(آیت 42) ➊ {”فَوَاكِهُ“”فَاكِهَةٌ“} کی جمع ہے، پھل جس سے لذت حاصل ہو۔ یعنی ان کے کھانے کی تمام چیزیں، حتیٰ کہ گوشت وغیرہ بھی، لذت کے لیے ہوں گی، نہ کہ پیٹ بھرنے کے لیے، کیونکہ جنت میں بھوک پیاس کے ستانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۱۸، ۱۱۹)۔ ➋ {وَهُمْمُّكْرَمُوْنَ: ”فَوَاكِهُ“} جسمانی لذتیں ہیں جو روحانی لذتوں کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتیں، اس لیے فرمایا کہ وہ اس میں عزت بخشے گئے ہیں۔ {”مُكْرَمُوْنَ“} اسم مفعول اس لیے استعمال فرمایا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے، فرشتوں کی طرف سے اور جنت کے دوسرے تمام ساتھیوں اور خدمت گاروں غرض ہر طرف سے عزت ملے گی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔