(آیت 43){ فِيْجَنّٰتِالنَّعِيْمِ:} کھانے پینے اور اکرام کے ساتھ رہنے کی عمدہ جگہ بھی ضروری ہے، اس لیے فرمایا، وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے، جہاں نعمت کے سوا کسی چیز کا تصور ہی نہیں۔ وہاں نہ فقر ہے نہ بیماری، نہ بغض ہے نہ عداوت، نہ غم ہے نہ خوف اور نہ ہی وہاں موت ہے۔ غرض نعمت ہی نعمت ہے، نہ کوئی زحمت ہے نہ کسی نعمت کا زوال۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
43۔ نعمتوں والے باغات میں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فِیْجَنّٰتِالنَّعِیْمِ﴾”نعمت کے باغوں میں“ یعنی وہ جنتیں جو نعمت اور سرور سے متصف ہیں کیونکہ ان جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں جمع ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے حاشیۂ خیال میں ان کا گزر ہوا ہے۔ وہ خلل انداز ہونے والے ہر قسم کے تکدر سے سلامت ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{في جنات النعيم}؛ أي: الجنات التي النعيم وَصْفُها والسرورُ نعمتُها، وذلك لما جَمَعَتْهُ ممَّا لا عينٌ رأتْ، ولا أذنٌ سمعتْ، ولا خَطَرَ على قلب بشر، وسلمتْ من كلِّ مخلٍّ بنعيمها من جميع المكدِّرات والمنغِّصات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔