اتباعِ سنت اور فہمِ سلف کی اہمیت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب آمد مصطفےٰﷺ سے ماخوذ ہے۔

اتباعِ سنت اور فہمِ سلف کی اہمیت

ایمان کی سلامتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع سے ممکن ہے، وگرنہ آپ گمراہ ہو جاتے ہیں اور راہ راست سے بھٹک جاتے ہیں، راہ راست کو سبیل مومنین بھی کہا جاتا ہے، یعنی صحابہ، تابعین اور ائمہ ہدی کا راستہ جس طرح اور جس طریقے سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی ہے، تم پر بھی لازم ہے کہ اسی طور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو، یہی نجات والا رستہ ہے اور اسی میں عافیت وراحت ہے، فرمان باری تعالیٰ ہے :
وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا
”جس کے لئے ہدایت واضح ہو جائے اور وہ اس کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرے اور سبیل مومنین سے ہٹ جائے تو ہم اسے اسکے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے جہنم رسید کر دیں گے، وہ برا ٹھکانہ ہے۔“
(سورہ النساء : 115)
◈ علامہ عبد الرحمن بن ناصر سعدی رحمہ اللہ (م : 1376ھ ) لکھتے ہیں :
ويدل مفهومها على أن من لم يشاقق الرسول، ويتبع سبيل المؤمنين، بأن كان قصده وجه الله واتباع رسوله ولزوم جماعة المسلمين، ثم صدر منه من الذنوب أو الهم بها ما هو من مقتضيات النفوس، وغلبات الطباع، فإن الله لا يوليه نفسه وشيطانه بل يتداركه بلطفه، ويمن عليه بحفظه ويعصمه من السوء، كما قال تعالى عن يوسف عليه السلام : كذلك لنصرف عنه السوء والفحشاء إنه من عبادنا المخلصين أى بسبب إخلاصه صرفنا عنه السوء، وكذلك كل مخلص، كما يدل عليه عموم التعليل
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت نہیں کرتا اور طریق سلف کی پیروی کرتا ہے، رضائے الہی کا طالب ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کوشاں ہے اور مسلمانوں کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ پھر اس سے بتقاضائے بشریت گناہ صادر ہو جاتا ہے، یا گناہ کا ارادہ کر بیٹھتا ہے، تو مالک کریم اسے شیطان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے، بلکہ اپنے لطف وکرم سے اس کا بچاؤ کریں گے اور برائی سے اس کی حفاظت کریں گے، جیسا کہ اللہ نے یوسف علیہ السلام کے متعلق فرمایا : كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ ہم نے ان سے برائی اور فحاشی کو دور کیا، کہ وہ ہمارے مخلص بندے جو تھے ۔ مطلب ان کے اخلاص کے سبب ہم نے ان سے برائی دور کر دی، آیت کا عموم بتاتا ہے کہ اس میں تمام مخلص لوگ شامل ہیں۔
تفسير السعدي ص : 202
سلف صالحین سے جڑارہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والا ہی کامیاب رہے، قرآن وسنت کا وہی فہم معتبر ہے، جس پر محدثین نے اتفاق کیا ہو۔
◈ امام اوزاعی رحمہ اللہ (م : 157ھ) فرماتے ہیں :
عليك بآثار من سلف، وإن رفضك الناس ، وإياك ور أى الرجال، وإن زخرفوه بالقول، فإن الأمر ينجلي، وأنت على طريق مستقيم
”سلف کے عقائد سے جڑے رہیں، پھر بھلے لوگ آپ کا بائیکاٹ کر دیں اور اہل بدعت کی آراء نظر بھاتی ہوں ، تب بھی ان سے کنارہ کشی اختیار کریں، کیوں کہ حق واضح ہو چکا ہے اور آپ صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔“
شرف أصحاب الحديث للخطيب : 6 ، الشّريعة للآجري : 127 وسنده صحيح
◈ علامہ ابو المظفر سمعانی رحمہ اللہ (م : 489 ھ ) فرماتے ہیں :
شعار أهل السنة اتباعهم السلف الصالح، وتركهم كل ما هو مبتدع محدث
”اہل سنت کا شعار سلف صالحین کی پیروی اور ہرنئی بدعت سے اجتناب ہے۔“
الحجة في بيان المَحَجّة : 395/1
◈ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
يكون بعدي أئمة لا يهتدون بهداي، ولا يستنون بسنتي، وسيقوم فيهم رجال قلوبهم قلوب الشياطين فى جثمان إنس
”میرے بعد بدعات کے سرغنے جنم لیں گے، یہ وحی الہی کے باغی اور میری سنت سے منحرف ہوں گے، یہ لوگ بہ ظاہر انسان مگر اندر سے شیطان ہوں گے۔“
صحيح مسلم : 1847
ان لوگوں اور ان کی ایجاد کردہ بدعات سے بچنے کے لئے فہم سلف کا تتبع ضروری ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کو اللہ کریم نے بعد والوں کے ایمان کا معیار بنایا ہے، یہی وہ چشمہ صافی ہے، جس سے پینے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا۔
وگرنہ لاکھ دعوے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے کرے، وہ اپنی محبت میں سچا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا مطلب یہ نہیں کہ آئے دن ہم آپ کے دین میں بدعات داخل کرتے رہیں، بلکہ محبت کا معیار صحابہ، تابعین اور ائمہ اسلام کا طرز عمل ہے۔
اسلاف امت ہی کے طرز عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے ، ہم نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کسی کا یوم ولادت بہ طور عید منایا جاسکتا ہے کہ نہیں؟
پھر اس کا جواب ڈھونڈ کر نوک قلم سے گزار دیا ہے اور رحمت الہی کے زیر سایہ منہج سلف کی نشاندہی کر دی ہے، اللہ کریم کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ایک اہم کام مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی، دعا ہے مالک ہماری اس کاوش کو مبارک بنائے اور امت محمدیہ کو بدعت کی بھول بھلیوں سے نکال کر راہ سلف کا پیرو بنائے۔ آمين
غلام مصطفي ظهير امن پوري عفا الله عنه