(آیت 41){ اُولٰٓىِٕكَلَهُمْرِزْقٌمَّعْلُوْمٌ:} یعنی ایسی روزی جو ان کے لیے مقرر ہو چکی ہے، جس کے ملنے کا انھیں یقین ہے کہ ہمیشہ ملتی رہے گی، کبھی روکی نہیں جائے گی۔ اگلی آیت میں اس کی کچھ تفصیل بیان فرمائی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
41۔ ان کے لئے ایسا رزق ہو گا جو انہیں معلوم [21] ہے۔
[21] جنت کے رزق کی خصوصیات:۔
یعنی وہ رزق جو کتاب و سنت میں جا بجا مذکور ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ ہر قسم کے اور آپس میں ملتے جلتے پھلوں پر مشتمل ہو گا۔ جبکہ ان کا مزا بالکل ایک دوسرے سے جداگانہ ہو گا۔ نیز انہیں ہر وہ چیز مہیا کی جائے گی جس کی وہ خواہش کریں گے۔ اس رزق کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ باعزت طور پر دیا جائے گا۔ ایک یہ ہے کہ وہ کبھی ختم نہ ہو گا نہ اس کا سلسلہ منقطع ہو گا۔ ایک یہ کہ جو زرق انہیں دیا جائے گا اسے اس دنیا میں پوری طرح سمجھا بھی نہیں جا سکتا کیونکہ ویسی چیزیں نہ کسی نے دیکھی ہیں، نہ سنی ہیں اور نہ کسی کے حاشیہ خیال میں آسکتی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ رزق صرف لذت حاصل کرنے کے لئے کھایا جائے گا۔ بھوک لگنے کی بنا پر نہیں کھایا جائے گا۔ یعنی اس لئے نہیں کہ محنت مشقت کی وجہ سے بدن کے کچھ اجزاء تحلیل ہو چکے ہیں تو ان کی تلافی کے لئے یا اپنی زندگی کی بقا کے لئے وہ رزق کھایا جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اُولٰٓىِٕكَلَهُمْرِزْقٌمَّعْلُوْمٌ﴾”یہی لوگ ہیں جن کے لیے رزقِ معلوم ہے۔“ یعنی یہ غیر مجہول رزق ہو گا یہ رزق بہت عظیم اور جلیل القدر ہو گا، جس کے معاملے سے جاہل رہا جا سکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچا جا سکتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَوَاكِهُ ﴾ یعنی تمام اقسام کے پھل ہوں گے، جن سے نفس لذت حاصل کریں گے، جو اپنے رنگ اور ذائقے میں نہایت مزے دار ہوں گے۔ ﴿وَهُمْمُّكْرَمُوْنَ﴾ یعنی ان کی اہانت کی جائے گی نہ ان سے حقارت سے پیش آیا جائے گا بلکہ ان کی عزت، تعظیم اور توقیر کی جائے گی۔ وہ ایک دوسرے کی تکریم کریں گے، مکرم فرشتے ان کی تکریم کریں گے، وہ جنت کے ہر دروازے سے داخل ہوں گے اور بہترین ثواب کے ذریعے سے ان کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ سب سے معزز اور باوقار ہستی انھیں اکرام بخشے گی اور انھیں انواع و اقسام کی تکریم سے نوازے گی جس میں قلب و روح اور بدن کے لیے نعمت ہوگی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أولئك لهم رزقٌ معلومٌ}؛ أي: غير مجهول، وإنَّما هو رزقٌ عظيمٌ جليلٌ لا يُجهلُ أمرُهُ ولا يُبْلَغُ كُنْهُهُ، فسَّره بقوله: {فواكِهُ}: من جميع أنواع الفواكه التي تَتَفَكَّه بها النفس للذَّتِها في لونها وطعمها. {وهم مُكْرَمونَ}: لا مهانون محتَقَرون، بل معظَّمون مبجَّلون موقَّرون، قد أكرم بعضُهم بعضاً، وأكرمَتْهُمُ الملائكةُ الكرامُ، وصاروا يدخُلون عليهم من كلِّ باب، ويهنِّئونهم ببلوغ أهنأ الثواب، وأكرمَهَم أكرمُ الأكرمين وجادَ عليهم بأنواع الكرامات من نعيم القلوب والأرواح والأبدان.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔