ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 45

یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِکَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِیۡنٍۭ ﴿ۙ۴۵﴾
ان پر صاف بہتی ہوئی شراب کا جام پھرایا جائے گا۔ En
شراب لطیف کے جام کا ان میں دور چل رہا ہوگا
En
جاری شراب کے جام کا ان پر دور چل رہا ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 45) ➊ {يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَاْسٍ: كَأْسٌ} شیشے کا پیالہ جو شراب سے بھرا ہوا ہو، خالی پیالے کو {كَأْسٌ} نہیں کہتے۔ مجلس احباب میں سرور کے لیے شراب معروف تھی، سو فرمایا، جنت میں شراب کے جام پھرانے والے۔ غلمان ہوں گے، انھی جنتیوں کے لڑکے جو (چھوٹی عمر میں فوت ہو گئے اور)ہمیشہ اسی طرح رہیں گے، جیسا کہ فرمایا: «وَ يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ» ‏‏‏‏ [الطور: ۲۴] اور ان پر چکر لگاتے رہیں گے انھی کے لڑکے، جیسے وہ چھپائے ہوئے موتی ہوں۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ (17) بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِيْقَ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍ» [الواقعۃ: ۱۷، ۱۸] ان پر چکر لگا رہے ہوں گے وہ لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رکھے جائیں گے۔ ایسے کوزے اور ٹونٹی والی صراحیاںاور لبالب بھرے ہوئے پیالے لے کر جو بہتی ہوئی شراب کے ہوں گے۔
➋ { مِنْ مَّعِيْنٍ: مَعِيْنٍ مَعَنَ يَمْعَنُ مُعُوْنًا} (ف، ک){ اَلْمَاءُ جَرٰي} پانی کا بہنا۔ { مَعِيْنٍ } ({فَعِيْلٌ}) بہنے والا، جیسے {شَرُفَ} سے {شَرِيْفٌ} ہے۔ یعنی وہ شراب اس قسم کی نہیں ہو گی جو دنیا میں پھلوں اور غلوں کو سڑا کر کشید کی جاتی ہے، بلکہ قدرتی چشموں سے نکلے گی اور نہروں کی صورت میں بہتی ہو گی، جن میں سے جام بھر بھر کر انھیں پلائے جائیں گے۔ جنت کی چار قسم کی نہروں میں سے ایک قسم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ» ‏‏‏‏ [محمد: ۱۵] اور کئی نہریں شراب کی ہیں، جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

45۔ 1 کَاْسً شراب کے بھرے ہوئے جام کو اور قدح خالی جام کو کہتے ہیں مَعِیْن کے معنی ہیں، جاری چشمہ۔ مطلب یہ ہے کہ جاری چشمے کی طرح، جنت میں شراب ہر وقت میسر ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

45۔ ان کے لئے شراب خالص کے جام [24] کا دور چلے گا
[24] ﴿كأس﴾ کا لغوی مفہوم:۔
﴿كَأسٌ کا لفظ صرف شراب سے بھرے ہوئے پیالہ یا گلاس کے لئے مستعمل ہے، جسے ہماری زبان میں جام یا ساغر کہتے ہیں۔ دودھ یا پانی سے بھرے ہوئے پیالہ کو ﴿كَأسٌ نہیں کہہ سکتے اور اگر یہ پیالہ خالی ہو اور شیشے کا ہو تو اسے ﴿قَدْحٌ کہتے ہیں، چمڑے کا ہو تو﴿عَلْبةٌ اور مٹی کا ہو تو ﴿مُوْكِنْ اور ﴿مَعِيْنٌ در اصل صاف شفاف نتھرے، خوش ذائقہ، میٹھے اور ٹھنڈے پانی کو کہتے ہیں۔ مگر جب معین کے ساتھ ﴿كأس﴾ کا لفظ آئے تو معین سے مراد یہی صفات رکھنے والی شراب ہو گی۔ کیونکہ ﴿كأس﴾ کا لفظ شراب کے بھرے ہوئے پیالہ کے لئے ہی مخصوص ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔