یتیم کی کفالت کرنے کا ثواب
اللہ رب العزت کا ارشادِ گرامی ہے: ﴿وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ﴾
”بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ آدمی ایمان لائے اللہ پر، یومِ آخرت پر، فرشتوں پر، قرآنِ کریم پر اور تمام انبیاء پر اور اپنا محبوب مال خرچ کرے، رشتہ داروں پر، یتیموں پر اور مسکینوں پر۔“
(2-البقرة:177)
﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا . إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا .﴾
”اور اپنے لیے کھانے کی ضرورت ہوتے ہوئے، اسے مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں۔ (اُن سے کہتے ہیں) ہم تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلا رہے ہیں، ہم نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ کوئی کلمہ شکر۔“
(76-الإنسان:8،9)
ان آیات میں اللہ رب العالمین، اہل جنت کی صفات بیان فرما رہا ہے کہ جن صفات سے یہ جنتی دنیا میں متصف ہوں گے۔ ان میں ایک یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک، انہیں کھانا کھلانا بھی ہے۔ اور یہ کوئی معمولی کام نہیں۔ بلکہ جن لوگوں کے لیے آخرت میں ہلاکت ہے۔ ان کی صفات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ نہ خود یتیموں و مساکین کو کھانا کھلاتے ہیں، ان کی کفالت کرتے ہیں، اور نہ ہی کسی اور کو اس کی ترغیب دلاتے ہیں۔
﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ﴾ .
”آپ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں، آپ کہہ دیجیے: جو مال بھی تم خرچ کرو وہ والدین کے لیے اور رشتہ داروں، اور یتیموں، اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اور تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے۔“
(2-البقرة:215)
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كافل اليتيم، له أو لغيره، أنا وهو كهاتين فى الجنة وأشار مالك بالسبابة والوسطى.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یتیم کی کفالت کرنے والا، وہ یتیم اس کا قریبی ہو یا غیر، میں اور وہ ان دو انگلیوں کی طرح جنت میں ہوں گے۔“ حدیث کے راوی، مالک بن انس رحمہ اللہ نے اشارہ کیا انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ۔“
صحيح مسلم، كتاب الزهد، باب الإحسان إلى الأرملة والمسكين واليتيم، رقم: 2982۔