(آیت 42) ➊ {”فَوَاكِهُ“”فَاكِهَةٌ“} کی جمع ہے، پھل جس سے لذت حاصل ہو۔ یعنی ان کے کھانے کی تمام چیزیں، حتیٰ کہ گوشت وغیرہ بھی، لذت کے لیے ہوں گی، نہ کہ پیٹ بھرنے کے لیے، کیونکہ جنت میں بھوک پیاس کے ستانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۱۸، ۱۱۹)۔ ➋ {وَهُمْمُّكْرَمُوْنَ: ”فَوَاكِهُ“} جسمانی لذتیں ہیں جو روحانی لذتوں کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتیں، اس لیے فرمایا کہ وہ اس میں عزت بخشے گئے ہیں۔ {”مُكْرَمُوْنَ“} اسم مفعول اس لیے استعمال فرمایا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے، فرشتوں کی طرف سے اور جنت کے دوسرے تمام ساتھیوں اور خدمت گاروں غرض ہر طرف سے عزت ملے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
42۔ یعنی لذیذ [22] میوے اور وہ وہاں معزز ہوں گے
[22] فواکہ کیسے پھل ہیں؟
یہاں فواکہ کا لفظ آیا ہے اور فواکہ ایسے پھلوں کو کہتے ہیں جن سے لذت و سرور حاصل ہو۔ (مقاییس اللغۃ) اور اس لفظ کا اطلاق عموماً خشک پھلوں پر ہوتا ہے۔ اس سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت کو جو رزق دیا جائے گا وہ بطور غذا نہیں بلکہ لذت کے حصول کے لئے دیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔