حافظ محمد زبیر کی "نظریہ وحدت الوجود اور ڈاکٹر اسرار” نامی تحریر کا جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو عمر عبدالعزیز النورستانی اور دیگر اہلحدیث علماء کے مرتب کردہ رسالہ "ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحید الوجودی اور اس کا شرعی حکم” سے ماخوذ ہے۔

نظریہ وحدت الوجود اور ڈاکٹر اسرار احمد

حافظ محمد زبیر حفظہ اللہ نے نظریہ وحدت الوجود اور ڈاکٹر اسرار احمد نامی تحریر شائع فرمائی۔ اس کی اشاعت کا مقصد یوں بیان فرمایا:

اس مختصر تحریر کا مقصد نہ تو شیخ ابن عربی کے موقف کی حمایت ہے، اور نہ ہی ڈاکٹر اسرار احمد کے نکتہ نظر کا دفاع۔ اس تحریر کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ جس نے بھی کتاب وسنت کی روشنی میں ڈاکٹر اسرار احمد کے موقف پر نقد کرنی ہو وہ پہلے ان کے موقف کو اچھی طرح سمجھے اور پھر نقد کرے۔ ڈاکٹر اسرار کے نظریہ وحدت الوجود اور ابن عربی کے نظریہ وحدت الوجود میں بنیادی اور جوہری فرق حافظ محمد زبیر صاحب یوں بیاں کرتے ہیں:

ابن عربی کا موقف:

محققین اہل علم کے مطابق وحدت الوجود کا نقطہ نظر سب سے پہلے ابن عربی (متوفی538ھ) نے ایک جامع فکر کی صورت میں پیش کیا۔ ذیل میں ہم انتہائی اختصار کے ساتھ ممکن حد تک آسان الفاظ میں اس نظریہ کا ایک خلاصہ پیش کر رہے ہیں۔

فلسفہ اور فلاسفہ کا شروع ہی سے ایک بنیادی ذہنی خلجان رہا ہے۔ کہ ربط الحادث بالقدیم کے مسئلہ کو کیسے حل کیا جائے؟ جبکہ شیخ ابن عربی نے اس ربط کو اپنے نظریہ وحدت الوجود کے ذریعے حل کیا ہے۔ جس کی بنیادیں انہوں نے فرقہ باطنیہ سے حاصل کیں، جبکہ فرقہ باطنیہ نے یہ افکار یونانی فلسفے سے حاصل کیے تھے۔ شیخ ابن عربی نے قدیم سے حادث تک کے سفر کو متنزلات رستہ کے ذریعے بیان کیا ہے۔ شیخ ابن عربی کے تنزلات کو جاننے سے پہلے یہ مقدمہ جاننا ضروری ہے، کہ شیخ کے نزدیک ذات اور صفات الگ شے نہیں بلکہ اسماء وصفات باری تعالیٰ بھی عین ذات ہی ہیں۔

شیخ ابن عربی کے نزدیک ذات الہی سے

پہلا تنزل: ،،حقیقت محمدیہ،، میں ہوا ہے۔ اور یہ تنزل اللہ تعالیٰ کی صفت علم میں ہوا۔

دوسرا تنزل: ان کے نزدیک ،،حقیقت محمدیہ،، سے ،،اعیان ثابتہ،، میں ہوا ہے۔ اور

تیسرا تنزل: ،،اعیان ثابتہ،، سے ،،روح،، میں ہوا ہے۔

چوتھا تنزل: ،،روح،، سے ،،مثال،، میں اور

پانچواں تنزل: ،،مثال،، سے ،،جسم،، میں اور

چھٹا تنزل: ،،جسم،، سے ،،انسان،، میں ہوا ہے۔

ابن عربی کے اس فلسفہ کو اب ایک سادہ سی مثال سے سمجھنے کی کوشش کریں، مثلاً جب کوئی بڑھئی کسی میز کو بنانے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کے ذہن میں پہلے میز کا ایک اجمالی تصور آتا ہے۔ اور اس کے بعد اب اس میز کا تفصیلی تصور آتا ہے۔ یعنی پہلے اس کے ذہن، خیال یا تصور میں یہ بات آئے گی کی اس نے میز بنانی ہے۔ اس کے بعد اگلے مرحلہ میں اس کے ذہن، تصور میں یہ بات آئے گی کہ اس نے کیسی میز بنانی ہے۔ یعنی اس میز کے دراز ہوں گے یا نہیں؟ اس میز میں نیچے پاؤں رکھنے کی جگہ ہوگی یا نہیں؟ اس میز کی لمبائی، چوڑائی کتنی ہوگی؟ وغیرہ ذلک۔

شیخ ابن عربی یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو بنانے کا ارادہ کیا تو اس کا ایک اجمالی تصور کیا اور یہ اجمالی تصور ان کے ہاں ،،حقیقت محمدیہ،، کہلایا۔ ،،حقیقت محمدیہ،، کو صوفیاء کے ہاں مرتبہ وحدت اور موجود اجمالی اور حقیقة الحقائق اور عقل اول اور عالم صفات اور ظہور اول اور عالم رموز اور ام الفیض وغیرہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔۔۔۔ ابن عربی کے نزدیک اس اجمالی تصور اور خیال کے بعد اللہ تعالی نے اپنے پیدا کرنے والی مخلوق کا تفصیلی تصور اور خیال کیا اور اس مقام کا نام شیخ ابن عربی کے ہاں ،،اعیان ثابتہ،، ہے۔ اس مرتبے صوفیاء کے ہاں مرتبہ ،،واحدیت،، اور ،،قابلیت ظہور،، اور ،،وجود فائض،، اور ظل ممدود وغیرہ جیسی اصطلاحات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان تین مراتب یعنی ذات الهی، حقیقت محمدیہ [پیدا ہونے والی مخلوق کا اللہ کے علم میں اجمالی تصور ] اور اعیان ثابتہ [پیدا ہونے والی مخلوق کا اللہ کے علم میں تفصیلی تصور] کو شیخ ابن عربی کے نظریہ وحدت الوجود میں مراتب الہیہ کہتے ہیں، کیونکہ تنزل اول، وثانی کی صورت میں اللہ کا اجمالی علم ہو یا تفصیلی علم وہ اللہ کی صفت ہے اوراللہ کی صفات عین ذات ہیں، پس یہ تینوں اللہ کی ذات ہی کے مراتب ہیں۔ شیخ ابن عربی کا فلسفہ وحدت الوجود کا مرکزی خیال یہاں ختم ہو جاتا ہے۔

،،اعیان ثابتہ،، کے بارے میں شیخ ابن عربی کا یہ نقطہ نظر نہایت اہم ہے کہ ،،الاعيان ماشمت رائحة الوجود الخارجی،، یعنی اعیان ثابتہ نے خارج میں وجود کی بو بھی نہیں چکھی۔ یعنی اللہ کے علم میں اعیان ثابتہ کے مطابق خارج میں کوئی مخلوق وجود میں نہیں آئی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اعیان ثابتہ یعنی اللہ کے علم میں پیدا ہونے والی اشیاء کے ہیولوں کے مطابق خارج میں کوئی شے وجود میں نہیں آئی تو بقیہ چار تنزلات کا کیا معنی و مفہوم ہے؟ تیسرے، چوتھے، پانچویں اور چھٹے تنزل کے بارے میں شیخ ابن عربی کا کہنا یہ ہے کہ یہ در حقیقت اعیان ثابتہ کا عکس اور سایہ ہیں۔ یعنی چوتھے سے چھٹے تنزل تک تنزل اعیان ثابتہ کے عکوس و ظلال میں ہوا ہے لیکن یہ عکوس و ظلال شیخ کے نزدیک اعیان ثابتہ کا عین بھی ہیں، اس کو سادہ سی مثال سے یوں سمجھیں کہ جب ہم آئینہ سورج کے سامنے رکھیں تو ہمیں آئینے میں سورج کا عکس نظر آتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آئینے میں موجود سورج کا کوئی حقیقی وجود نہیں ہے بلکہ وہ محض آسمان والے سورج کا عکس ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ آئینے میں جو ہمیں سورج نظر آرہا ہے وہ وہی سورج ہے جو آسمان میں ہے، کیونکہ اسی آسمان والے سورج کی شعاع نے آئینے سے ٹکرا کر اس کا عکس پیدا کیا ہے۔ لہذا آئینے والے سورج کو آسمان والے سورج سے تعبیر کرنا صحیح ہے اور اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ آئینے میں جو سورج نظر آرہا ہے، یہ وہ آسمان والا سورج ہے تو اس کا یہ کہنا درست ہوگا۔ لیکن شیخ ابن عربی اس عکس کو عین مطابق نہیں بلکہ عین کہتے ہیں، کہ انہوں نے صفات کو ذات کا عین قرار دیا ہے۔ در حقیقت اعیان ثابتہ یعنی اللہ کے علم یا تصور یا خیال سے باہر کسی شے کا خارجیا وجود نہیں ہے۔ اگر خارجی وجود ہے تو اعیان ثابتہ کے عکوس مدل کا ہے۔ اور انہی عکوس و ظلال میں وہ تنزلات کے چار مراحل بیان کرتے ہیں۔ شیخ ابن عربی کے بیان کردہ تیسرے چوتھے اور پانچویں منزل کو ،،مراتب کونیہ،، کا نام دیا جاتا ہے۔ اور انہیں مراتب امکان یہ بھی کہتے ہیں۔ یعنی ان مراتب کی اشیاء کے وجود کا اگر چہ خارج میں امکان ہے لیکن خارج میں ان اشیاء کا وجود نہیں ہے۔ پس ابن عربی کے نقطہ نظر کے مطابق یہ کائنات اور اس میں موجود ہر شے در حقیقت اللہ کا خیال اور تصور ہے اور اس کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے۔ پس خارج میں سوائے ذات باری تعالیٰ کے کوئی اور وجود نہیں ہے اور اسی کو صوفیاء و وحدت الوجود کہتے ہیں۔

ڈاکٹر اسرار احمد کا موقف:

ڈاکٹر اسرار احمد کے ہاں جب قدیم اور حادث کے باہمی ربط کا سوال پیدا ہوا تو انہوں نے اس مسئلے کا جو حل پیش فرمایا تو اس کی اصل بنیاد عقیدہ کی بجائے فلسفہ و علم سائنس ہے۔ اور اس میں بھی شک نہیں ہے کہ ربط الحادث بالقدیم کے ذیل میں وحدت الوجود کا جو نکتہ نظر ڈاکٹر صاحب پیش کرتے ہیں وہ ان سے پہلے اس صورت میں کسی نے پیش نہیں کیا۔ شیخ ابن عربی کے ہاں تنزلات کا سلسلہ اللہ کی صفت علم میں ہوا ہے اور چونکہ صفت علم ذات سے علیحدہ کوئی شے نہیں لہذا تنزل در حقیقت ذات میں ہی تمایز علمی کی صورت میں ہوا ہے، جبکہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے ہاں تنزلات کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کی صفت کلام میں ہوا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد کے نزدیک اللہ تعالی نے جب مخلوق کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا ،،کن،، کہا۔ ڈاکٹر اسرار احمد یہاں قدیم اور حادث کے ربط کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے یہ کہتے ہیں، کہ جب اللہ تعالیٰ نے پہلی مرتبہ مخلوق پیدا کرنی چاہی تو کلمہ کن سے مخلوق پیدا نہیں ہوئی بلکہ کلمہ کن نے ہی اس مخلوق کی صورت اختیار کر لی جس کو اللہ نے پیدا کرنا چاہا تھا۔ گویا اللہ کی صفت یعنی کلام نے اولین مخلوق کی صورت اختیار کر لی اور یہ اولین مخلوق ایک نور بسیط تھا اس نور بسیط سے بعد ازاں ملائکہ اور ارواح انسانیہ پیدا ہوئے ہیں۔ یہ تنزل کا پہلا مرحلہ تھا۔ ملائکہ اور ارواح انسانیہ جس عالم میں ہوئی ہے اسے ڈاکٹر صاحب عالم امریا عالم نور کا نام دیتے ہیں اور اسے زمان و مکان سے ماوراء قرار دیتے ہیں۔

منزل کے دوسرے مرحلہ میں ڈاکٹر صاحب یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور کلمہ کن کہا جس سے اس نور بسیط کا ایک حصہ نار یعنی آگ میں تبدیل ہو گیا جسے ہم آگ کا ایک بڑا گولہ کہہ سکتے ہیں، اور اس بڑے آتشی گولے کی پیدائش کو ڈاکٹر صاحب زمان و مکان کی پیدائش کا نقطہ آغاز قرار دیتے ہیں۔ ان کے موقف کے مطابق اس آتشیں گولے سے جنات پیدا کئے گئے ڈاکٹر صاحب دوسرے تنزل میں پیدا شدہ مخلوق کے عالم کو عالم خلق کا نام دیتے ہیں اور اس عالم کی اشیاء میں ان کے ہاں زمان و مکان کی محدودیت کا تصور موجود ہے۔ تنزلات کے تیسرے مرحلہ میں ڈاکٹر اسرار احمد کے ہاں اس آتشیں گولے سے علیحدہ ہونے والے آتشیں کرے ٹھنڈے پڑ گئے اور ان کروں میں سے ایک ہماری زمین بھی ہے۔

جب اس زمین کے کرنے کی گرمی اوپر کو نکلتی ہے تو اس گرمی نے بخارات کی صورت اختیار کرتے ہوئے بادلوں کی صورت اختیار کرلی اور موسلا دھار بارشیں شروع ہو گئیں۔ ان بارشوں کے پانی اور زمین کی مٹی کے امتزاج سے حکم الہی کے سبب زمین پر حیات کا آغاز ہوا۔ جمادات سے نباتات اور نباتات سے حیوانات اور حیوانات سے حیوان آدم اور حیوان آدم میں روح کے پھونکے جانے سے پہلا انسان پیدا ہوا (انتہی)

تبصره:

حافظ محمد زبیر نے اپنی تحریر ابن عربی کے نظریہ وحدت الوجود کو بیان کرنے کے لیے جو مثال دی ہے وہ ملاحظہ فرمائیں:

اس کی بہترین تعبیر مناظر احسن گیلانی نے اپنی کتاب الدین القیم میں کی ہے: خالق اور مخلوق میں نسبت کو یوں سمجھئے کہ کسی شے کا تصور اپنے ذہن میں قائم کیجیے۔ فرض کیجیے آپ نے تاج محل دیکھا ہے۔ اب آپ تاج محل کا تصور اپنے ذہن میں لائیے۔ آپ کے ذہن میں یہ تصور آپ کی توجہ سے قائم ہے آپ کی توجہ مذکور رہے گی۔ یہ تصور ذہن میں رہے گا۔ جیسے ہی توجہ ہٹے گی اس کا کوئی وجود باقی نہیں رہے گا۔ وہ ختم ہو جائے گا۔ یہ جو آپ کی ذہنی تخلیق ہے آپ ہی اس کے نیچے بھی ہیں، اوپر بھی، اول بھی ہیں اور آخر بھی۔ اس کا اپنا تو کوئی وجود ہے ہی نہیں۔ وجود تو در حقیقت آپ کا ہے۔ یہ آپ کا ایک تصور ہے جو آپ نے اپنے ذہن کے اندر تخلیق کیا ہے۔ بالکل یہی تعلق ہے اس کا ئنات اور خالق کا۔ یہ کا ئنات کوئی علیحدہ شے نہیں ہے گویا اس کا اپنا کوئی وجود نہیں ہے۔

یہی مثال ڈاکٹر اسرار صاحب مناظر احسن گیلانی کے حوالے سے اپنے عقیدے کی تائید میں لائے ہیں۔ دیکھیے: [شرح سورہ حدید صفحہ: 52]

معلوم ہوا ڈاکٹر صاحب ابن عربی سے نتیجہ کے اعتبار سے کچھ مختلف نہیں ہیں۔

ڈاکٹر اسرار احمد صاحب ابن عربی کے حوالہ سے عقیدہ وحدۃ الوجود کی وضاحت کرتے ہوئے جو کچھ بیان کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:

توحید وجودی کی ایک دوسری تعبیر بھی ہے جو ابن عربی کی ہے۔ اور یہ بہت زیادہ دقیق تعبیر ہے، اس لیے کہ Pantheism اور ابن عربی کے نظریہ وحدت الوجود میں بہت باریک سا فرق ہے، جسے عام انسان کے لیے ملحوظ رکھنا آسان نہیں ہے۔ ابن عربی کا نظریہ یہ ہے کہ خالق اور کائنات کا وجود تو ایک ہی ہے ماہیت کے اعتبار سے کائنات عین وجود باری ہے، لیکن جہاں تعین ہو جاتا ہے وہاں وہ غیر ہو جاتا ہے۔ جیسے سائنس آج ہمیں بتاتی ہے کہ تمام اجسام Atoms کے بنے ہوئے ہیں۔ Atoms سے مالیکیول بنے ہیں۔ اور اسے مختلف چیزیں وجود میں آئی ہیں۔ ایٹم کی مزید تقسیم کریں تو Electrons اور Protons ہیں۔ پھر اس سے بھی چھوٹے Photons ہیں۔ اور حقیقت میں تو کچھ ہے ہی نہیں نے جو Electric Currents ہیں۔ انہی Electric Currents صرف خاص شکل اختیار کی تو وہ شے وجود میں آگئی۔ آپ کو یہ ہال خالی نظر آ رہا ہے مگر یہ خالی تو نہیں ہے اس میں ہوا ہے جو ہائیڈروجن اور آکسیجن کا مغلوبہ ہے۔ اور اس کے اندر وہ سارے ایٹم لطیف صورت میں موجود ہیں۔ مختلف اشیاء میں مختلف Formations میں ایٹم موجود ہیں۔ چنانچہ ماہیت کے اعتبار سے اس گھڑی اور عینک میں کوئی فرق نہیں، یہ انہی ایٹموں کی مختلف تراکیب ہیں۔ لیکن جب ایک خاص فارمولے کے تحت Conglomeration of Atoms نے یہ شکل اختیار کی تو یہ ایک دوسرے کا غیر ہیں۔ لہذا جہاں کسی وجود یا کسی ہستی کا تعین آگیا وہ ذات باری تعالیٰ کا غیر ہے، اس کا جزو نہیں ہے۔ لیکن ماہیت وجود مشترک ہے۔ کل کائنات کے اندر وجود ایک ہی ہے اور وہ ذات باری تعالٰی کا ہے۔ اس کو کہا گیا ہے وحدت الوجود، یعنی وجود کا ایک ہونا۔ [سورة الحدید کی شرح، ص:54]

شیخ ابو عمر عبد العزيز النورستاني حفظہ اللہ

محترم حافظ زبیر صاحب کے جواب میں فرماتے ہیں:

ڈاکٹر صاحب جب متکلمین کے اس غیر شرعی متفقہ فیصلہ جو (لاعین ولاغیر ہے) کو بسو چشم تسلیم کرتے ہیں۔ اور اسکا منطقی نتیجہ نکالتے ہیں کہ (یہ کائنات نہ اللہ کا عین ہے اور نہ اللہ کا غیر ہے۔ یعنی (من وجه عين ومن وجه آخر غير) ایک اعتبار سے یہ کائنات عین ہیں اور ایک اعتبار سے غیر ہیں۔ ماہیت وجود میں اتحاد ہے، لیکن اور جہاں بھی تعین ہوگا اور مختلف چیزوں کا وجود مان لیا جائے گا تو وہ (کائنات) اللہ کا غیر ہے۔ [ام المسبحات، ص:94]

اس کا مطلب ڈاکٹر صاحب کے نزدیک یہ ہوا کہ ماہیت وجود میں اللہ اور کائنات میں اتحاد ہے۔ یعنی اللہ اور کائنات ایک ہیں اور وجود خارجی میں الگ الگ ہیں۔ اب یہ نکتہ جو ڈاکٹر صاحب پیش کرتے ہیں، قرآن کی کسی آیت کی بنا پر؟ یا کس حدیث کی بنا پر؟ نیز ڈاکٹر صاحب یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ:

کائنات میں جو کچھ موجود ہے وہ محض وہم یا خیال ہے یہ آئینوں میں نظر آنے والے عکس ہیں یا سائے ہیں حقیقت میں تو صرف ذات باری تعالی کا وجود ہے۔ اور کوئی شے حقیقتا موجود نہیں ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔ [ام المسبحات، ص:87]،[نظريه وحدت الوجود اور ڈاکٹر اسرار احمد، ص:9]

اس واضح بیان اور اقرار کے ساتھ کائنات کا وجود ماننا تناقض کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ کیونکہ جب یوں کہہ کر کہ: کائنات میں جو کچھ موجود ہے وہ محض خیال ہے۔ ،،ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے،، کائنات کے وجود کی نفی کی پھر لیکن کیساتھ اثبات کر رہے ہیں یہ تناقض نہیں تو اور کیا ہے کا ئنات میں خود ڈاکٹر صاحب بھی تھے گویا کہ ڈاکٹر صاحب فرما رہے ہیں کہ میرا وجود محض خیال و وہم ہے۔ میں ہر چند کہوں کہ ہوں نہیں ہوں اس واضح امر میں ڈاکٹر صاحب کے موقف سمجھنے نہ سمجھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جو عقیدہ ڈاکٹر صاحب نے پیش کیا ہے بعینہ تلمسانی کا عقیدہ ہے۔ خلیل ہر اس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[ذهب التلمساني إلى أن الوجود كله شيء واحد في نفسه لا تكثر ولا تعدّد فيه أصلًا. وهذه الكثرة التي نراها بأعيننا أو نتخيلها في ‌نفوسنا ‌لا ‌حقيقة ‌لها، بل هي من أغلاط الحس الذي قد يرى الشيء الواحد كثيرًا، والوهم الذي قد يتخيل الصورة الواحدة صورًا متعددة وذلك الغلط في الحس والوهم من طبيعة الإنسان]

تلمسانی اس طرف گیا ہے کہ پورا وجود اپنی حقیقت میں ایک ہی چیز ہے، اس میں سرے سے نہ کوئی کثرت ہے اور نہ کوئی تعدد۔ اور یہ کثرت جو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں یا اپنے نفوس میں خیال کرتے ہیں، اس کی کوئی حقیقی حیثیت نہیں۔ بلکہ یہ حواس کی غلطیوں میں سے ہے، کیونکہ کبھی حس ایک ہی چیز کو بہت سی چیزیں دکھا دیتی ہے، اور وہم ایک ہی صورت کو متعدد صورتوں کے طور پر تصور کر لیتا ہے۔ اور حس و وہم کی یہ غلطی انسان کی فطرت کا حصہ ہے۔  [شرح النونية للخليل الهراس:63،62/1]

اس کھلی حقیقت کے باوجود پھر ابن عربی اور ڈاکٹر صاحب کے نظریہ میں جوہری فرق بیان کرنا، یا دونوں کے نظریہ وحدت الوجود کے لئے سات یا ستر نکتہ ہائے فرق بیان کرنا، صرف ضیاع وقت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ کیوں کہ وحدت الوجود کے قائلین خواہ وہ اللہ کی ذات سے تنزلات ثابت کریں، یا اللہ تعالی کے جمیع صفات میں سے صرف صفت کلام سے تنزل ثابت کریں، جتنی بھی ان کی عبارات مختلف ہوں اور جتنے بھی ان کے ظاہر کلام الگ الگ ہوں انکا مقصد ان کے کلام کا حاصل ایک ہی ہے وہ یہ کہ حقیقت میں تو صرف باری تعالی کا وجود ہے۔ اور کوئی شے حقیقتا موجود نہیں ہے، ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔

وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم