(آیت 45) ➊ {يُطَافُعَلَيْهِمْبِكَاْسٍ: ”كَأْسٌ“} شیشے کا پیالہ جو شراب سے بھرا ہوا ہو، خالی پیالے کو {”كَأْسٌ“} نہیں کہتے۔ مجلس احباب میں سرور کے لیے شراب معروف تھی، سو فرمایا، جنت میں شراب کے جام پھرانے والے۔ غلمان ہوں گے، انھی جنتیوں کے لڑکے جو (چھوٹی عمر میں فوت ہو گئے اور)ہمیشہ اسی طرح رہیں گے، جیسا کہ فرمایا: «وَيَطُوْفُعَلَيْهِمْغِلْمَانٌلَّهُمْكَاَنَّهُمْلُؤْلُؤٌمَّكْنُوْنٌ» [الطور: ۲۴]”اور ان پر چکر لگاتے رہیں گے انھی کے لڑکے، جیسے وہ چھپائے ہوئے موتی ہوں۔“ اور فرمایا: «يَطُوْفُعَلَيْهِمْوِلْدَانٌمُّخَلَّدُوْنَ (17) بِاَكْوَابٍوَّاَبَارِيْقَوَكَاْسٍمِّنْمَّعِيْنٍ»[الواقعۃ: ۱۷، ۱۸]”ان پر چکر لگا رہے ہوں گے وہ لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رکھے جائیں گے۔ ایسے کوزے اور ٹونٹی والی صراحیاںاور لبالب بھرے ہوئے پیالے لے کر جو بہتی ہوئی شراب کے ہوں گے۔“ ➋ { مِنْمَّعِيْنٍ: ”مَعِيْنٍ“”مَعَنَيَمْعَنُمُعُوْنًا“} (ف، ک){ ”اَلْمَاءُ“”جَرٰي“} پانی کا بہنا۔ {”مَعِيْنٍ“ } ({فَعِيْلٌ}) بہنے والا، جیسے {”شَرُفَ“} سے {”شَرِيْفٌ“} ہے۔ یعنی وہ شراب اس قسم کی نہیں ہو گی جو دنیا میں پھلوں اور غلوں کو سڑا کر کشید کی جاتی ہے، بلکہ قدرتی چشموں سے نکلے گی اور نہروں کی صورت میں بہتی ہو گی، جن میں سے جام بھر بھر کر انھیں پلائے جائیں گے۔ جنت کی چار قسم کی نہروں میں سے ایک قسم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَاَنْهٰرٌمِّنْخَمْرٍلَّذَّةٍلِّلشّٰرِبِيْنَ» [محمد: ۱۵]”اور کئی نہریں شراب کی ہیں، جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
45۔ 1 کَاْسً شراب کے بھرے ہوئے جام کو اور قدح خالی جام کو کہتے ہیں مَعِیْن کے معنی ہیں، جاری چشمہ۔ مطلب یہ ہے کہ جاری چشمے کی طرح، جنت میں شراب ہر وقت میسر ہوگی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
45۔ ان کے لئے شراب خالص کے جام [24] کا دور چلے گا
[24] ﴿كأس﴾ کا لغوی مفہوم:۔
﴿كَأسٌ﴾ کا لفظ صرف شراب سے بھرے ہوئے پیالہ یا گلاس کے لئے مستعمل ہے، جسے ہماری زبان میں جام یا ساغر کہتے ہیں۔ دودھ یا پانی سے بھرے ہوئے پیالہ کو ﴿كَأسٌ﴾ نہیں کہہ سکتے اور اگر یہ پیالہ خالی ہو اور شیشے کا ہو تو اسے ﴿قَدْحٌ﴾ کہتے ہیں، چمڑے کا ہو تو﴿عَلْبةٌ﴾ اور مٹی کا ہو تو ﴿مُوْكِنْ﴾ اور ﴿مَعِيْنٌ﴾ در اصل صاف شفاف نتھرے، خوش ذائقہ، میٹھے اور ٹھنڈے پانی کو کہتے ہیں۔ مگر جب معین کے ساتھ ﴿كأس﴾ کا لفظ آئے تو معین سے مراد یہی صفات رکھنے والی شراب ہو گی۔ کیونکہ ﴿كأس﴾ کا لفظ شراب کے بھرے ہوئے پیالہ کے لئے ہی مخصوص ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿یُطَافُعَلَیْهِمْبِكَاْسٍمِّنْمَّعِیْنٍ﴾ چاق چوبند اور مستعد لڑکے ان کی خدمت میں خوبصورت جاموں میں مشک کے ساتھ مہرشدہ لذیذ مشروبات لیے آ جا رہے ہوں گے، یہ جام، شراب کے جام ہوں گے۔ یہ شراب ہر لحاظ سے دنیا کی شراب سے مختلف ہوگی۔ اس کا رنگ ﴿بَیْضَآءَ ﴾”سفید“ اور بہترین رنگ ہوگا اس کے ذائقے میں ﴿لَذَّةٍلِّ٘لشّٰرِبِیْنَ﴾”پینے والوں کے لیے لذت ہو گی۔“ اہل جنت پیتے وقت اور پینے کے بعد لذت محسوس کریں گے۔ یہ شراب ہر قسم کے برے اثرات سے پاک ہوگی۔ اس سے ان کی عقل خراب ہو گی نہ مال خراب ہو گا اور اس سے سر چکرائے گا نہ طبیعت مکدر ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يُطافُ عليهم بكأسٍ من مَعين}؛ أي: يتردَّدُ الولدان المستعدِّون لخدمتهم عليهم بالأشربةِ اللذَّيذةِ بالكاسات الجميلةِ المنظر المُتْرَعَةِ من الرحيق المختوم بالمسك، وهي كاساتُ الخمر، وتلك الخمرُ تخالِفُ خَمْرَ الدُّنيا من كل وجه؛ فإنَّها في لونها {بيضاء} من أحسن الألوان، وفي طعمها {لَذَّةٍ للشارِبينَ}: يلتذُّ شاربُها بها وقتَ شُربها وبعدَه، وأنَّها سالمةٌ من غول العقل وذهابِهِ ونزفِهِ ونزفِ مال صاحبها، وليس فيها صداعٌ ولا كدرٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔