(آیت 46){ بَيْضَآءَلَذَّةٍلِّلشّٰرِبِيْنَ: ”بَيْضَآءَ“”أَبْيَضُ“} کی مؤنث ہے، سفید۔ کھانے پینے کی چیزوں میں سب سے پہلی مرغوب یا نامرغوب چیز ان کا رنگ ہے، اس کے بعد ان کی لذت ہے۔ دنیا کی شرابیں عموماً بد رنگ ہوتی ہیں اور اتنی بد ذائقہ اور بدبودار ہوتی ہیں کہ پینے والے کا منہ بگڑ بگڑ جاتا ہے، جبکہ جنت کی شراب کا رنگ نہایت سفید ہو گا اور پینے والوں کے لیے بہت لذیذ ہو گی، جس میں سے کستوری کی خوشبو آئے گی، جیسا کہ فرمایا: «خِتٰمُهٗمِسْكٌ» [المطففین: ۲۶]”اس کی مہر کستوری ہو گی۔“ {”لِلشّٰرِبِيْنَ“} (جمع) لانے میں اشارہ ہے کہ شراب کا دور مجلس احباب میں چلے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
46۔ 1 دنیا میں شراب عام طور پر بدرنگ ہوتی ہے، جنت میں وہ جیسے لذیذ ہوگی خوش رنگ بھی ہوگی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
46۔ جو نہایت شفاف اور پینے والوں کے لئے لذیذ ہو گا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔