وأذلهم الفقر فلهم حق على الأغنياء بما يدفع مسكنتهم أو يخففها بما يقدرون عليه وبما يتيسر. {وابن السبيل}؛ وهو الغريب المنقطع به في غير بلده. فحث الله عباده على إعطائه من المال ما يعينه على سفره لكونه مظنة الحاجة وكثرة المصارف، فعلى من أنعم الله عليه بوطنه وراحته وخوَّله من نعمته أن يرحم أخاه الغريب الذي بهذه الصفة على حسب استطاعته ولو بتزويده أو إعطائه آلة لسفره أو دفع ما ينوبه من المظالم وغيرها. {والسائلين}؛ أي: الذين تعرض لهم حاجة من الحوائج توجب السؤال، كمن ابتلي بأرش جناية أو ضريبة عليه من ولاة الأمور أو يسأل الناس لتعمير المصالح العامة كالمساجد والمدارس والقناطر ونحو ذلك فهذا له الحق وإن كان غنياً. {وفي الرقاب}؛ فيدخل فيه العتق والإعانة عليه وبذل مال للمكاتَب ليوفي سيده وفداء الأسراء عند الكفار أو عند الظلمة.

{وأقام الصلاة وآتى الزكاة}؛ قد تقدم مراراً أن الله تعالى يقرن بين الصلاة والزكاة لكونهما أفضل العبادات، وأكمل القربات عبادات قلبية وبدنية ومالية، وبهما يوزن الإيمان ويعرف ما مع صاحبه من الإيقان، {والموفون بعهدهم إذا عاهدوا}؛ والعهد هو الالتزام بإلزام الله أو إلزام العبد لنفسه فدخل في ذلك حقوق الله كلها، لكون الله ألزم بها عباده والتزموها، ودخلوا تحت عهدتها ووجب عليهم أداؤها، وحقوق العباد التي أوجبها الله عليهم والحقوق التي التزمها العبد كالأيمان والنذور ونحو ذلك.

{والصابرين في البأساء}؛ أي: الفقر لأن الفقير يحتاج إلى الصبر من وجوه كثيرة لكونه يحصل له من الآلام القلبية والبدنية المستمرة ما لا يحصل لغيره، فإن تنعم الأغنياء بما لا يقدر عليه تألم وإن جاع أو جاعت عياله تألم، وإن أكل طعاماً غير موافق لهواه تألم، وإن عري أو كاد تألم، وإن نظر إلى ما بين يديه وما يتوهمه من المستقبل الذي يستعد له تألم، وإن أصابه البرد الذي لا يقدر على دفعه تألم، فكل هذه ونحوها مصائب يؤمر بالصبر عليها والاحتساب ورجاء الثواب من الله عليها {والضراء}؛ أي: المرض على اختلاف أنواعه من حمى وقروح ورياح ووجع عضو حتى الضرس والإصبع ونحو ذلك فإنه يحتاج إلى الصبر على ذلك، لأن النفس تضعف والبدنَ يألم وذلك في غاية المشقة على النفوس، خصوصاً مع تطاول ذلك، فإنه يؤمر بالصبر احتساباً لثواب الله تعالى {وحين البأس}؛ أي: وقت القتال للأعداء المأمور بقتالهم، لأن الجلاد يشق غاية المشقة على النفس ويجزع الإنسان من القتل أو الجراح أو الأسر، فاحتيج إلى الصبر في ذلك احتساباً ورجاء لثواب الله تعالى الذي منه النصر والمعونة التي وعدها الصابرين.

{أولئك}؛ أي: المتصفون بما ذكر من العقائد الحسنة والأعمال التي هي آثار الإيمان وبرهانه ونوره والأخلاق التي هي جمال الإنسان وحقيقة الإنسانية فأولئك {الذين صدقوا}؛ في إيمانهم لأن أعمالهم صدقت إيمانهم {وأولئك هم المتقون}؛ لأنهم تركوا المحظور وفعلوا المأمور، لأن هذه الأمور مشتملة على كل خصال الخير تضمناً ولزوماً لأن الوفاء بالعهد يدخل فيه الدين كله، ولأن العبادات المنصوص عليها في هذه الآية أكبر العبادات، ومن قام بها كان بما سواها أقوم، فهؤلاء [هم] الأبرار الصادقون المتقون.

وقد علم ما رتب الله على هذه الأمور الثلاثة من الثواب الدنيوي والأخروي مما لا يمكن تفصيله في مثل هذا الموضع.