ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 47

لَا فِیۡہَا غَوۡلٌ وَّ لَا ہُمۡ عَنۡہَا یُنۡزَفُوۡنَ ﴿۴۷﴾
نہ اس میں کوئی درد سر ہوگا اور نہ وہ اس سے مدہوش کیے جائیں گے۔ En
نہ اس سے دردِ سر ہو اور نہ وہ اس سے متوالے ہوں گے
En
نہ اس سے درد سر ہو اور نہ اس کے پینے سے بہکیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 47) {لَا فِيْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُوْنَ: غَوْلٌ } کا معنی خرابی، سر درد، پیٹ کا درد اور ہلاکت ہے۔ { يُنْزَفُوْنَ نَزَفَ} (مجرد) اور {أَنْزَفَ} (مزیدفیہ) معروف و مجہول کا معنی عقل زائل ہونا ہے۔ دنیا کی شراب میں پائی جانے والی خرابیوں میں سے اس کے بدرنگ، بد ذائقہ اور بدبو دار ہونے کی نفی تو { بَيْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ } سے ہو گئی تھی، اب اس میں پائی جانے والی مزید خرابیوں کی بھی نفی فرما دی۔ دنیا کی شراب پینے کے بعد الٹیاں آتی ہیں، خمار کی صورت میں سر، پیٹ اور سارے جسم میں درد ہوتا ہے جو بعض اوقات ہلاکت تک پہنچا دیتا ہے اور عقل جو انسان کا شرف ہے، جاتی رہتی ہے۔ جنت کی شراب ایسی ہر خرابی سے پاک ہو گی، نہ اس میں سر درد یا کوئی اور خرابی ہو گی اور نہ ہی اس کی وجہ سے ان کی عقل ماری جائے گی۔ البتہ شراب کی وہ خوبیاں جن کی وجہ سے لوگ اتنی خرابیوں کے باوجود اسے پیتے ہیں، وہ سب بدرجہ اَتم موجود ہوں گی، مثلاً کھانے کی رغبت پیدا کرنا، سرور لانا اور قوت و شہوت کو ابھارنا وغیرہ۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

47۔ جس سے نہ انہیں سر درد [25] ہو گا اور نہ وہ بد مست ہوں گے
[25] شراب کے تین نقصان اور ایک فائدہ:۔
دنیا میں جو شراب تیار کی جاتی ہے۔ وہ کچھ مخصوص پھلوں یا غلوں کو گلا سڑا کر اور ان میں خمیر اٹھا کر بنائی جاتی ہے۔ اور ایسی شراب میں تین نقص ہوتے ہیں اور ایک فائدہ ہوتا ہے۔ نقص یہ ہیں کہ وہ پینے کے بعد کڑوی محسوس ہوتی ہے، دوسرا یہ کہ وہ سر کو چڑھ جاتا ہے جس سے بعض دفعہ سر چکرانے لگتا ہے اور تیسرا یہ کہ اسی وجہ سے انسان بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے۔ اور نشہ زیادہ چڑھ جائے تو کئی طرح کے غلط کام بھی کر بیٹھتا ہے۔ شراب کے ساتھ اول فول بکنا اور فحاشی کے کام عموماً لازم و ملزوم بن جاتے ہیں اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ پینے والے کو وقتی طور پر کچھ سرور حاصل ہوتا ہے۔ جنت میں اہل جنت کو جو شراب دی جائے گی وہ مندرجہ بالا تمام نقائص سے تو پاک ہو گی۔ مگر اپنی لطافت، پاکیزگی اور لذت کے لحاظ سے دنیا کی شرابوں سے بہت افضل ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔