ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 46

بَیۡضَآءَ لَذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیۡنَ ﴿ۚۖ۴۶﴾
جو سفید ہو گی، پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی۔ En
جو رنگ کی سفید اور پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہوگی
En
جو صاف شفاف اور پینے میں لذیذ ہوگی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 46){ بَيْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ: بَيْضَآءَ أَبْيَضُ} کی مؤنث ہے، سفید۔ کھانے پینے کی چیزوں میں سب سے پہلی مرغوب یا نامرغوب چیز ان کا رنگ ہے، اس کے بعد ان کی لذت ہے۔ دنیا کی شرابیں عموماً بد رنگ ہوتی ہیں اور اتنی بد ذائقہ اور بدبودار ہوتی ہیں کہ پینے والے کا منہ بگڑ بگڑ جاتا ہے، جبکہ جنت کی شراب کا رنگ نہایت سفید ہو گا اور پینے والوں کے لیے بہت لذیذ ہو گی، جس میں سے کستوری کی خوشبو آئے گی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏خِتٰمُهٗ مِسْكٌ» ‏‏‏‏ [المطففین: ۲۶] اس کی مہر کستوری ہو گی۔ { لِلشّٰرِبِيْنَ } (جمع) لانے میں اشارہ ہے کہ شراب کا دور مجلس احباب میں چلے گا۔